سعودی، یو اے ای رہنماؤں کا بائیڈن سے بات کرنے سے گریز

بائیڈن انتظامیہ روسی تیل کی درآمد پر باضابطہ پابندی عائد کرنے کے بعد تیل کی سپلائی بڑھانے کی کوشش کر رہی ہے، جس سے تیل کی قیمتیں 130 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہیں، جو 14 سال کی بلند ترین سطح ہے۔

امریکی صدر جو بائیڈن 8 مارچ 2022 کو فورٹ ورتھ، ٹیکساس میں ٹیرنٹ کاؤنٹی کے ریسورس کنکشن میں ریمارکس دے رہے ہیں۔ (اے ایف پی)

سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے قائم مقام لیڈروں نے حالیہ ہفتوں میں امریکی صدر جو بائیڈن کے ساتھ بات کرنے سے گریز کیا ہے کیونکہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے یوکرین پر روس کے حملے کی وجہ سے تیل کی قیمتوں میں اضافے کو روکنے کی کوشش کی ہے۔

وال سٹریٹ جرنل نے رپورٹ کیا کہ مشرق وسطیٰ اور امریکی حکام کے مطابق سعودی ولی عہد محمد بن سلمان اور متحدہ عرب امارات کے شیخ محمد بن زید النہیان دونوں بات چیت کے لیے بائیڈن کے لیے دستیاب نہیں ہیں۔ جبکہ امریکہ کہ طرف سے اس بات چیت کی درخواست بھی کی گئی۔

ایک امریکی اہلکار نے سعودی شہزادے اور بائیڈن کے درمیان ممکنہ بات چیت کے بارے میں کہا: ’فون کال کی کچھ توقع تھی، لیکن ایسا نہیں ہوا۔‘

گزشتہ ہفتے، اوپیک پلس، جس میں روس بھی شامل ہے، نے مغربی درخواستوں کے باوجود تیل کی پیداوار بڑھانے سے انکار کر دیا۔

اس ہفتے کے شروع میں، وائٹ ہاؤس کی ترجمان جین ساکی نے کہا کہ بائیڈن اور شہزادہ محمد بن سلمان کے درمیان جلد بات کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے، اور صدر کے ریاض جانے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔

بائیڈن انتظامیہ روسی تیل کی درآمد پر باضابطہ پابندی عائد کرنے کے بعد تیل کی سپلائی بڑھانے کی کوشش کر رہی ہے، جس سے تیل کی قیمتیں 130 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہیں، جو 14 سال کی بلند ترین سطح ہے۔


یوکرین پر حملہ: روس کی مغربی ممالک کو پابندیوں کے جلد جواب کی دھمکی

روس نے مغربی طاقتوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ یوکرین پر حملے کے بعد خود پر لگائی جانے والی پابندیوں کے وسیع جواب پر کام کر رہا ہے جو جلد ہوگا اور مغرب کے حساس ترین علاقوں میں محسوس کیا جائے گا۔

روسی خبر رساں ایجنسی آر آئی اے نے وزارت خارجہ کے ڈائریکٹر برائے معاشی تعاون ڈمیٹری بریچیوسکی کے ایک بیان کا حوالہ دیا جس میں ان کا کہنا تھا: ’روس کا جواب تیز اور سوچا سمجھا ہوگا اور ان کے لیے حساس ہوگا جن کو دیا جائے گا۔‘

روس کی معیشت کو 1991 میں سویت یونین کے ٹوٹنے کے بعد سے اب تک کے سنگین ترین معاشی بحران کا سامنا ہے۔ یوکرین پر روسی حملے کے نتیجے میں مغربی ممالک نے ملک کے کئی مالیاتی اور کارپوریٹ نظام پر سخت پابندیاں نافذ کی گئی ہیں۔


یوکرین میں تباہی اور نا امیدی ’ناممکن‘ حد تک ناقابل بیان ہے: خاتون اول

یوکرین کی خاتون اول اولینا زیلنسکا نے ایک جذباتی خط میں روس کے حملے کے نتیجے میں گذشتہ ہفتے کے دوران ملک میں ہونے والی تباہی اور ناامیدی کے پیمانے کو ’ناممکن‘ حد تک ناقابل بیان قرار دیا ہے۔

دی انڈپینڈنٹ کے مطابق منگل کو انسٹا گرام پر جاری اپنے خط میں اومینا نے لکھا: ’ایک ہفتہ قبل جو کچھ ہوا، اس پر یقین کرنا ناممکن تھا۔ میرا ملک پرامن تھا اور یہاں کے شہر، قصبے اور دیہات زندگی سے بھرپور تھے، لیکن ہم 24 فروری کو (روس کی جانب سے) کیے گئے اعلان جنگ کے ساتھ بیدار ہوئے۔ ٹینک یوکرین کی سرحد پار کرچکے تھے اور طیارے ہماری فضاؤں میں بمباری کر رہے تھے جب کہ ہمارے شہر میزائل لانچرز کے محاصرے میں تھے۔‘

اولینا کے مطابق اس جنگ کا سب سے برا اثر بچوں پر پڑ رہا ہے۔

انہوں  نے لکھا: ’سب سے بری چیز (روسی جنگ سے) متاثرہ بچوں کے بارے میں پڑھنا ہے۔ تقریباً آٹھ سالہ ایلس اوختیرکا کی ایک سڑک پر ماری گئی، جبکہ ان کے دادا نے اپنے جسم سے ڈھال بنا کر ان کو بچانے کی کوشش کی یا کیئف سے تعلق رکھنے والی پولینہ، جو گولہ باری میں اپنے والدین کے ساتھ  ماری گئی۔ تقریباً 14 سالہ آرسینی کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا، جو دارالحکومت کے ایک پُرامن مضافاتی علاقے میں بم کا ایک ٹکڑا سر پر لگنے سے زخمی ہوگئے، فائرنگ کی وجہ سے ایمبولینس ان تک نہیں پہنچ سکی اور وہ ہلاک ہو گئے۔‘

خاتون اول نے زور دیا کہ دنیا سمجھے کہ یوکرین میں کیا ہو رہا ہے جو روسی صدر ولادی میر پوتن کی جانب سے اپنے لوگوں کو بیان کیے گئے ’خصوصی آپریشن‘ سے کہیں زیادہ ہے۔

انہوں نے لکھا: ’کریملن کے حمایت یافتہ پروپیگنڈا آؤٹ لیٹس کی یقین دہانیوں کے باوجود، جو اسے ایک خصوصی آپریشن کہتے ہیں، یہ درحقیقت یوکرینی شہریوں کا اجتماعی قتل ہے۔‘ 

اولینا زیلنسکا کے مطابق اس جنگ سے یوکرین کے تقریباً 17 لاکھ افراد ملک سے فرار ہونے پر مجبور ہوگئے، جن میں کینسر کے کم عمر مریض بھی شامل ہیں۔


 پولینڈ کی یوکرین کے لیے امریکہ کو لڑاکا طیارے دینے کی پیشکش مسترد 

پولینڈ نے یوکرین کی فضائیہ کی مدد کے لیے جرمنی میں امریکی اڈے پر اپنے روسی ساختہ مگ 29 لڑاکا طیاروں کو بھیجنے کی پیشکش کی ہے، جسے امریکہ نے ’نیٹو اتحاد کے لیے سنگین خدشات‘ کے پیش نظر مسترد کر دیا ہے۔ 

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق امریکہ یوکرین کو ہتھیاروں کی فراہمی کے عمل کو تیز کرنے کا راستہ تلاش کرنے کی کوشش کر رہا ہے لیکن پینٹاگون نے کہا کہ نیٹو کی سرزمین سے ان کے طیاروں کے جنگی علاقے میں پرواز کا امکان ’پورے نیٹو اتحاد کے لیے سنگین خدشات‘ پیدا کر سکتا ہے۔

نیٹو کہہ چکا ہے کہ وہ روس کے ساتھ براہ راست تصادم نہیں چاہتا، جو ایک جوہری طاقت ہے۔ جبکہ صدر جو بائیڈن بھی یوکرین میں امریکی فوجیوں کو لڑائی میں حصہ لینے کے لیے بھیجنے سے انکار کر چکے ہیں جس پر پینٹاگون نے کہا ہے کہ ’اس کا اطلاق زمینی یا فضا میں فلائنگ مشنز پر موجود فوجیوں پر بھی ہوگا۔‘

روسی حملے میں یوکرنی فضائی دفاع کو کافی نقصان پہنچا ہے اور یوکرینی صدر وولودی میر زیلنسکی اپنے ملک کے دفاع کے لیے بار بار نیٹو سے مزید لڑاکا طیارے مانگ چکے ہیں، تاہم نیٹو یہ مطالبہ مسترد کر چکا ہے۔

امریکہ یوکرین کی مدد کے لیے یورپی اتحادیوں سے بات چیت کر رہا، جن میں روس کے ہمسایہ ملک پولینڈ بھی شامل ہے۔

پولینڈ کی وزارت خارجہ نے منگل کو اعلان کیا تھا کہ وہ اپنے روسی ساختہ مگ 29 جیٹ طیاروں کو جرمنی کے رامسٹین ایئر بیس پر تعینات کرنے اور انہیں امریکہ کے اختیار میں دینے کے لیے تیار ہے۔

وارسا نے نیٹو اتحاد کے ان دوسرے ارکان پر بھی ایسا ہی کرنے کے لیے زور دیا جن کے پاس اس طرح کے دیگر طیارے موجود ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

تاہم پینٹاگون کے ترجمان جان کربی نے منگل کو پولینڈ کی پیشکش مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ’ہمارے لیے یہ واضح نہیں ہے کہ اس کے لیے کوئی ٹھوس دلیل موجود ہے۔‘

انہوں نے مزید کہا: ’ہم اس معاملے اور اس سے پیش آنے والے ممکنہ مشکل لاجسٹک چیلنجز کے بارے میں پولینڈ اور اپنے دیگر نیٹو اتحادیوں سے مشاورت جاری رکھیں گے لیکن ہمیں یقین نہیں ہے کہ پولینڈ کی پیشکش قابل عمل ہے۔‘

امریکی محکمہ خارجہ کی ایک عہدیدار نے کہا کہ ’پولینڈ کی پیشکش سے امریکہ حیران ہو گیا ہے۔‘

محکمہ خارجہ کی نائب سیکرٹری برائے سیاسی امور وکٹوریہ نولینڈ نے کہا: ’میرے علم کے مطابق ہم سے پیشگی مشورہ نہیں کیا گیا تھا کہ وہ (پولینڈ) اپنے طیارے ہمیں دینے کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔‘

یاد رہے کہ گذشتہ روز برطانوی وزیر دفاع بین والس نے کہا تھا کہ ’اگر پولینڈ نے لڑاکا طیارے یوکرین کو دینے کا فیصلہ کیا تو برطانیہ اس فیصلے کی حمایت کرے گا۔‘

بین والس کا کہنا تھا: ’وہ کوئی بھی فیصلہ کریں میں پولینڈ کی حمایت کروں گا۔‘


مک ڈونلڈز، کوکا کولا، پیپسی سمیت متعدد بین الاقوامی کمپنیوں کے روس میں آپریشنز بند

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق امریکی فوڈ چینز مکڈونلڈز، سٹار بکس، کوکا کولا اور پیپسی نے یوکرین پر حملے کی مذمت کے لیے روس میں اپنی مصنوعات کی فروخت روک دی ہے۔

پیپسی اور مکڈونلڈز عالمی کارپوریٹ کے وہ علم بردار تھے جن کے سوویت یونین کے ٹوٹنے سے پہلے اور بعد بھی روسی ریاست کے ساتھ کئی دہائیوں سے قائم تجارتی روابط کو بین الاقوامی تعلقات میں بہتری کے طور پر دیکھا جاتا تھا۔

ان چاروں امریکی فوڈ کمپنیوں کے روس میں بڑے آپریشنز ہیں۔

مکڈونلڈز نے کہا کہ وہ روس میں اپنے 847 ریستوران بند کرنے کے باوجود وہاں کام کرنے والے 62 ہزار ملازمین کو تنخواہوں کی ادائیگی جاری رکھے گا۔

 

مکڈونلڈز کی پیروی کرتے ہوئے سٹار بکس نے بھی روس میں عارضی طور پر اپنے سینکڑوں آؤٹ لیٹس کو بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

پیپسی بھی روس میں تمام اشتہارات کو معطل کر دے گا اور اپنے مشروبات کے برانڈز کی فروخت روک دے گا لیکن کمپنی دودھ اور بچوں کے کھانے جیسی ضروری اشیا کی فروخت جاری رکھے گی۔

پیپسی کی حریف کمپنی کوکا کولا نے کہا کہ وہ روس میں اپنا کاروبار معطل کر رہی ہے۔

کوکا کولا 1980 میں ہونے والے ماسکو اولمپک گیمز کا آفیشل مشروب تھا جب کہ امریکہ نے افغانستان پر سوویت یونین کے حملے کے خلاف اس ایونٹ کا بائیکاٹ کیا تھا۔

دوسری امریکی کمپنیوں نے بھی یوکرین پر حملے کے بعد روس کی مذمت کی ہے اس تناظر میں ایمازون نے منگل کو کہا کہ وہ روس اور یوکرین میں اپنی کلاؤڈ سروسز کے لیے نئے صارفین کو خدمات نہیں دے گا۔

یونیورسل میوزک نے بھی روس میں اپنے تمام آپریشنز کو معطل کر دیا ہے۔

آن لائن ڈیٹنگ سروس بمبل بھی روس اور بیلا روس کے سٹورز سے اپنی موبائل ایپس کو ہٹا دے گی۔

اس سے قبل توانائی کی عالمی کمپنی رائل ڈچ شیل نے روس سے تیل خریدنا بند کر دیا تھا اور کہا تھا کہ وہ ماسکو سے روابط مکمل طور پر منقطع کر دیں گے جب کہ امریکہ نے بھی روس کے تیل اور توانائی کی درآمدات پر پابندی لگا کر روس کے خلاف بائیکاٹ کی مہم تیز کر دی ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا