سیاسی معاملات نے عدالت کا ماحول آلودہ کردیا ہے: چیف جسٹس

سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کے خلاف دائر درخواستوں کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے کہا کہ ’سیاسی معاملات نے عدالت کا ماحول آلودہ کر دیا ہے، سیاسی لوگ انصاف نہیں من پسند فیصلے چاہتے ہیں۔‘

عدالت کو درخواست گزار وکیل طارق رحیم کی جانب سے بتایا گیا کہ عدالتی اصلاحات بل قانون کا حصہ بن چکا ہے (انڈپینڈنٹ اردو)

سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کے خلاف دائر درخواستوں کی سماعت منگل کے روز چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں آٹھ رکنی لارجر بینچ نے کی۔

سماعت کے دوران چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ ’شکایات ججز کے خلاف آتی رہتی ہیں، مجھ سمیت سپریم کورٹ کے اکثر ججز کے خلاف شکایات آتی رہتی ہیں، سیاسی معاملات نے عدالت کا ماحول آلودہ کردیا ہے، سیاسی لوگ انصاف نہیں من پسند فیصلے چاہتے ہیں۔‘

چیف جسٹس نے کہا کہ ’عدلیہ کی آزادی بنیادی حق ہے، عدلیہ کی آزادی کے حوالے سے یہ مقدمہ منفرد نوعیت کا ہے، پاکستان میں اپنی نوعیت کا یہ پہلا قانون ہے، ریاست کے تیسرے ستون کے بارے میں یہ قانون ہے، قانون سازی کے اختیار  سے متعلق وفاقی فہرست کی کچھ حدود و قیود بھی ہیں۔‘

 عدالت نے تمام فریقین سے تحریری جواب مانگتے ہوئے کہا کہ مقدمے پر فریقین کی سنجیدہ بحث کی توقع ہے۔ لارجر بینچ کو بہترین معاونت فراہم کرنی ہو گی۔ عدالت نے سپریم کورٹ رولز اینڈ پروسیجر بل پر پارلیمانی کارروائی کا ریکارڈ طلب کر لیا، قائمہ کمیٹی میں ہونیوالی بحث کا ریکارڈ بھی طلب کر لیا۔

سماعت کے آغاز میں درخواست گزار کے وکیل امتیاز صدیقی اور اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان بھی روسٹرم پر آ گئے جبکہ مسلم لیگ ن کی جانب سے بیرسٹر صلاح الدین اور پیپلز پارٹی نے فاروق ایچ نائیک کو وکیل مقرر کر دیا، پاکستان بار کونسل کی جانب سے حسن رضا پاشا عدالت میں پیش ہوئے۔

عدالت کو درخواست گزار وکیل طارق رحیم کی جانب سے بتایا گیا کہ عدالتی اصلاحات بل قانون کا حصہ بن چکا ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ’گزشتہ حکم نامہ عبوری نوعیت کا تھا۔ جمہوریت آئین کے اہم خدوخال میں سے ہے، آزاد عدلیہ اور وفاق بھی آئین کے اہم خدوخال میں سے ہیں لیکن دیکھنا ہے کہ عدلیہ کا جزو تبدیل ہوسکتا ہے؟ چیف جسٹس نے کہا کہ فیڈرل لیجسلیٹو لسٹ کے سیکشن 55 کا بھی جائزہ لیں، یہ حقیقت تبدیل نہیں ہوسکتی کہ آزاد عدلیہ آئین کا بنیادی جزو ہے، الزام ہے کہ ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ آئین کے بنیادی جزو کی قانون سازی کے ذریعے خلاف ورزی کی گئی۔‘

چیئرمین پاکستان بار کونسل حسن رضا پاشا نے عدالت سے کہا کہ ’پاکستان بار نے ہمیشہ آئین اور عدلیہ کے لیے لڑائی لڑی ہے، مناسب ہو گا اگر اس مقدمے میں فل کورٹ تشکیل دیا جائے، بینچ میں سات سینیئر ترین ججز شامل ہوں تو کوئی اعتراض نہیں کرسکے گا، بینچ کے ایک رکن کے خلاف چھ ریفرنس دائر کیے ہوئے ہیں۔‘ پاکستان بار کونسل نے جسٹس مظاہر نقوی کو بینچ سے الگ کرنے کی استدعا بھی کی۔

اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ سات سینیئر ججز اور فل کورٹ بنانا چیف جسٹس کا اختیار ہے، افتخار چوہدری کیس میں عدالت میں قرار دیا ریفرنس صرف صدر مملکت دائر کرسکتے ہیں، کسی جج کے خلاف ریفرنس اس کو کام کرنے سے نہیں روک سکتا، سپریم جوڈیشل کونسل کی رائے آنے تک جج کو کام کرنے سے نہیں روکا جا سکتا۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیس میں بھی عدالت نے یہی فیصلہ دیا تھا۔‘

چیف جسٹس نے مزید کہا کہ ’انتخابات کے مقدمے میں بھی کچھ ججز کو نکال کر فل کورٹ بنانے کا مطالبہ کیا گیا تھا، سپریم کورٹ کے ججز کا فیصلہ عدالت کا فیصلہ ہوتا ہے، ہر ادارہ سپریم کورٹ کے احکامات پر عملدرآمد کا پابند ہے۔‘

چیف جسٹس نے چیئرمین پاکستان بار سے مخاطب ہو کر کہ ’پاشا صاحب آپ نفیس آدمی ہیں اپنے اردگرد سے معلوم کرائیں آپ کے لوگ کس کو فل کورٹ کہتے ہیں۔ سپریم کورٹ بار نے ادارے کا تحفظ کرنا ہے۔ ججز نے آنا ہے اور چلے جانا ہے۔‘ یہ کہہ کر چیف جسٹس نے فل کورٹ تشکیل دینے کی استدعا مسترد کر دی اس کے علاوہ اٹارنی جنرل کی حکم امنتاع واپس لینے کی استدعا بھی مسترد کر دی گئی اور کہا کہ پہلے سمجھا تو دیں کے قانون کیا ہے اور کیوں بنا؟‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اٹارنی جنرل نے عدالت سے استدعا کی کہ ’عدالت بینچ بڑھانے پر غور کرے‘ اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ بینچ کی تعداد کم بھی کی جا سکتی ہے۔‘ سپریم کورٹ نے سیاسی جماعتوں اور وکلا تنظیموں سے آٹھ مئی تک جواب طلب کرتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی۔

جبکہ اسی سے متعلق وزیراطلاعات مریم اورنگزیب نے  منگل کے روز بیان دیا کہ ’قانون سازی سے شفاف اور منصفانہ نظام دیا گیا ہے، پارلیمنٹ اپنے آئینی اختیارات کے تحفظ کے لیے آخری حد تک جائے گی۔ پارلیمنٹ اپنے آئینی حقوق کا بھرپور تحفظ اور دفاع کرنے کا حق رکھتی ہے۔ پارلیمنٹ کا قانون سازی کا آئینی اختیارکوئی نہیں چھین سکتا۔ عدلیہ کا اختیار آئین و قانون کی تشریح کرنا ہے۔ آئین ’ری۔ رائیٹ‘ کرنا یا قانون سازی کے اختیار پر پابندی لگانا عدلیہ کا اختیار نہیں ہے۔ پارلیمان نے وکلا برادری، بار کونسلز اور ایسوسی ایشنز کے دیرینہ مطالبے پر قانون سازی کی ہے۔‘

184/3 کے اختیارات سے متعلق بل کا سیاق و سباق

یہ بل ابتدائی طور پر پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں سے منظور کیا گیا اور صدر کی منظوری کے لیے بھیجا گیا، تاہم صدر نے یہ کہتے ہوئے اسے واپس بھیج دیا تھا کہ مجوزہ قانون ’پارلیمنٹ کی اہلیت سے باہر‘ ہے۔ اس بل کو بعد ازاں کچھ ترامیم کے بعد پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں دس اپریل کو منظور کیا گیا- تاہم پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے بل کی منظوری کے تین روز بعد 13 اپریل کو عدالت نے  چیف جسٹس کے اختیارات کم کرنے سے متعلق قانون (سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل 2023) پر عمل درآمد روک دیا تھا اور تحریری حکم نامے میں کہا تھا کہ بل پر صدر دستخط کریں یا نہ کریں دونوں صورتوں میں اس پر عمل درآمد نہیں ہو گا۔

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے 19 اپریل کو ایک بار پھر بل کو منظوری دینے سے انکار کرتے ہوئے اسے پارلیمنٹ کو واپس بھیج دیا جس کے بعد یہ تکنیکی طور پر 21 اپریل کو یہ بل اب پارلیمنٹ کا ایکٹ بن چکا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان