انڈین میڈیا کارپوریٹ یلغار کے آگے بےبس، روش کمار بھی مستعفی

انڈین میڈیا میں صحافتی اقدار کا کچھ خیال رکھنے والا این ڈی ٹی وی بھی براہ راست کارپوریٹ طبقے کے قبضے میں چلا گیا ہے جس کے بعد مشہور اینکر روش کمار مستعفی ہو گئے ہیں۔ اس واقعے کا پس منظر۔

این ڈی ٹی وی مین سٹریم میڈیا میں وہ چینل سمجھا جاتا تھا جو صحافتی اقدار کا خیال رکھتا تھا (اے ایف پی)

گوتم اڈانی ایشیا کے امیر ترین اور دنیا کے تیسرے امیر آدمی ہیں، انہوں نے کس طرح این ڈی ٹی وی کے 29 فی صد مالکانہ حقوق حاصل کیے کو عام آدمی سمجھنے کی کوشش کرے گا تو اسے بظاہر ’گیند سلیم سے حلیم، حلیم سے کلیم، کلیم سے رحیم اور پھر رحیم سے سلیم کی طرف‘ کی طرح کافی الجھی ہوئی لگے گی۔

آئیے سمجھتے ہیں یہ معاملہ کیا ہے اور کرونی کیپیٹلزم (crony capitalism) کیسے کام کرتا ہے۔

جن جمہوری ممالک میں قانون کی حکمرانی زیادہ مضبوط نہیں ہوتی وہاں ایک طاقتور طبقہ ہوتا ہے جو ریاست کے تمام اداروں پر اپنا مضبوط اثر رسوخ رکھتا ہے۔ دیگر اداروں پر رسوخ کے علاوہ یہ طبقہ میڈیا کو کنٹرول کرتا ہے تاکہ عوام میں اس کے من پسند کا مواد بیچا جائے۔ عدلیہ، سیاستدان، میڈیا اور بیوروکریسی کے بعض لوگ اس مضبوط گروپ کی ایما پر چلتے ہیں۔ اس اچار کو اسٹیبلشمنٹ کہا جاتا ہے۔

کچھ ممالک میں فوج سب سے زیادہ مضبوط طبقہ ہوتا ہے جو اپنے اثر رسوخ اور ماضی میں براہ راست سیاست میں شمولیت کی وجہ سے جمہوری اداروں پر اپنی گہری چھاپ رکھتی ہے۔ جنوبی ایشیا میں اس کی مثال پاکستان ہے۔ پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ نے حال ہی میں یہ اعلان کیا ہے کہ وہ اب سیاسی معاملات میں دخل اندازی نہیں کریں گے۔

انڈیا میں کارپوریٹ سیکٹر، جس میں اڈانی اور امبانی سر فہرست ہیں، اسٹیبلشمنٹ کا کردار ادا کرتا ہے۔ امبانی، اڈانی ریاست گجرات سے تعلق رکھتے ہیں اور وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ کا تعلق بھی گجرات سے ہے۔ امبانی، اڈانی، نریندر مودی اور ان کی پارٹی بھارتیہ جنتا پارٹی کے کافی قریب سمجھے جاتے ہیں اور 2014 میں مودی کے اقتدار میں آنے کے بعد ملک کے زیادہ تر وسائل پر کارپوریٹ کا قبضہ بڑھتا چلا جا رہا ہے۔

میڈیا وہ ادارہ ہے جس سے کی توقع کی جا سکتی تھی کہ وہ سرکار اور کاروبار کی ملی بھگت یعنی کو عوام میں بے نقاب کرے، لیکن انڈیا میں میڈیا بھی پورا کارپوریٹس کے رحم و کرم پر ہے۔ میڈیا میں جان بوجھ کر ایسے بے تکے ایشوز پر مباحثہ رہتا ہے جو قطعی عوامی مفاد میں نہیں ہوتے۔

این ڈی ٹی وی مین سٹریم میڈیا میں وہ چینل سمجھا جاتا تھا جو صحافتی اقدار کا خیال رکھتا تھا۔ لیکن اب نیو دہلی ٹی وی لمیٹڈ (این ڈی ٹی وی) کے 29.18 فی صد شیئرز یعنی مالکانہ حقوق گوتم اڈانی کے پاس چلے گئے ہیں جس کے بعد سے ملک بھر سے آزادی اظہار رائے کے متوالے فکر مند ہیں۔ اس سے پہلے این ڈی ٹی وی مین سٹریم میڈیا کا واحد چینل سمجھا جاتا تھا جہاں صحافتی اقدار کا کچھ پاس رکھا جاتا تھا۔

کہانی کچھ یوں ہے کہ دو رائے (پرنائے رائے اور رادیکا رائے) این ڈی ٹی وی کے بانی ہیں اور 61.45 فی صد مالکانہ حقوق رکھتے تھے۔ سال 2009۔ 2010 میں رادیکا رائے پرنائے رائے ہولڈنگز لمیٹڈ (آر آر پی آر ایچ) نے، جس کے این ڈی ٹی وی میں 29.18 فی صد شیئرز ہیں، وشوا پردھان کمرشل لمیٹڈ یعنی وی پی سی ایل سے بغیر سود قرض لیا۔ اس کے بدلے میں یہ شرط تھی کہ قرض کے دوران اس کی مد میں وی پی سی ایل آر آر پی آر ایچ کے 99.9 فی صد مالکانہ حقوق بغیر کسی نوٹس کے لے سکتی ہے۔ وشوا پردھان ایک کنسلٹنٹ کمپنی ہے۔

رواں سال کے اگست میں خبر آتی ہے کہ اے ایم جی نیٹ ورک لمیٹڈ (اڈانی میڈیا گروپ نیٹ ورک لمیٹڈ) نے 113.75 کروڑ کے عوض وی سی پی ایل کو خرید لیا ہے۔ رائیز نے جب اس کمپنی سے قرض لیا تھا تو ان کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ اس کو آڈانی خرید لے گا۔ یہ خبر ان کے لیے بھی حیران کن تھی۔ تب تک این ڈی ٹی وی کے سب سے زیادہ مالکانہ حقوق رکھنے والے آر آر پی آر ایچ نے وی سی پی ایل کو قرض کی ادائیگی نہیں کی تھی سو اسطرح اس کے 29.18 فی صد حقوق براہ راست آڈانی کے پاس چلے گئے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

وی سی پی ایل کو خریدنے کے بعد آڈانی نے این ڈی ٹی وی کے 26 فی صد مزید حقوق خریدنے کا نوٹس بھی نکالا ہوا ہے، تاکہ وہ اس کے 50 فی صد سے زائد کا مالک بن جائے۔

آر آر پی آر ایچ کے علاوہ رائیز کے پاس اس چینل کے 32 فی صد آزادانہ مالکانہ حقوق ہیں لیکن اگر اڈانی گروپ دوسرے سٹیک ہولڈر سے 26 فی صد لینے میں بھی کامیاب ہو جاتا ہے تو وہ ٹی وی کے نصف سے زائد فی صد ملکیت کا مالک بن جائے گا۔

روش کمار کا این ڈی ٹی وی سے استعفیٰ  

بدھ کو آر آر پی آر ایچ کے نئے عہدیدار کے نوٹیفکیشن کے بعد رائیز نے اس بورڈ سے استعفیٰ دے دیا۔ بدھ ہی کی شام کو این ڈی ٹی وی کے سب سے بڑے اینکر روش کمار نے بھی این ڈی ٹی وی پر مزید کام کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ 2014 کے بعد سے جب مین سٹریم میڈیا پر عوام سے حقائق چھپائے جانے لگے تو این ڈی ٹی بالخصوص روش کمار اس خلا کو پر کرتے نظر آتے تھے۔ پچھلے آٹھ سالوں سے بے باک صحافت اور عوامی مؤقف رکھنے والے روش کمار کو ہی این ڈی ٹی وی کی آواز سمجھا جاتا تھا۔

روش کمار مین سٹریم میڈیا کے وہ واحد صحافی ہیں جنہوں نے پرائم ٹائم میں ہمیشہ اہم معاملوں کو بحث کا موضوع بنایا جن میں مہنگائی، بےروزگاری اور مختلف ضروری موضوعات پر ارباب اقتدار سے سخت سوالات کیے۔ سخت سوالات کی پاداش میں انہیں بھارتیہ جنتا پارٹی کے سوشل میڈیا ٹرولرز جنہیں اندھ بھکت بھی کہا جاتا ہے کی طرف سے خوب ٹرول کیا گیا۔ یہاں تک جان سے مار دینے دھمکیاں تک ملیں۔ ان میں بعض وہ لوگ بھی شامل تھے جنہیں نریندر مودی نے ٹوئٹر پر فالو کر رکھا ہے۔

روش کمار کہتے ہیں کہ ’ساری جنگیں جیتنے کے لیے نہیں لڑی جاتیں میں اس لیے ڈٹ کے کھڑا ہوں تاکہ جب مورخ تاریخ لکھے تو وہ یہ نہ لکھے کہ سارا میڈیا ہی مودی کے سامنے سر نگوں تھا۔‘

انڈیا میں مین سٹریم میڈیا بالخصوص ہندی میڈیا اس وقت پورے کارپوریٹس کے قبضے میں ہے، حکومت سے سوال کرنے کے بجائے یا حکومت پر تنقید کے بجائے ٹی وی چینلوں پر مذہبی تفرقہ بازی اور پاکستان مخالف پروگرامز چلائے جاتے ہیں، جہاں حکومت سے سوال ہونے چاہیے وہاں اپوزیشن رہنماؤں پر کیچڑ اچھالا جاتا ہے۔

این ڈی ٹی وی واحد وہ چینل تھا جہاں صحافتی اقدار کا کچھ خیال تھا۔ آٹھ سالوں میں مین سٹریم میڈیا نے صحافتی اقدار کے بجائے حکومت کی دلالی کا کام کیا ہے۔ روش کمار نے اس میڈیا کے لیے گودی میڈیا کی اصطلاح دی جو انڈیا میں کافی مقبول ہے۔ گودی کا مطلب ہے کہ سرکار کی جھولی میں بیٹھ کر صحافت کرنا یعنی ان موضوعات پر بات کرنا جو حکومت کے مفاد میں ہوں۔ اور ’سب اچھا ہے‘ کے مصداق حکومتی ناقص کارکردگی پر پردہ ڈالنا اور ایشوز سے شاطری کے ساتھ دوسری طرف توجہ موڑ دینا انڈین ہندی میڈیا کا اہم شیوہ بن چکا ہے۔

کچھ قبل راہل گاندھی کا انڈیا جوڑو لشکر (لانگ مارچ) جب مہاراشٹر پہنچا تو انہوں نے مودی سرکار پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ملک کے سارے پراجیکٹ گجرات جا رہے ہیں۔ ان کے کہنے کا مطلب تھا کہ امبانی، اڈانی کے پاس جا رہے ہیں۔ انڈیایہ جنتا پارٹی کی طرح میڈیا نے بھی اس بات کو ایسے پیش کیا جیسے راہل ریاست گجرات کے خلاف ہیں حالانکہ وہ کارپوریٹ اور حکومت کے ناجائز الحاق کی ملی بھگت کی بات کر رہے تھے۔

گذشتہ روز روش نے این ڈی ٹی وی سے استعفیٰ کے بعد اپنے یوٹیوب چینل ’روش کمار آفیشل‘ پر اپنی صحافتی ذمہ داری جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

انڈیا میں میڈیا اس قدر بے حس ہو چکا ہے اس کا اندازہ آپ راحل گاندھی کی قیادت میں اپوزیشن جماعتوں کی کنیا کماری سے بھی سرینگر تک انڈیا جوڑو یاترا پر کوریج سے لگا سکتے ہیں۔ اس لانگ مارچ میں ہر روز ہزاروں لوگ شرکت کرتے ہیں، لیکن میڈیا اس کو اتنا کوریج نہیں دے رہی جتنی کے ملنی چاہیے۔

ٹی وی چینلوں پر روزگاری، مہنگائی، غربت جیسے اہم موضوعات کو جگہ دینے کے بجائے مذہبی منافرت اور پاکستان مخالف پروگراموں کو جگہ دی جاتی ہے تاکہ عوام حقیقی مسائل سے ناآشنا رہیں۔ ان پر پورے کا پورا پرائم ٹائم صرف کیا جاتا ہے اور عوام میں نفرت بیچی جاتی ہے۔

مین سٹریم میڈیا کے حکومتی گود میں بیٹھنے کے بعد کارپوریٹ سے آزاد ڈیجیٹل میڈیا کے کچھ فلیٹ فارمز نے لوگوں تک حقائق پہنچانے کی ذمہ داری لی ہے۔ ان میں ’دی وائر،‘ ’دی کونٹ،‘ ’سکرول ڈاٹ ان‘ اور ’نیوز لانڈری‘ وغیرہ شامل ہیں۔

لیکن انڈیا میں عوام کی اکثریت پرنٹ و ڈیجیٹل میڈیا کے مقابلے میں ٹی وی چینلوں کو زیادہ ترجیح دیتے ہیں اور ان ٹی وی چینلوں پر کاروبار قابض ہے اور اسی کی ایما پر کام کرتے ہیں۔

انڈیا کا میڈیا کی آزادی کے حوالے سے عالمی رینک 180 ممالک میں 150 نمبر پر ہے جو انتہائی تشویشناک ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ