سعودی عرب سے تعلقات بے مثال ہیں: روسی صدر

روسی صدر ولادی میر پوتن سے ریاض میں ملاقات کے دوران سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے کہا کہ دونوں ممالک کے بہت سے مفادات مشترک ہیں اور وہ مل کر کام کر رہے ہیں۔

سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اور روسی صدر ولادی میر پوتن کے درمیان بدھ کو ریاض میں ملاقات کے دوران تیل کی قیمتوں سمیت مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کو کم کرنے سمیت دوطرفہ معاملات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

ملاقات کے دوران روسی صدر ولادی میر پوتن نے سعودی عرب سے تعلقات کو بے مثال قرار دیا ہے۔

سعودی خبر رساں ادارے سعودی پریس ایجنسی (ایس پی اے) نے سعودی ولی عہد کے حوالے سے کہا کہ دونوں ممالک کے بہت سے مفادات مشترک ہیں ’جن پر ہم روس، مملکت سعودی عرب، مشرق وسطیٰ اور دنیا کے فائدے کے لیے مل کر کام کر رہے ہیں۔‘

روسی صدر نے ملاقات میں کہا کہ ’سعودی عرب کے ساتھ تعلقات ’بے مثال سطح‘ پر ہیں۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق اس ملاقات کے بارے میں سعودی عرب کے بیان میں کہا گیا کہ ولی عہد نے دونوں ممالک کے درمیان مشترکہ تعاون کی تعریف کی جس سے ’مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے میں مدد ملی۔‘

بدھ کو مشرق وسطیٰ کے دورے کے دوران ولادی میر پوتن نے پہلے متحدہ عرب امارات اور اس کے چند گھنٹوں بعد سعودی عرب کا دورہ کیا۔

روسی خبررساں اداروں نے کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف کے حوالے سے خبر دی کہ ’اوپیک پلس میں تعاون جاری رہے گا جس میں تیل برآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم (اوپیک) اور روس کی سربراہی میں اتحادی شامل ہیں۔‘

یہ ملاقات ایک ایسے وقت ہوئی جب اوپیک پلس کی جانب سے پیداوار میں مزید کمی کے وعدے کے باوجود تیل کی قیمتوں میں کمی واقع ہوئی۔

روسی انٹرفیکس نیوز ایجنسی نے پیسکوف کے حوالے سے بتایا کہ ’ہم نے اوپیک پلس میں تعاون کے بارے میں ایک بار پھر بات  کی ہے۔ فریقین اس بات پر متفق ہیں کہ ہمارے ممالک پر ایک بڑی یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ بین الاقوامی توانائی مارکیٹ کو مناسب سطح پر مستحکم رکھیں۔‘

سعودی پریس ایجنسی کے مطابق سعودی ولی عہد کا کہنا تھا کہ ’ہمارے بہت سے مفادات ہیں جن پر ہم روس، مملکت سعودی عرب، مشرق وسطیٰ اور دنیا کے فائدے کے لیے مل کر کام کر رہے ہیں۔‘

روسی ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والی بات چیت کے آغاز میں روسی صدر پوتن نے ولی عہد محمد بن سلمان کا شکریہ ادا کیا۔

روئٹرز کے مطابق ابتدائی طور پر سعودی ولی عہد نے ماسکو کا دورہ کرنا تھا ’لیکن منصوبوں میں تبدیلیاں کی گئیں۔‘

روسی صدر کا کہنا تھا کہ ان کی اگلی ملاقات ماسکو میں ہوگی اور ’ہمارے دوستانہ تعلقات میں بہتری کو کوئی نہیں روک سکتا۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

پوتن کے وفد میں تیل، معیشت، خارجہ امور، خلائی، جوہری توانائی کے حکام اور کاروباری رہنما شامل تھے۔

اس سے قبل ابوظبی میں صدر شیخ محمد بن زاید ال نہیان نے اپنے ’پیارے دوست‘ کا استقبال کیا جبکہ متحدہ عرب امارات کے جیٹ طیاروں کے فلائی پاسٹ نے فضا میں رنگوں سے روسی پرچم بنایا۔

اس ملاقات کے دوران روسی صدر کا کہنا تھا کہ ’ہمارے تعلقات، بڑی حد تک آپ کی پوزیشن کے باعث، غیر معمولی طور پر اعلیٰ سطح پر پہنچ گئے ہیں۔ متحدہ عرب امارات عرب دنیا میں روس کا اہم تجارتی شراکت دار ہے۔‘

اس دوران پوتن نے مزید کہا کہ روس اور متحدہ عرب امارات نے اوپیک پلس کے حصے کے طور پر تعاون کیا ہے۔ جس کے ارکان دنیا کا 40 فیصد سے زیادہ تیل نکالتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ اسرائیل حماس اور یوکرین تنازع پر تبادلہ خیال کریں گے۔

قریبی تعلقات

ولادی میر پوتن اور محمد بن سلمان، جو روزانہ نکلنے والے تیل کا پانچواں حصہ مشترکہ طور پر کنٹرول کرتے ہیں، کے طویل عرصے سے قریبی تعلقات ہیں۔

پوتن کا کہنا ہے کہ ’روس مغرب کے ساتھ اپنے وجود کی جنگ لڑ رہا ہے۔‘

روس نے مشرق وسطیٰ، افریقہ، لاطینی امریکہ اور ایشیا میں اپنے اتحادیوں کو اکٹھا کیا ہے دوسری جانب مغربی ممالک ماسکو کو تنہا کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا