وی سی آر کیسٹس سے یادیں اور خواب ڈیجیٹل کرنے والے کاریگر

وی سی آر میں چلنے والی بڑے حجم کی کیسٹس کو ڈیجیٹل کرنے کے بعد آپ ان ویڈیوز کو موبائل فون کے ذریعے اپنے عزیزوں اور رشتہ داروں کو بھیج کر ماضی کی یادوں کو تازہ کر سکتے ہیں۔

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی کے کاروباری مرکز صدر میں واقع رینبو سینٹر 1980 کی دہائی سے ہی ویڈیو کیسٹس کی ایک معروف مارکیٹ رہی ہے لیکن اب یہاں ان ویڈیو کیسٹس کو ڈیجیٹل کرنے کا کام بھی کیا جا رہا ہے۔

وی سی آر میں چلنے والی بڑے حجم کی کیسٹس کو ڈیجیٹل کرنے کے بعد آپ ان ویڈیوز کو موبائل فون کے ذریعے اپنے عزیزوں اور رشتہ داروں کو بھیج کر ماضی کی یادوں کو تازہ کر سکتے ہیں۔

کراچی کے شہریوں کے لیے دو تین دہائیاں قبل اتوار والے دن رینبو سینٹر سے کیسٹس اور وی سی آر لا کر چھٹی والے دن فلمیں دیکھنا ایک عام بات رہی ہے۔

پاکستان میں 1980 کے بعد سے مقبول والی وی سی آر فلموں کو چھٹی والے دن سے ایک رات پہلے لاکر ساری رات جاگ کر چار سے پانچ فلمیں دیکھنا عام بات تھی۔ اس وقت نہ صرف وی سی آر پلیئر پر فلمیں دیکھنے کا رواج تھا مگر اس پلیئر میں چلنے والی ویڈیو ہوم سسٹم (وی ایچ ایس) ٹیپس ویڈیوز کی رکارڈنگ بھی عام تھی۔ لوگ اس وقت شادی، سالگرہ، کھیلوں کے خاص مقابلوں، میلوں اور ذاتی تقریبات میں وی آیچ ویڈیو رکارڈ کراتے تھے۔ 

لیکن گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ ویڈیو چلانے اور ریکارڈ کرنے کے طریقوں میں بھی جدت آتی گئی اور اب ڈیجیٹل ریکارڈنگز کے لیے پہلے کمپیکٹ ڈسک اور پھر ڈی وی ڈی اور اب یو ایس بی فلیش ڈرائیو، میمری کارڈ اور ایس ایس ڈی ڈرائیو تک مارکیٹ میں آ چکی ہیں۔

ویڈیو ریکارڈنگ کے اتنے سارے ذرائع آنے سے وی سی آر کی مقبولیت اور استعمال میں کمی آ چکی ہے اور اب مارکیٹ میں وی سی آر ملنا کافی مشکل ہو چکا ہے۔

مگر اس دور میں ریکارڈ کی گئی کیسٹس میں موجود لوگوں کی یادیں ایسی ہیں کہ ان کو ڈیجیٹل میں تبدیل کرنا ہر ایک کی خواہش بن چکی ہے۔

لوگ اپنی ان یادوں کو ڈیجیٹل میں منتقل کر کے نہ صرف واٹس ایپ گروپس اور فیس بک پر شیئر کرتے ہیں بلکہ انہیں یوٹیوب اور دیگر سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر بھی شیئر کرتے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ایمپریس مارکیٹ کے قریب واقع رینبو سینٹر کی مارکیٹ کسی دور میں وی سی آر، کیسٹس، ریکارڈنگ اور ڈبنگ کے لیے ایک اہم مقام سمجھی جاتی تھی لیکن اب یہان چند ہی ایسی دکانیں بچی ہیں جہاں پرانی کیسٹس کو ڈیجیٹل میں تبدیل کیا جاتا ہے۔

ایسی ہی ایک دکان کے مالک محمد زاہد کا انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ان کے پاس لوگوں کی بہت بڑی تعداد آتی ہے جو ان پرانی کیسٹس کو ڈیجیٹل میں تبدیل کروانے کی خواہش رکھتی ہے۔

محمد زاہد کے مطابق ’یہ کیسٹس بہت پرانی ہوتی ہیں تو جب کوئی کیسٹ آتی ہے۔ تو بہت گندی ہوتی ہے، مٹی سے بھری ہوئی ہوتی ہے۔ اس کو اچھی طرح صاف کرنا پڑتا ہے۔‘ 

’اس کے بعد جتنے دورانیہ کی وہ کیسٹ ہے اتنے وقت کے لیے اس کیسٹ کو چلانا پڑتا ہے۔ اس کے بعد اس فلم کا سکرین گریب لیا جاتا ہے۔ جس کے بعد اس کی ڈی وی ڈی اور بعد میں یو ایس بی ورژن بنایا جاتا ہے۔ بہت محنت طلب کام ہے۔ یہ کام چند ہی دکانوں پر کیا جاتا ہے۔‘

نوشہرو فیروز کے رہائشی محمد سچل پہنور 1993 میں ہونے والی اپنے بڑے بھائی کی شادی کی تقریب کی وی ایچ ایس کیسٹ کو ڈیجیٹائز کرانے کے لیے محمد زاہد کی دکان پر آئے ہیں۔ 

انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو کرتے ہوئے محمد سچل پہنور نے بتایا کہ ’یہ یادگار شادی کی تقریب ضلع نوشہروفیروز کی تحصیل بھریا کے گاؤں نہال خان پہنور میں ہوئی تھی۔ جس میں استاد وحید علی خان نے زبردست کلام گائے تھے۔ گاؤں کے لوگوں کو وہ تقریب آج بھی یاد ہے۔ اس کیسٹ میں خواب ہیں۔ یادیں ہیں۔‘

ان کے مطابق ’اس کیسٹ میں بیٹھے ہوئے ہمارے خاندان اور گاؤں کے رہائشی کئی افراد اب فوت ہو چکے ہیں۔ میں اپنی نئی نسل اور بچوں کو اپنے بزرگ دکھانا چاہتا تھا مگر اب کسی کے پاس وی سی آر نہیں ہے اس لیے اس کیسٹ کو ڈیجیٹل کرانے کے لیے آیا ہوں۔‘

سچل پنہور کے مطابق ’اب یہ کیسٹ ڈیجیٹل ہوگئی ہے تو اس کو خاندان کے واٹس ایپ گروپ اور فیس بک پر پوسٹ کرون گا تاکہ گاؤں کے لوگ اس شاندار تقریب کا لطف لے سکیں۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی فلم