اقوام متحدہ کا اجلاس: غریب ممالک امیر ملکوں پر برہم

دنیا کے غریب ترین ممالک کے رہنماؤں نے اتوار کو اقوام متحدہ کے سربراہی اجلاس میں امیر ریاستوں کی جانب سے روا رکھے جانے والے سلوک پر اپنی مایوسی اور تلخی کا اظہار کیا۔

وسطی افریقی جمہوریہ کے صدر فاسٹین آرچینج تواڈیرا نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ان کے وسائل سے مالا مال لیکن غریب ملک کو مغربی طاقتوں نے لوٹ لیا ہے(اے ایف پی)

دنیا کے غریب ترین ممالک کے رہنماؤں نے اتوار کو اقوام متحدہ کے سربراہی اجلاس میں امیر ریاستوں کی جانب سے روا رکھے جانے والے سلوک پر اپنی مایوسی اور تلخی کا اظہار کیا۔

قطر کے دارالحکومت دوحہ میں جاری لیسٹ ڈیلوپٹڈ کنٹریز (ایل ڈی سی) کے سربراہی اجلاس میں بہت سے رہنماؤں نے غربت سے بچنے اور موسمیاتی تبدیلیوں سے لڑنے میں مدد کے لیے ترقی یافتہ ممالک کی جانب سے اربوں ڈالر کی امداد کے وعدے پورا کرنے پر زور دیا۔

وسطی افریقی جمہوریہ کے صدر فاسٹین آرچینج تواڈیرا نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ان کے وسائل سے مالا مال لیکن غریب ملک کو مغربی طاقتوں نے لوٹ لیا ہے۔

تواڈیرا نے کہا کہ ملک کے ساڑھے پانچ کروڑ لوگ یہ نہیں سمجھ سکتے کہ سونے، ہیروں، کوبالٹ، تیل اور یورینیم کے وسیع ذخائر ہونے کے باوجود ان کا ملک آزادی کے 60 سال بعد بھی دنیا کے غریب ترین ممالک میں کیوں شامل ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہمارے ملک کو بعض مغربی طاقتوں نے ہمیشہ غلط طریقے سے اپنے سٹریٹجک فوائد کے لیے استعمال کیا۔

ان کے بقول: ’اپنی آزادی کے بعد سے ہمیں ایک منظم لوٹ مار کا سامنا کرنا پڑا ہے اور ایسا بعض مغربی طاقتوں یا ان کے اتحادیوں کی حمایت سے ہونے والے سیاسی عدم استحکام کی وجہ سے ہوا۔‘

لیکن ہر دس سال بعد ہونے والے اس اجلاس کے پہلے دن رقم کی فراہمی کا کوئی بڑا اعلان نہیں سامنے نہیں سوائے میزبان ملک قطر کے چھ کروڑ ڈالر کے جو وہ اقوام متحدہ کے پروگرامز کے لیے دے گا۔

دنیا کی بڑی معیشتوں کا کوئی بھی اہم رہنما پانچ دن تک جاری رہنے والے اس اجلاس میں شریک نہیں ہے۔

ہفتے کو ایل ڈی سی رہنماؤں کے ساتھ ایک اجلاس میں اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گتریس نے سماجی اور اقتصادی تبدیلی کے لیے 500 ارب ڈالر کی رقم جمع کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

ایل ڈی سی رہنماؤں نے صنعتی ممالک کی جانب سے گلوبل وارمنگ کا مقابلہ کرنے کے لیے سالانہ 100 ارب ڈالر فراہم کرنے کے وعدے کو وفا کرنے کا مطالبہ کیا۔

افریقہ اور ایشیا بحرالکاہل خطے کے رہنماؤں نے مالی مدد کا مطالبہ کیا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

بنگلہ دیش کی وزیر اعظم شیخ حسینہ، جن کا ملک ایل ڈی سی سے جلد نکلنے والا ہے، نے کہا کہ غریب ممالک ترقی اور ماحولیات کے لیے مالی امداد کے ’مستحق‘ ہیں۔

شیخ حسینہ نے کہا: ’عالمی برادری کو غریب ممالک میں حقیقی تبدیلی کے لیے اپنے عزم کی تجدید کرنی چاہیے۔ ہماری قومیں خیرات نہیں مانگتیں۔ ہم محض بین الاقوامی برادری کی جانب سے کیے گئے وعدوں پر عمل درآمد چاہتے ہیں۔‘

زیمبیا کے صدر نے کہا کہ رقم کی فراہمی ’کریڈیبلٹی کا معاملہ‘ ہے۔

نیپال کے نائب وزیر اعظم نارائن کاجی شریسٹھا نے کہا کہ ایل ڈی سیز ایک اور نظر انداز کی گئی دہائی کے متحمل نہیں ہو سکتے۔

نیپال بھی 2026 تک درمیانی آمدنی والے ممالک کے گروپ میں شامل ہو کر ایل ڈی سی کلب چھوڑنے والا ہے۔

نارائن شریستھا نے کہا کہ ’پانچ دہائیوں قبل جب سے غریب ممالک کو تجارتی مراعات اور سستے سود پر قرض دینے کے لیے ایل ڈی سی سٹیٹس قائم کیا گیا تھا وہ غربت، بھوک، بیماری اور ناخواندگی کے خلاف ایک عظیم جنگ لڑ رہے ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ اب تک صرف چھ ممالک ہی ایل ڈی سی سٹیٹس سے نکل پائے ہیں جسے کچھ ممالک ’کلنک کا ٹیکا‘ سمجھتے ہیں۔

ریڈیو پاکستان کے مطابق ایل ڈی سی سربراہی اجلاس نو مارچ تک جاری رہے گا جس میں پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف کل (پیر کو) خطاب کریں گے۔

وزیراعظم شہباز شریف دو روزہ سرکاری دورے پر اتوار کو قطر پہنچے تھے۔

وہ دوحہ میں کم ترقی یافتہ ممالک سے متعلق اقوام متحدہ کی پانچویں کانفرنس میں شرکت کریں گے۔ وزیراعظم کل کانفرنس سے خطاب کریں گے۔

قطر کے امیر شرکت کرنے والے سربراہان مملکت اور وزرائے اعظم کے اعزاز میں استقبالیہ دیں گے۔

اجلاس میں سینکڑوں بزنس ایگزیکٹوز متوازی نجی شعبے کے فورم میں شرکت کر رہے ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا