پاکستانی سائیکلسٹ کا 39 دنوں میں افغانستان کا دورہ مکمل

عامر شہزار ملک میں ماحولیاتی آلودگی کو کم کرنے کے لیے سائیکلنگ کے فروغ اور دنیا بھر میں پاکستان کا پیغام محبت پہنچانے کے لیے ٹور کرتے رہتے ہیں۔

پاکستان کے ضلع جھنگ کے علاقے شاہ جیونہ کے نوجوان سائیکلسٹ عامر شہزاد اعوان 39 روز میں اپنی سائیکل پر پاکستان افغانستان خیرسگالی دورہ  مکمل کرکے واپس وطن پہنچ گئے ہیں۔

اہل علاقہ نے ان کا پرچوش استقبال کیا ہے۔ عامر شہزار ملک میں ماحولیاتی آلودگی کو کم کرنے کے لیے سائیکلنگ کے فروغ اور دنیا بھر میں پاکستان کا پیغام محبت پہنچانے کے لیے ٹور کرتے رہتے ہیں۔

عامر شہزاد جو ٹوور ازم اینڈ ہاسپیٹیلٹی میں بی اے کے طالب علم ہیں نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ’میرا تعلق ایک کاشتکار گھرانے سے ہے۔ ملک میں بڑھتی ہو ماحولیاتی آلودگی کو دیکھ کر دل دکھتا تھا اور اکثر کچھ کرنے کی سوچتا تھا۔

’مجھے سائیکلنگ کا بھی شوق تھا۔ میں نے 22 فروری 2022 کو سائیکلنگ کا آغاز کیا تاکہ ملک بھر کے لوگوں کو پیغام دوں کہ ماحولیاتی آلودگی اور اپنی صحت اور بچوں کے مستقبل کے لیے چھوٹے کاموں کے لیے موٹر انجن گاڑیوں کے بجائے سائیکل کا استعمال کریں۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

عامر شہزاد نے بتایا کہ ’پاکستان محفوظ اور پر امن ملک‘ کے نعرے کے تحت انہوں نے رواں برس 22 اکتوبر کو جھنگ سے افغانستان کا دورہ شروع کیا۔

’یہ دورہ 39 دنوں پر مشتمل تھا جس میں تقریبا دو ہزار کلومیٹر کا سفر کیا۔  اس دودران جلال آباد، کابل، غزنی، قندھاراور قلات سمیت مختلف علاقوں کا دورہ کیا، اس دوران افغانستان کا دشوار ترین راستہ جلال آباد، ماہیپر بھی عبور کیا، اس راستے کا شمار دنیا کے نویں مشکل ترین راستوں میں ہوتا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ وہ طورخم سے افغانستان گئے اور چمن کے راستے واپس پاکستان پہنچے ہیں۔

عامر شہزاد کے بتایا کہ تمام راستے مختلف افراد نے ان کی مہمان نوازی کی تاہم وہ اکثر و بیشتر ہائی وے کے ہوٹلوں پر ہی قیام کرتے رہے۔

انہوں نے حکومت سے کہا کہ ’میری حکومت پاکستان کے متعلقہ محکموں سے اپیل ہے کہ میں جو ریکارڈ بناتا ہوں اسے گینز بک میں انداراج کرایا جائے تاکہ پاکستان کے حوالے سے زیادہ ریکارڈز سامنے آئیں۔ ایک تو میں دیہی علاقے کا نوجوان ہوں مجھے ٹیکنیکل کاموں کا نہیں پتا اور دوسرا مالی لحاظ سے بھی اتنا نہیں کہ اس کی بھاری فیس ادا کرسکوں۔‘

اپنی سائیکل شبانو کے حوالے سے عامر شہزاد نے بتایا کہ ’جس کمپنی کی سائیکل میں نے خریدی اس کا نام میرے دوست دیہاتی زبان میں شبانو لیتے تھے اب میں بھی اسے شبانوہی کہتا ہوں جس سے مجھے بہت پیار ہے۔‘

عامر شہزاد نے بتایا کہ وہ جلد ہی میں پاکستان سے ایران اور عراق کا سفر شروع کریں گے۔

زیادہ پڑھی جانے والی ماحولیات