پاکستان: منکی پاکس کی تشخیصی کٹس ہی نہیں تو کیس مثبت کیسے؟

سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول اسلام آباد کے بیان کے مطابق ’اس وقت پاکستان کی کسی بھی لیبارٹری میں منکی پاکس وائرس کے ٹیسٹ سہولت موجود نہیں۔ پاکستان میں ابھی تک منکی پاکس کے کسی بھی مشتبہ کیس کی رپورٹ نہیں ملی ہے۔‘

سی ڈی سی کی جانب سے 2003 میں جاری کی گئی منکی پاکس وائرس کی الیکٹران مائیکروسکوپ سے لی گئی تصویر (فائل فوٹو: اے ایف پی)

وفاقی وزارت صحت پاکستان کی جانب سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق اس وقت پاکستان میں منکی پاکس کی تشخیصی کٹ موجود نہیں ہے۔

پاکستان کے مقامی اخبارات میں بدھ کو ایک خبر شائع ہوئی کہ کراچی کے قومی ادارہ صحت برائے اطفال (این آئی سی ایچ) میں دو بچوں میں منکی پاکس وائرس کے دو مثبت کیس کنفرم ہوگئے ہیں۔

ایک اور اردو اخبار میں خبر شائع ہوئی کہ سندھ میں منکی پاکس کے دو مثبت کیس رپورٹ ہوئے جن میں سے ایک کراچی جب کہ دوسرا لاڑکانہ میں رپورٹ ہوا۔ اس طرح خبریں لاہور کے چند اخبارات میں بھی شائع ہوئیں۔  

ایسی خبروں پر ردعمل میں وفاقی وزارت صحت نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے واضح طور پر کہا کہ ان خبروں میں کوئی بھی صداقت نہیں ہے۔ سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول اسلام آباد کے بیان کے مطابق ’اس وقت پاکستان کی کسی بھی لیبارٹری میں منکی پاکس وائرس کے ٹیسٹ سہولت موجود نہیں۔ پاکستان میں ابھی تک منکی پاکس کے کسی بھی مشتبہ کیس کی رپورٹ نہیں ملی ہے۔‘

کراچی کے قومی ادارہ صحت برائے اطفال (این آئی سی ایچ) کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ناصر سلیم سڈل نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان کے مقامی اخبارات میں رپورٹ ہوا کہ این ای سی ایچ کراچی میں میں منکی پاکس کے دو مثبت کیس رپورٹ ہوئے ہیں، تو ان خبروں میں کوئی بھی صداقت نہیں ہے، یہ صرف افواہ ہے۔  

ناصر سلیم سڈل کے مطابق: ’دو بچوں کو ہسپتال لایا گیا تھا مگر ان کی مکمل میڈیکل تشخیص کے بعد معلوم ہوا کہ دونوں بچوں میں کو خسرا ہوسکتا ہے۔ دونوں بچوں کو علیحدہ کمروں میں آئیسولیٹ کردیا گیا ہے۔ پاکستان میں تاحال منکی پاکس وائرس کی تشخیص کے لیے کٹس ہی موجود نہیں تو مثبت کیس کیسے آگئے؟'‘

ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ سندھ ڈاکٹر جمن باہاٹو نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو کرتے ہوئے تصدیق کی کہ تاحال پاکستان میں منکی پاکس وائرس کی تشخیص کے لیے لیبارٹری کٹس موجود نہیں ہیں۔

ڈاکٹر جمن باہاٹو کے مطابق ’کرونا (کورونا) وائرس کی تشخیص بھی پولیمریز چین ری ایکشن یا پی سی آر ٹیسٹ کی طرح کی جاتی ہے۔ جیسے کرونا کی پی سی آر ٹیسٹ کے لیے ناک یا منہ سے سواب لیا جاتا ہے، اس طرح منکی پاکس کی پی سی آر کے لیے مشتبہ مریض کے جسم پر نکلنے والے پھوڑوں کے مائع سے لیا جاتا ہے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

’کرونا وائرس کی تشخیص کے لیے مخصوص پی سی آر کٹ کی طرح منکی پاکس وائرس کی تشخیص کے لیے خاص کٹس ہوتی ہیں جو تاحال پاکستان میں موجود نہیں ہیں۔ زیادہ مریض آنے کی صورت میں وائرس کی تصدیق کے لیے قومی ادارہ صحت مریضوں کے سواب بیرون ملک بھیج سکتا ہے۔ اس کے علاوہ کٹس منگوانے پر بھی کام ہورہا ہے۔‘

’منکی پاکس سے متاثر مریض میں دیگر علامات کے ساتھ جسم پر واضح طور پر پھوڑے، آبلے یا چیچک کی دانوں کی طرح دانے نکل آتے ہیں مگر اس کا مطلب یہ نہیں جسم پر پھوڑوں سے ساتھ آنے والا ہر مریض منکی پاکس کا شکار ہے۔ اس وقت کٹس نہ ہونے کے باعث ہم عالمی ادارہ صحت کی گائیڈ لائین کی روشنی میں مریض کا جسمانی معانہ کرکے یہ پتہ لگاتے ہیں کہ مریض کے جسم پر پھوڑے منکی پاکس وائرس کے یا کسی اور وجہ سے ہیں۔‘

’اس وقت پاکستان میں منکی پاکس کے مثبت کیسوں کے حوالے سے میڈیا یا سوشل میڈیا پر جو بھی خبریں چل رہی ہیں، ان میں کوئی صداقت نہیں ہے۔ یہ صرف افواہیں ہیں۔ جب پاکستان میں ٹیسٹ کٹس موجود نہیں ہیں تو مثبت کیسے آسکتے ہیں۔ اگر کیس ہوں تو بھی ان کا پتہ نہیں لگایا جاسکتا جب تک اس وائرس کی تشخیصی کٹس نہ آجائیں۔ اس لیے ایسی خبروں پر دھیان نہ دیا جائے اور ایسی خبریں پھیلانے سے بھی گریز کرنا چاہیے۔ اور یہ وائرس بہت تیزی سے پھیلنے والا وائرس نہیں ہے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی صحت