الیکشن ایکٹ میں ترامیم منظور، نگران حکومت اب کتنی با اختیار ہو گی؟

پاکستانی پارلیمان کے مشترکہ اجلاس نے بدھ کو الیکشن ایکٹ ترمیمی بل 2023 کی منظوری دے دی، جس کے تحت نگران حکومت کو جاری معاشی منصوبوں اور بین الاقوامی معاہدوں پر عمل درآمد کا اختیار حاصل ہو گیا ہے۔ 

17 جولائی 2022 کی اس تصویر میں پنجاب اسمبلی کی 20 نشستوں کے ضمنی انتخاب سے قبل انتخابی افسران لاہور کے ایک مرکز میں ووٹنگ کا سامان لے جا رہے ہیں (اے ایف پی)

پاکستانی پارلیمان کے مشترکہ اجلاس نے الیکشن ایکٹ ترمیمی بل 2023 کی منظوری دے دی، جس کے تحت نگران حکومت کو جاری معاشی منصوبوں اور بین الاقوامی معاہدوں پر عمل درآمد کا اختیار حاصل ہو گیا ہے۔ 

آئندہ عام انتخابات سے قبل آنے والی نگران حکومت آج کل زبان زد عام ہے، کیونکہ قومی اسمبلی، بلوچستان اور سندھ کی صوبائی اسمبلیوں کی مدت مکمل ہونے میں چند ہی روز باقی ہیں۔

قومی اسمبلی کی مدت پوری ہونے میں محض 17 روز باقی ہیں جبکہ عام انتخابات ایکٹ 2017 میں مزید ترامیم کر کے انتخابات بل 2023 کو پارلیمنٹ نے منظور کر لیا ہے۔

یہ بل قومی اسمبلی سے منظوری کے باوجود پارلیمان کے ایوان بالا (سینیٹ) سے 90 روز کے آئینی عرصے میں منظور نہیں کروایا جا سکا۔ 

پاکستان میں روایت یہی رہی ہے کہ قومی اسمبلی یا سینیٹ میں سے کسی ایک سے منظور نہ ہونے والا قانونی بل عموماً پارلیمان کے مشترکہ اجلاس میں پیش کیا جاتا ہے۔

وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور مریضیٰ جاوید عباسی نے انتخابی اصلاحات سے متعلق ترمیمی بل بدھ کو پارلیمان کے مشترکہ اجلاس کے سامنے پیش کیا گیا۔

الیکشن ایکٹ میں ترامیم

انڈپینڈنٹ اردو کو حاصل بل کے مسودے کے مطابق جاری معاشی منصوبوں اور بین الاقوامی معاہدوں پر عمل درآمد کا اختیار نگران حکومت کو ملے گا۔

بل جو اختیارات نگران حکومت کو دیتا ہے ان میں نج کاری کمیشن ایکٹ، انٹر گورنمنٹل پرائیویٹائزیشن ایکٹ اور پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت چلنے والے منصوبے شامل ہوں گے۔

انتخابات سے متعلق کی گئی ترامیم کے تحت قومی اور صوبائی اسمبلی کی نشستوں کے لیے انتخاب میں فریقین کے ووٹوں کی تعداد میں بالترتیب آٹھ اور چار ہزار سے کم فرق کے صورت میں گنتی دوبارہ کی جائے گی، جبکہ پریزائڈنگ افسران نتیجے کو فوری طور پر الیکشن کمیشن کو بھیجنے کے پابند ہوں گے۔

’حتمی نتیجے کی تصویر بنا کر ریٹرننگ افسر اور الیکشن کمیشن کے ساتھ شیئر کی جائیں گی۔‘

بل کے تحت پریزائڈنگ افسر انتخاب کا نتیجہ پولنگ کی رات دو بجے تک دینے کا پابند ہوں گے، جبکہ نتائج جمع کروانے کی ڈیڈ لائن اگلی صبح 10 بجے تک رکھی گئی ہے۔

بل نادرا کو الیکشن کمیشن آف پاکستان کو نئے شناختی کارڈز کے ریکارڈ فراہم کرنے کا پابند بناتا ہے۔

نئے قانون کے تحت الیکشن ٹربیونل میں ریٹائرڈ ججوں کو شامل نہیں کیا جائے گا۔

انتخابات میں کامیاب امیدواروں کے حلف لینے سے متعلق بل میں کہا گیا ہے کہ ’امیدوار 60 روز میں قومی اسمبلی یا سینیٹ کی سیٹوں کا حلف اٹھانے کا پابند ہو گا۔‘

سینیٹ میں ٹیکنوکریٹ کی نشست کے لیے تعلیمی قابلیت کے علاوہ 20 سالہ تجربے کو بھی ضروری بنایا گیا ہے۔

بل کے مطابق حلقہ بندیاں آبادی کے تناسب پر ہی کی جائیں گی اور ایسا انتخابی شیڈول کے اعلان ہونے سے چار ماہ قبل مکمل ہونا ہو گا جبکہ حلقوں میں ووٹرز کی تعداد میں فرق 10 فیصد سے زیادہ نہیں ہو گا۔

حتمی نتائج پر بل میں الیکشن کمیشن پولنگ عملے کی تفصیلات ویب سائٹ پر جاری کرنے کا کہا گیا ہے، جبکہ حتمی نتائج کے تین روز میں مخصوص نشستوں کی حتمی ترجیحی فہرست فراہم کرنا ہو گی۔

بل کے مطابق انتخابی مہم پر قومی اسمبلی نشست کے لیے 40 لاکھ سے ایک کروڑ تک خرچ کرنے کی اجازت دی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ اگر انتخابی عملے کی وجہ سے الیکشن میں خرابی ہوتی ہے تو عملے کے خلاف کارروائی ہو گی۔

’صوبائی نشست کے لیے انتخابی مہم پر 20 سے 40 لاکھ خرچ کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔ امیدوار 10 روز میں حلقے پولنگ عملے کی تعیناتی چیلنج کر سکے گا۔‘

بل کے مطابق سکیورٹی اہلکار پولنگ سٹیشن کے باہر ڈیوٹی دیں گے اور ہنگامی صورت حال میں پریزائڈنگ افسر کی اجازت سے اندر آ سکیں گے۔

خواجہ سراؤں کو انتخابات لڑنے اور ووٹ ڈالنے کی اجازت حاصل ہو گی۔

مقررہ وقت میں انٹرا پارٹی انتخابات منعقد نہ کرنے پر پارٹی کو  شوکاز نوٹس کا اجرا اور جرمانہ بھی عائد ہو گا۔

مشترکہ اجلاس کا احوال

وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے مشترکہ اجلاس میں بات کرتے ہوئے کہا کہ ترمیمی بل میں سیکشن 230 کے علاوہ کسی کو کوئی اعتراض نہیں تھا اور اسی لیے آج اس پر دوبارہ غور کیا گیا۔

’باقی وہ ترامیم ہیں جن پر 100 فیصد اتفاق ہے۔ نیت یہ ہے کہ بین الاقوامی کمٹمنٹس متاثر نہ ہوں۔‘

پاکستان مسلم لیگ ن کے سردار ایاز صادق نے ایوان میں بات کرتے ہوئے کہا کہ ورلڈ بینک کے نمائندوں سے ستمبر میں اجلاس ہوا تھا۔ ’ورلڈ بینک کو تشویش ہے کہ معاہدے پر دستخط کون کرے گا؟‘

پاکستان پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے سینیٹر رضا ربانی نے کہا: ’انہیں بل کی دیگر شقوں پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔ ہم نے پڑھا تھا کہ ان ممالک کا کیا حال ہوتا ہے، جو عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کے چنگل میں پھنس جاتے ہیں۔

’شرائط رکھ کر پاکستان کو کہا گیا کہ ان کے پورا ہونے کے بعد معاہدہ ہو سکتا ہے۔ شرائط ہونے کے باوجود سٹاف لیول ایگریمنٹ نہیں ہوا۔ اس کے بعد وزیر اعظم کی مداخلت کے بعد سٹاف ایگریمنٹ ہوا۔‘

انہوں نے ایاز صادق کی ورلڈ بینک کے نمائندوں سے ملاقات کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی سامراج کے نمائندوں کا سیاسی جماعتوں سے ملنا کہاں ہوتا ہے؟

’معاہدہ حکومت پاکستان کے ساتھ تھا۔آپ کو یہ اجازت نہیں کہ آپ سیاسی جماعتوں کے ساتھ ملیں۔ یہ ملک کی خود مختاری کے خلاف ہے۔‘

رضا ربانی نے ترمیم کی مخالفت کرتے ہوئے کہا: ’نگران حکومت کا کام ڈے ٹو ڈے بزنس ہے۔ قومی اثاثوں کو فروخت کرنا نگران حکومت کے اختیار میں کہاں سے آتا ہے؟ میں سیکشن 230 میں ترمیم کی مخالفت کرتا ہوں۔‘

ترمیم شدہ سیکشن 230 میں ہے کیا؟

الیکشن ایکٹ ترمیمی بل کی شق 230 نگران حکومت کے اختیارات سے متعلق ہے۔ جس کی ذیلی شق ایک اور دو میں کی گئی ترامیم کے مطابق نگران حکومت کوئی نیا معاہدہ نہیں کر سکے گی اور نہ دو فریقی اور کثیر فریقی جاری معاہدوں پر فیصلوں کا اختیار ہو گا۔

نگران حکومت کو پہلے سے جاری منصوبوں پر اداروں سے بات کرنے کا اختیار ہو گا، جس سے متعلق اختیار بھی استعمال کر سکے گی۔

سینیٹر طاہر بزنجو نے نگران حکومت کے اختیارات پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ایسی حکومت کا کام صرف بروقت صاف و شفاف انتخابات کروانا ہے۔

’معیشت اور خارجہ پالیسی کے بڑے فیصلے منتخب حکومت کر سکتی ہے اور مضبوط حکومت ہی  آئی ایم ایف کے معاہدہ پورا کر سکتی ہے۔ ‘

حزب اختلاف کی جماعت پاکستان تحریک انصاف کے سینیٹر علی ظفر نے ایوان میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس معاملے پر کافی بحث ہوئی۔ کچھ ترامیم ایسی تھیں جو پی ٹی آئی کے لیے کی جا رہی تھیں، ان ترامیم کو کمیٹی نے خود ختم کیا۔

انہوں نے سوال اٹھاتے ہوئے کہا نگران حکومت سے مراد ہے کہ اس کے اختیارات کیا ہوں گے؟ کیا وہ بالکل آزاد ہے کہ جو مرضی ہو کریں؟ نگران حکومت منتخب حکومت کی جگہ نہیں لے سکتی؟ نگران حکومت کا کام صرف شفاف انتخابات کروانا ہے؟

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

’نگران حکومت کا ڈے ٹو ڈے بزنس ہے۔ اگر ہم ایسی قانون سازی کر رہے ہیں جس سے نگران حکومت کو منتخب حکومت کے اختیارات دیں، اس سے آئین کا قتل ہو جائے گا۔ نگران حکومت ایسے فیصلے نہیں کر سکتی جو ریورس نہ ہوں، نگران حکومت پالیسی لیول کا کوئی فیصلہ نہیں کر سکتی۔‘

وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے انتخابات ترمیمی بل کی شق 230 مشترکہ اجلاس میں پیش کرتے ہوئے کہا اتفاق رائے کے بعد وہ اس شق کو پیش کر رہے ہیں۔

علی ظفر نے کہا کہ سیکشن 230 میں بھی تجویز نہ کیا جائے، ہم نے پوری کوشش کی کہ آئینی طریقہ کار سے نہ نکلیں۔

’اس وقت کچھ معاہدے ہیں جو فائنل ہو گئے ہیں اور کچھ فائنل ہونا ہیں۔ ورلڈ بینک نے سیلاب زدہ علاقوں کے لیے کچھ پیکج دیا ہے، اس پر دستخط ہونا ہے۔‘

انہوں نے کہا: ’نگران حکومت کو مزید کوئی اختیار نہیں دیا جا رہا، یہ صرف اس لیے کیا جا رہا ہے کہ یہ نہ کہا جائے کہ پتہ نہیں اختیار ہے یا نہیں ہے۔‘

انہوں نے کہا: ’نگران حکومت کو اثاثے بیچنے کی اجازت بالکل نہیں ہو گی۔جو معاہدے ہوئے ہیں ان میں کوئی رکاوٹ نہیں آئے گی۔‘

سینیٹر مشتاق احمد خان کا کہنا تھا: ’اس کو میں متنازعہ انتخابات کی بنیاد کہتا ہوں، آئندہ انتخابات کو متنازع نہ بنائیں۔ اس ترمیم کو نکالیں۔‘

بعد ازاں انتخابات ایکٹ ترمیمی بل 2023 کی کثرت رائے سے منظوری دے دی گئی۔

پہلی مرتبہ یہ ترامیم پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیٹر سلیم مانڈوی والا کی جانب سے تجویز کی گئیں تھیں۔

انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو سے ان ترامیم پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ستمبر میں آئی ایم ایف کا ریویو ہے، نگران حکومت ان کے ساتھ یہ معاہدہ کیسے کرے گی؟ پہلے سے جاری معاہدوں اور منصوبوں کو روک کر کام کو روکا نہیں جا سکتا۔ حکومت کو ہالٹ پر نہیں لا سکتے۔ ان ترامیم سے معاہدے جاری رہ سکیں گے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان