گلوبل وارمنگ: ہم نے ماضی سے سبق نہیں سیکھا

جن حالات سے ہم گزر رہے ہیں، انہیں ہم نے زمین کی طرح گول بنا دیا ہے، چاہے جتنا سفر کر لو گھوم کر وہیں نقطہ آغاز پر ہی پہنچ جاتے ہیں۔

10 جون 2021 کی اس تصویر میں ایک شخص کوئٹہ سے تقریباً 15 کلومیٹر دور وادی اُرک میں خشک ہونے والی ہنہ جھیل پر پڑی دراڑوں کو دیکھ رہا ہے (اے ایف پی)

ہم بچپن سے سنتے چلے آئے تھے کہ دیو مالائی کہانیوں  میں اکثر پیچھے مڑ کر دیکھنے والا پتھر کا ہو جایا کرتا تھا اور جب سمجھدار بزرگوں سے اس کی تفسیر پوچھی تو وہ انتہائی یقین کے ساتھ یوں گویا ہوئے کہ پیچھے مڑکر دیکھنے کا مطلب ہے ماضی میں جھانکنا یا گزرے دنوں کو یاد کرنا۔

ہم بھی اتنے بھولے نکلے کہ پتھر کا بن جانے کے ڈر سے تمام  گذشتہ واقعات کو صرفِ نظر کرنے لگے تاوقتیکہ نگوڑی سائنس اور فسلفے نے ہمیں جھنجھوڑ جھنجوڑ کر یہ نہیں سمجھا دیا کہ ابے او عقل کے دشمن جب تک تم ماضی کی غلطیوں پر حال میں غور نہیں کرو گے تو آنے والے مستقبل میں اس کا سدِ باب کیسے کر پاؤ گے۔

یقین مانیے ترقی یافتہ قوموں کی ترقی کا سبب بھی یہی ہے کہ وہ پدرم سلطان بود کا نعرہ لگاتے ہوئے ماضی سے چمٹے رہنے کے بجائے اس سے سبق حاصل کرتے ہوئے اپنے حال میں ایسے کام کرتے گئے جن کے ثمرات انہیں مسقبل میں حاصل ہونے لگے۔

یہ تمہید اس لیے بھی ضروری تھی کہ ہم اس مضمون اور آنے والے اپنے دیگر مضامین میں تفصیلاً اس حوالے سے بات کریں گے۔

اب تک پاکستان کے طول و عرض میں اس گلوبل وارمنگ نامی عفریت نے کیا کیا گل کھلائے، جسے ہم نظر انداز کرتے ہوئے آنے والے کل یعنی مستقبل سے بیگانہ اپنے حال میں مگن ہیں۔

اسلامی جمہوریہ پاکستان جنوبی ایشیا کا ایک ایسا ملک ہے، جو آبادی کے لحاظ سے دنیا میں پانچویں نمبر پر ہے اور جس کا انڈونیشیا کے بعد مسلم آبادی کے تناسب سے دوسرا نمبر ہے۔

پاکستان کی آبادی یا اس میں رہنے والے نفوس کی تعداد کے بارے میں کیا لکھوں کہ گذشتہ 20 سالوں سے تو ہر سیاست دان کی تقریر میں اس کی آبادی 22 کروڑ ہی سنتے چلے آئے ہیں۔

حساب یعنی ریاضی کی ابتدا ہی گنتی سے ہوتی ہے، جو ہم سے آج تک ٹھیک سے نہیں ہو پائی۔ ہر بار مردم شماری میں ہر سیاسی جماعت اور حیرت انگیز طور پر برسرِ اقتدار جماعتیں بھی اسی بات کا رونا روتے ہوئے نظر آئیں کہ گنتی صحیح نہیں ہوئی۔

اب یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہمیں گنتی ہی نہیں آتی یا ہمیں گننے والوں کے ہاتھ کوئی ایسا فارمولا لگ گیا ہے، جس کا علم ریاضی سے دور دور کا کوئی واسطہ نہیں اور اس کے نتیجے میں ہر بار میزان غلط ہی نکلتا ہے۔

بقول فیض ؎ کسے وکیل کریں کس سے منصفی چاہیں!

اب جبکہ فیض صاحب کی نظم کا یہ مصرعہ ہماری نثر کے درمیان آ ہی گیا ہے تو اسی نظم کا ایک حسبِ حال شعر بھی پیشِ خدمت ہے۔

ہے اہلِ دل کے لیے اب تو یہی بست و کشاد

کہ سنگ و خشت مقید ہیں اور سگ آزاد

یعنی اب تو اہلیانِ دل کے لیے چیزوں کے کھلے اور بند ہونے کا یہی نظام ہے کہ گلیوں میں کتے تو کھلے اور آوارہ پھر رہے ہیں جبکہ انہیں بھگانے کو جو پتھر اٹھانے جاؤ تو وہ زمین میں دھنسا ہوا یعنی قید ملتا ہے۔

قاری کے لیے ہم نے لغوی معنی پیش کر دیے ہیں اور ہمارے پیش کردہ معنی سے آپ نے جو اس کی تفسیر اخذ کی ہے، یقین مانیے میں بھی اس سے پوری طرح متفق ہوں۔

سال 1947 میں معرضِ وجود میں آنے والا ہمارا یہ پیارا ملک پاکستان، تمام موسموں اور قدرتی وسائل سے مالا مال ہے۔ اس کی 76 سالہ تاریخ میں کئی نشیب و فراز آئے، لیکن بدقسمتی سے یہ سماجی، سیاسی اور معاشی طور پر کبھی مستحکم نہ ہو سکا، جس کی بہت سی وجوہات ہیں۔

عام طور پر ملک میں استحکام نہ ہونے کی وجہ سیاست دانوں کو قرار دیا جاتا ہے اور اس بات میں وزن یوں بھی محسوس ہوتا ہے کہ ملک کی سالمیت اور عوامی بہبود کے فیصلے ایوانوں میں ہوتے ہیں اور اگر ملک کی سالمیت اور عوام کی زبوں حالی کا شکار ہیں تو یقیناً اس کی ذمہ داری سیاست دانوں پر ہی عائد ہو گی۔

ابتدا میں ہم نے ماضی سے سبق حاصل کرنے کے حوالے سے جو تمہید باندھی تھی اب ذرا اس تناظر میں ملک میں پیش آنے والے ان واقعات کا جائزہ لیتے ہیں کیوںکہ جب وہ پیش آئے تو سب کی آنکھیں کھل گئیں کہ واقعی گلوبل وارمنگ ایک ایسا اژدہا ہے کہ اگر اسے قابو میں نہ رکھا گیا تو سب کو نگل جائے گا۔

لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ہم نے ہمیشہ کی طرح تن آسانی کے شعار کو اپنا کر ماضی کو فراموش کرتے ہوئے مستقبل سے آنکھیں بند کر لیں اور اس کے نتیجے میں پاکستانی عوام سال در سال اپنی جانیں، املاک اور روزگار سے ہاتھ دھوتے رہے۔

سال 2005 میں پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں آنے والا زلزلہ جس نے خیبر پختونخوا، شمالی انڈیا اور افغانستان کو بھی متاثر کیا اور جس کے نتیجے میں 79000 لوگ لقمہ اجل بنے جبکہ ایک محتاط اندزے کے مطاق 50 ہزار کے قریب افراد زخمی ہوئے اور 32000 عمارتیں زمیں بوس ہوئیں، جس کی وجہ سے لاکھوں لوگ بے گھر ہوئے، جبکہ انڈیا اور افغانستان کے اعداد و شمار اس کے علاوہ ہیں۔

یاد کیجیے 2010 میں آنے والے اس سیلاب کو جس کا اندوہناک نظارہ چشمِ فلک نے پاکستان کی سر زمین پر پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا۔ تقریباً دو کروڑ لوگ اس سیلاب کی تباہ کاریوں کی زد میں آئے اور نہ صرف گھروں، فصلوں اور بنیادی ڈھانچے کو متاثر کیا بلکہ ایک تخمینے کے مطابق 1200 سے 2200 لوگوں کی اموات کے علاوہ لاکھوں افراد غذائی قلت اور پانی سے پیدا ہونے والی بیماریوں کا شکار بھی ہوئے۔

اس کے ٹھیک 12 سال بعد یعنی جولائی 2022 میں مون سون کی بارشوں نے پھر سے پاکستان کے چاروں صوبوں اور بالخصوص سندھ کو اپنی تباہ کاریوں کی لپیٹ میں لے لیا۔

گو کہ 2014 کی شدید بارشوں نے سیلاب کی صورت اختیار کرتے ہوئے کافی حد تک پاکستان کے زیر انتظام کشمیر اور پنجاب کو متاثر کیا تھا، لیکن جولائی 2022 میں بارشوں سے آنے والے سیلاب کی تباہ کاریوں کے اثرات اب تک باقی ہیں۔

سروے رپورٹ اور محققین کے اندازے کے مطابق سیلاب کی وجہ مون سون کی معمول سے زیادہ بارشیں اور گلیشیئرز کا پگھلنا تھا، جن کے باعث شدید گرمی کی لہر نے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا اور ان دونوں کا براہِ راست تعلق گلوبل وارمنگ سے ہے۔

بدقسمتی سے اس سیلاب میں 1739 لوگوں نے داعیِ اجل کو لبیک کہا اور اسی سیلاب کی وجہ سے پاکستان کو 14.9 ارب ڈالرز کے بنیادی ڈھانچے اور 15.2 ارب ڈالرز کا معاشی نقصان ہوا۔

اب ذرا ملک میں اب تک ریکارڈ کی جانے والی شدید گرمی کی لہر کی بات ہو جائے۔ 2010  اور 2017 میں درجہ حرارت 53 ڈگری سیلسیس تک پہنچا، جبکہ کرہِ ارض پر ریکارڈ کی جانے والی سب سے شدید گرمی کی لہر میں چوتھے نمبر پر پاکستان کا علاقہ تربت ہے، جہاں 28 مئی 2017 کو پارہ 53.7  سیلسیس پر ریکارڈ کیا گیا۔

پاکستان اور انڈیا میں مارچ 2022 میں شدید گرمی کی ایسی لہر آئی کہ برِصغیر میں مارچ کے مہینے میں  پڑنے والی 1901 کی شدید گرمی کا ریکارڈ ٹوٹ گیا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

یہ گرم موسم سال کے ابتدائی مہینے سے اپریل تک جاری رہا جس نے انڈیا کے شمال مغرب اور پاکستان کے بڑے علاقوں کو متاثر کیا۔

گلوبل کلائمیٹ رسک انڈیکس 2021 کے مطابق دنیا بھر کے 195 ممالک میں سے پاکستان آٹھویں ایسے ملک کے طور پر موجود ہے جسے طویل مدتی موسمیاتی خطرے کا سب سے زیادہ سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

وقت کرتا ہے پرورش برسوں

حادثہ ایک دم نہیں ہوتا

قابل اجمیری صاحب کا یہ شعر ہمارے حالات اور ہماری حالت دونوں کے لیے بے حد موزوں ہے کیوںکہ ہم گزرے حالات سے سبق نہیں سیکھتے، موجودہ حالات سے لاتعلق رہتے ہوئے اپنی زبوں حالی کی ذمہ داری قسمت اور حکومت پر ڈال کر اپنی چادر سے زیادہ پاؤں پھیلا کر خوابِ خرگوش کے مزے لیتے رہتے ہیں۔

پاکستان نے بھی پیرس معاہدے کے تحت گلوبل وارمنگ کے خطرات سے بچنے کے لیے کئی تحریری وعدے کیے ہیں، جن میں 2030 تک مضر گیسوں کے اخراج میں 50 فیصد تک کمی کرنا بھی شامل ہے اور اس 50 فیصد میں سے 15 فیصد کمی پاکستان نے اپنے وسائل سے اور 35 فیصد کمی بیرونی امداد سے مشروط کر رکھی ہے۔

ہمارے ملک میں موسم سرما میں خاص طور پر صنعتی شہروں میں سموگ کے مسائل کیوں بڑھ جاتے ہیں؟ عالمی ماحولیاتی اداروں کے مطابق کسی بھی خطے کے کل رقبے کے 25 فیصد رقبے پر جنگلات یا درختوں کا ہونا لازمی ہے تو پاکستان میں اس کا تناسب کتنا ہے؟

کیا ہمارے مقاصد عالمی مقاصد سے ہم آہنگ ہیں؟ پاکستان میں حالیہ بارشوں اور سیلابی ریلوں سے ہونے والی تباہی دنیا بھر کے لیے لمحہ فکریہ ہے اور پاکستان کے ان حالات کے متعلق اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے کیا کہا، یہ سب ہم اگلے کالم کے لیے اٹھا رکھتے ہیں کیوںکہ جن حالات سے ہم گزر رہے ہیں، انہیں ہم نے زمین کی طرح گول بنا دیا ہے، چاہے جتنا سفر کر لو گھوم کر وہیں نقطہ آغاز پر ہی پہنچ جاتے ہیں۔

نوٹ: یہ تحریر کالم نگار کی ذاتی آرا پر مبنی ہے، انڈپینڈنٹ اردو کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ