ٹی ٹی پی سے مذاکرات کے لیے پاکستانی وفد کابل میں موجود

کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے ساتھ مذاکرات کے لیے قبائلی اضلاع سمیت ملاکنڈ ڈویژن کے اراکین پر مشتمل پشتون جرگہ افغانستان کے دارالحکومت کابل پہنچ گیا ہے، جس میں افغان طالبان ثالثی کا کردار ادا کریں گے۔

تحریک طالبان پاکستان سے مذاکرات کے لیے پاکستانی وفد کابل پہنچ گیا ہے (تصویر: رتحیک اصلاحات پاکستان) 

حکومت پاکستان اور کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے درمیان غیرمعینہ مدت تک جنگ بندی کی اطلاعات کے درمیان اس تنظیم سے مذاکرات کے لیے پاکستانی قبائلی اضلاع سمیت ملاکنڈ ڈویژن کے اراکین پر مشتمل ایک پشتون جرگہ افغانستان کے دارالحکومت کابل پہنچ گیا ہے۔

یہ جرگہ قبائلی اضلاع مہمند، اورکزئی، باجوڑ، وزیرستان، کرم، خیبر اور ملاکنڈ ڈویژن سے تعلق رکھنے والے اراکین پر مشتمل ہے جس میں ان ہی اضلاع سے تعلق رکھنے والے سینیٹ کے اراکین بھی شامل ہیں۔

سرکاری ذرائع نے انڈپینڈنٹ اردو کو جرگے کے کابل جانے کی تصدیق کی ہے جس میں پی ٹی آئی کے خیبر پختونخوا حکومت کے مشیر اطلاعات بیرسٹر علی سیف بھی شامل ہیں۔

اس جرگے کو 31 مئی کو کابل جانا تھا تاہم سفری بندوبست اور فلائٹ دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے یہ جرگہ نہیں جاسکا۔

ضلع مہمند سے تعلق رکھنے والے سینیٹر ہلال الرحمٰن بھی اس جرگے  کا حصہ ہیں۔ انہوں نے گذشتہ روز انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا تھا کہ پرواز نہ ہونے کی وجہ سے جرگہ نہیں جا سکا لیکن آج (یکم جون) کو جرگہ کابل جا کر ٹی ٹی پی سے بات چیت کرے گا۔

دنیا بھر میں پروازوں پر نظر رکھنے والی ویب سائٹ فلائٹ ریڈار کے مطابق آج اسلام آباد سے کوئی پرواز کابل نہیں گئی، تاہم عسکریت پسند تنظیموں کی رپورٹنگ کرنے والے پشاور کے صحافی افتخار فردوس نے بتایا کہ ’جرگے کے اراکین کمرشل نہیں بلکہ خصوصی پرواز کے ذریعے آج صبح کابل گئے ہیں۔‘

جب انڈپینڈنٹ اردو نے سینیٹر ہلال الرحمٰن سے رابطے کی کوشش کی تو جواب میں ہیلپ لائن کی جانب سے فارسی زبان میں بتایا گیا کہ اس نمبر سے ابھی رابطہ ممکن نہیں ہے۔ افغانستان میں موبائل نیٹ ورکس پر تمام تر ہیلپ لائن سروسز فارسی اور پشتو زبان میں ہوتی ہیں۔

ہلال الرحمٰن نے گذشتہ روز انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا تھا کہ یہ جرگہ پہلی مرتبہ ٹی ٹی پی کے رہنماؤں سے ملاقات کرے گا اور ابھی تک اس حوالے سے کچھ کہنا قبل از وقت ہے کہ ٹی ٹی پی کی جانب سے کیا مطالبات پیش کیے جائیں گے۔

مزید پڑھیے: ٹی ٹی پی آج کہاں کھڑی ہے؟

انہوں نے بتایا: ’اس سے پہلے وزیرستان اور باجوڑ سے بڑے جرگے ٹی ٹی پی سے ملاقات کر چکے ہیں لیکن ابھی جو جرگہ جا رہا ہے، یہ پہلی مرتبہ ٹی ٹی پی سے ملاقات کرے گا اور پہلے جانے والے جرگے کے اراکین بھی اس جرگے کا حصہ ہیں۔‘

ہلال الرحمٰن سے جب پوچھا گیا کہ کیا حکومت نے جرگے کو یہ اختیار دیا ہے کہ وہ ٹی ٹی پی سے مذاکرات کے حوالےسے فیصلے لے سکے تو ان کا کہنا تھا کہ ’یہ جرگہ پشتون روایات کے مطابق ہوگا، جس میں فریقین کو سنا جائے گا اور اس کے بعد جرگہ فیصلہ کرے گا۔‘

انہوں نے بتایا: ’جرگے کو یہ اختیار دیا گیا ہے کہ اگر وہ ٹی ٹی پی کو اس بات پر راضی کر سکے کہ وہ پر امن شہری بن کر اپنے علاقوں میں آنا چاہتے ہیں تو حکومت کی جانب سے انہیں کچھ نہیں کہا جائے گا۔‘

جب ان سے پوچھا گیا کہ ماضی میں بھی ایسے جرگے منعقد کیے گئے ہیں اور ٹی ٹی پی بعد میں یہ کہتی ہے کہ جرگے کے فیصلوں کو حکومت پاکستان نہیں مانتی، تو اس کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ’بعض چیزیں جو آئین پاکستان سے متصادم ہوں تو ظاہر سی بات ہے کہ حکومت اسے نہیں مانے گی۔‘

ہلال نے مزید بتایا: ’دنیا میں کہیں پر بھی کوئی حکومت ملک کے آئین سے تصادم کسی چیز کو نہیں مانتی لیکن ابھی چوں کہ ہماری ملاقات ٹی ٹی پی سے نہیں ہوئی ہے تو ملاقات کے بعد ہی اس حوالے سے بات چیت ہوسکتی ہے کہ فریقین کیا چاہتے ہیں۔ جرگے کو فریقین کو سننا ہے اور جرگے کا فیصلہ حکومت مانتی ہے یا نہیں، یہ بعد میں دیکھا جائے گا۔‘

رواں ماہ کی 18 تاریخ کو ٹی ٹی پی کی جانب سے مذاکرات کے حالیہ دور کے بارے میں میڈیا کو جاری کی گئی ایک پریس ریلیز میں کہا گیا تھا کہ ’محسود قبیلے کے 32 افراد پر مشتمل جرگہ اور ملاکنڈ ڈویژن کے 14 افراد پر مشتمل نمائندہ جرگے نے حکومت پاکستان کے مطالبے پر ٹی ٹی پی کی مذاکراتی کمیٹی کے ساتھ 13 اور 14 مئی کو ملاقاتیں کیں، جس میں ان کمیٹیوں کا مطالبہ تھا کہ جب تک مذاکراتی کمیٹیاں بیٹھی ہوں، فریقین فائر بندی کا اعلان کریں۔‘

ٹی ٹی پی کی پریس ریلیز کے مطابق اسی مطالبے کی رُو سے ٹی ٹی پی نے 30 مئی تک فائر بندی میں توسیع کا اعلان کیا تھا، جو ختم ہوچکا ہے، تاہم اس کے بعد ٹی ٹی پی کی جانب سے ابھی تک فائربندی میں مزید توسیع کا کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا ہے۔ 

بعض اخبارات نے ذرائع کے حوالے سے جنگ بندی میں غیرمعینہ مدت کی توسیع کی خبر دی ہے۔ حکومت پاکستان نے ان اطلاعات کی باضابطہ تصدیق نہیں کی ہے۔

یہ بھی پڑھیے: ٹی ٹی پی کی نئی نظریاتی حکمتِ عملی

مذاکرات کے حوالے سے ٹی ٹی پی کی جانب سے تصدیق تو کی گئی ہے، تاہم ابھی تک حکومت پاکستان کی جانب سے مذاکرات شروع ہونے کی کسی قسم کی تصدیق سامنے نہیں آئی ہے۔

انڈپینڈنٹ اردو نے اسی حوالے سے وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب سے پوچھا لیکن انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔

مذاکرات کے اس دور میں افغان طالبان ثالثی کا کردار ادا کر رہے ہیں اور اس کی تصدیق افغانستان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے بھی 18مئی کو کی تھی۔

ذبیح اللہ مجاہد کی جانب سے میڈیا کو جاری کیے گئے ایک پیغام میں بتایا گیا تھا کہ ٹی ٹی پی اور حکومت پاکستان کے مابین مذاکرات کابل میں منعقد کیے گئے، جس میں افغان طالبان ثالثی کا کردار ادا کر رہے ہیں۔

 بیان میں مزید بتایا گیا تھا کہ مذاکرات کے دوران اہم نکات پر بات چیت کی گئی اور افغان طالبان دونوں فریقین سے نرمی کی امید رکھتے ہیں۔

ٹی ٹی پی کے حوالے سے گذشتہ 10 سال سے رپورٹنگ کرنے والے صحافی رسول داوڑ نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ انہیں نہیں لگتا کہ ٹی ٹی پی کے چند مطالبات حکومت پاکستان مانے گی۔

رسول داوڑ نے بتایا کہ مذاکرات کے گذشتہ دور میں ٹی ٹی پی کی جانب سے اپنے 100 سے زائد رہنماؤں کی رہائی کا مطالبہ کیا گیا تھا اور ذرائع کے مطابق حکومت پاکستان اس پر راضی ہوگئی ہے، تاہم ابھی تک کسی بھی رہنما کو ٹی ٹی پی کے حوالے نہیں کیا گیا ہے۔

مزید پڑھیے: ٹی ٹی پی میں دھڑے بندی کا آغاز کیسے ہوا؟

رسول داوڑ نے بتایا: ’ٹی ٹی پی کے سرکردہ رہنما مسلم خان اور محمود خان کے بارے میں کہا گیا ہے کہ انہیں حکومت پاکستان نے رہا کیا ہے تاہم ٹی ٹی پی ذرائع نے ابھی تک دونوں کو تنظیم کے حوالے کرنے کی تصدیق نہیں کی ہے۔‘

رسول داوڑ نے کابل جانے والے جرگے کے بارے میں بتایا کہ ماضی میں بھی ایسے جرگے جاچکے ہیں اور اگر جرگے کو باقاعدہ اختیار دیا گیا ہے تو پھر تو کچھ نتیجہ خیز بات ہو سکتی ہے لیکن طالبان کو ان کے زیر اثر علاقوں میں مسلح رہنے کی اجازت دینا حکومت کے لیے مشکل ہے۔

ان کا کہنا تھا: ’ٹی ٹی پی یہ مطالبہ بھی کرتی ہے کہ پاکستانی فوج کا قبائلی اضلاع سے 100 فیصد انخلا کیا جائے جو حکومت پاکستان کی جانب سے ماننا مشکل لگ رہا ہے۔‘

بعض ذرائع ابلاغ نے ٹی ٹی پی اور حکومت کے درمیان فائر بندی کی توسیع بھی رپورٹ کی ہے لیکن اس توسیع کی ابھی تک نہ تو حکومت نے اور نہ ہی ٹی ٹی پی نے تصدیق کی ہے۔

رسول داوڑ نے بتایا کہ فائربندی کے حوالے سے ٹی ٹی پی کے جانب سے باقاعدہ پریس ریلیز جاری کی جاتی ہے جو ابھی تک سامنے نہیں آئی ہے۔

whatsapp channel.jpeg

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان