غزہ: یو این چارٹر کے آرٹیکل 99 کا استعمال کتنا مفید ہو گا؟

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے پہلی مرتبہ آرٹیکل 99 کا استعمال کیا ہے، جبکہ مجموعی طور پر یو این سیکریٹری جنرلز کی عالمی تنازعات حل کرنے کے لیے یہ پانچویں کوشش ہے۔

رفح سے لی گئی اس تصویر میں سات دسمبر 2023 کو جنوبی غزہ کی پٹی میں خان یونس کے علاقے پر اسرائیلی بمباری کے دوران عمارتوں سے سے دھواں اٹھتا ہوا دیکھا جا سکتا ہے (محمود حمس/ اے ایف پی)

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے یو این چارٹر کے آرٹیکل 99 کا استعمال کرتے ہوئے  سلامتی کونسل سے غزہ پر اسرائیلی حملے روکنے کی غرض سے انسانی بینادوں پر فائر بندی کا ہدف حاصل کرنے میں مدد کی گزارش کی ہے۔

سیکریٹری جنرل انتونیو گوتیرش کی جانب سے آرٹیکل 99 کے استعمال کو غزہ کی صورت حال بہتر بنانے کے حوالے سے ایک اچھی کوشش قرار دیا جا رہا ہے، تاہم بین الاقوامی امور پر نظر رکھنے والے ماہرین اس پیش رفت سے زیادہ پر امید نہیں ہیں۔ 

ماضی میں اسلام آباد کی قائداعظم یونیورسٹی سے منسلک رہنے والے بین الاقوامی امور کے استاد پروفیسر ڈاکٹر رفعت حسین کے خیال میں دنیا کی بڑی طاقتیں، جن کی اکثریت اسرائیل کی حمایتی ہے، کبھی یو این سیکریٹری جنرل کو ان کے ہدف میں کامیاب نہیں ہونے دیں گی۔

انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا: ’غزہ کی صورت حال کو دیکھتے ہوئے اقوام متحدہ کا حق بنتا ہے کہ کم از کم ایک انکوائری کمیشن بنائے، جو فلسطینیوں کی نسل کشی کے الزامات کی تحقیقات کر سکے۔‘

پروفیسر رفعت حسین کے خیال میں ایسا ہوتا ہوا نظر نہیں آتا کیونکہ سلامتی کونسل کے ویٹو پاور رکھنے والے مستقل اراکین کی اکثریت اسرائیل کے حمایتی ممالک پر مشتمل ہے۔

یو این چارٹر کے آرٹیکل 99 کے تحت اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل سلامتی کونسل کی توجہ کسی بھی ایسے معاملے کی طرف مبذول کروا سکتے ہیں، جس سے ان کی رائے میں بین الاقوامی امن اور سلامتی کو خطرہ ہو سکتا ہے۔

اقوام متحدہ کے ترجمان سٹیفن ڈوجارک کے مطابق سیکرٹری جنرل اس ہفتے غزہ سے متعلق سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کر سکتے ہیں، جبکہ متحدہ عرب امارات نے ایک قرارداد کا مسودہ سلامتی کونسل کو پیش کر دیا ہے۔

اسرائیلی فوج نے سات اکتوبر کے حماس کے حملوں کے بعد سے غزہ کے مختلف حصوں پر فضائی بمباری، زمینی حملوں اور محاصرے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے، جن میں 16 ہزار سے زیادہ افراد جان سے جا چکے ہیں۔

آٓرٹیکل 99 کا استعمال کرتے ہوئے قوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل سلامتی کونسل کے صدر کو ایک خط کے ذریعے ہنگامی اجلاس منعقد کرنے اور کسی مخصوص بین الاقوامی تنازع پر بحث کی گزارش کرتے ہیں۔ 

سلامتی کونسل کا فیصلہ اسرائیل مانے گا؟

آرٹیکل 99 کے استعمال کے ذریعے یو این سیکریٹری جنرل سلامتی کونسل کے اراکین کو کسی تنازع کی سنجیدگی سے آگاہ کرتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ کونسل اس حوالے سے کوئی فیصلہ کرے، تاہم ضروری نہیں کہ تنازع کے فریقین سلامتی کونسل کے کسی فیصلے کو مان بھی لیں۔

سلامتی کونسل کی جانب سے غزہ میں فائر بندی کی کوششوں کی فلسطینی تنظیم حماس ہو سکتا ہے کہ حمایت کرے لیکن کیا تنازعے کا دوسرا فریق یعنی اسرائیل کسی ایسی اپیل یا کوشش کے نتیجے میں فلسطینیوں پر حملے بند کرے گا؟    

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

تھنک ٹینک انسٹی ٹیوٹ آف سٹریٹیجک سٹڈیز اسلام آباد کے ساتھ بحیثیت ریسرچ فیلو منسلک محمد علی بیگ نے سوال اٹھایا کہ کیا آرٹیکل 99 کے تحت بلائے گئے سلامتی کونسل کے اجلاس کے کسی فیصلے کا اسرائیل پابند ہو گا؟

ساتھ ہی انہوں نے کہا: ’اسرائیل ایسے کسی فیصلے کا پابند نہیں ہو گا اور کم از کم سلامتی کونسل غزہ میں سیز فائر نہیں کروا سکے گی۔‘

ان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر جو بائیڈن کے بیانات اور برطانوی وزیراعظم رشی سونک کا فوجی جہاز میں اسرائیل جانا ظاہر کرتا ہے کہ یہ دونوں ملک اسرائیل کی حمایت کریں گے۔

’رشی سونک کا رائل ملٹری کے طیارے سی 130 میں تل ابیب جانا ایک بڑا واضح پیغام تھا۔ یہ سگنل تھا اور بین الاقوامی تعلقات میں ایسے سگنلز کی بہت اہمیت دی جاتی ہے۔‘

پیرس کی جانب سے غزہ سے متعلق نرم رویے سے متعلق بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس کی وجہ فرانس میں بڑی تعداد میں مسلمانوں کی موجودگی ہو سکتی ہے، جنہیں صدر میکرون شاید ناراض نہیں کرنا چاہتے۔

محمد علی بیگ نے آرٹیکل 99 کے استعمال کو ایک اہم پیش رفت تو قرار دیا تاہم ان کے خیال میں اس کے نتائج وہ نہیں نکلیں گے، جن کی عام طور پر توقع کی جا رہی ہے۔

انتونیو گوتیرش مشکل میں

پروفیسر ڈاکٹر رفعت حسین کے خیال میں یو این سیکریٹری جنرل غزہ سے متعلق آرٹیکل 99 کو استعمال کر کے ایک مشکل میں پڑ گئے ہیں۔

اپنے دعوے کا پس منظر بیان کرتے ہوئے انہوں نے یاد دلایا کہ امریکہ اور اسرائیل پہلے ہی انتونیو گوتریش کے غزہ کی صورت حال پر بیانات کے بعد ان سے بحیثیت یو این سیکریٹری جنرل استعفے کا مطالبہ کر چکے ہیں۔ 

’اب اگر انتونیو گوتریش آرٹیکل 99 کے استعمال کے بعد سلامتی کونسل میں اپنا ہدف حاصل نہیں کر پاتے تو ان کے لیے بڑی مشکل ہو جائے گی۔‘

فلسطینیوں کے لیے متبادل راستہ

پروفیسر ڈاکٹر رفعت حسین کا کہنا تھا کہ فلسطینیوں کی اقوام متحدہ سے داد رسی ہونے کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں اور اس لیے انہیں کسی متبادل بین الاقوامی فورم کو تلاش کرنا چاہیے۔

اس سلسلے میں انہوں نے کہا کہ انٹرنیشنل کریمینل کورٹ (آئی سی سی) ایک ایسا بین الاقوامی ادارہ ہے جہاں فلسطینیوں کی سنی جا سکتی ہے۔

اپنی بات کی وضاحت کرتے ہوئے ڈاکٹر رفعت حسین نے کہا کہ اسرائیل آئی سی سی کا رکن نہیں ہے جب کہ فلسطینیوں نے اس عالمی عدالت کی تمام دستاویزات پر دستخط کیے ہوئے ہیں۔ 

’اگر کوئی حکومت، تنظیم یا شخص فلسطینیوں کا مقدمہ آئی سی سی کے سامنے پیش کرتا ہے تو انہیں وہاں سے ریلیف ملنے کا امکان موجود ہے۔‘ 

آرٹیکل 99 ہے کیا؟

اقوام متحدہ کا وجود 26 جون 1945 کو اس کی بانی دستاویز (یو این چارٹر) پر دستخط کے نتیجے میں عمل میں آیا اور یو این چارٹر کا نفاذ اسی سال 24 اکتوبر سے ہوا۔

یو این چارٹر میں دیے گئے اختیارات کے باعث ہی اقوام متحدہ مختلف مسائل پر کارروائی کر سکتا ہے اور اسی لیے اسے ایک بین الاقوامی معاہدہ سمجھا جاتا ہے اور اقوام متحدہ کے رکن ممالک اس کے پابند ہیں۔ 

یہ چارٹر ریاستوں کی خودمختار مساوات سے لے کر بین الاقوامی تعلقات میں طاقت کے استعمال کی ممانعت تک بین الاقوامی تعلقات کے بڑے اصولوں کو مرتب کرتا ہے۔

یو این چارٹر تمہید (Preamble) کے علاوہ 111 آرٹیکلز پر مشتمل 19 ابواب کا مجموعہ ہے۔ 

تمہید کا پہلا حصہ امن اور بین الاقوامی سلامتی کی بحالی اور انسانی حقوق کے احترام کے لیے ایک عمومی مطالبے سے متعلق جبکہ دوسرا حصہ معاہدے کے انداز میں ایک اعلان ہے کہ اقوام متحدہ کے عوام کی حکومتوں نے چارٹر سے اتفاق کیا ہے اور یہ انسانی حقوق کے حوالے سے پہلی بین الاقوامی دستاویز ہے۔

یو این چارٹر کا باب 15 (XV) اقوام متحدہ کے سیکریٹریٹ، عملے اور ان کے اختیارات سے متعلق ہے اور آرٹیکل 99 اسی باب کا حصہ ہے، جس کے مطابق: ’سیکریٹری جنرل سلامتی کونسل کی توجہ میں کوئی بھی ایسا معاملہ لا سکتے ہیں، جس سے ان کی رائے میں بین الاقوامی امن اور سلامتی کو خطرہ لاحق ہو۔‘

کینیڈا سے تعلق رکھنے والے دفاعی تجزیہ کار والٹر ڈورن اپنی کتاب Conflict Prevention from Rhetoric to Reality میں آرٹیکل 99 کی اہمیت پر بحث کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ تنازعات کی روک تھام کے لیے ابتدائی انتباہ ایک ضروری پہلا قدم ہے اور حکام کو امن کے لیے ابھرتے ہوئے خطرات کے بارے میں پہلے سے جان لینا ضروری ہے۔ 

ان کے خیال میں اقوام متحدہ کے ڈیزائنرز نے اسی حقیقت کا اندازہ لگاتے ہوئے یو این چارٹر میں سیکریٹری جنرل کے لیے ایک خصوصی کردار کا ذکر کیا۔

’درحقیقت اقوام متحدہ کے چارٹر میں سیکریٹری جنرل کو دیا گیا واحد آزاد سیاسی کردار تنبیہ کا ہے۔ آرٹیکل 99 کے تحت سیکرٹری جنرل سلامتی کونسل کو باضابطہ طور پر بین الاقوامی امن اور سلامتی کو درپیش نئے خطرات سے آگاہ کرنے کے مجاز ہیں۔ یہ ایک اہم کام ہے کیونکہ سلامتی کونسل کی بین الاقوامی امن اور سلامتی کو برقرار رکھنے کی بنیادی ذمہ داری ہے۔‘

آرٹیکل 99 کا ماضی میں استعمال

اقوام متحدہ کے سات عشروں سے زیادہ پر محیط دورانیے میں موجودہ سیکریٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے بحیثیت چیف آپریٹنگ آفیسر پہلی مرتبہ آرٹیکل 99 کا استعمال کیا، جبکہ مجموعی طور پر ایسا پانچویں مرتبہ ہوا۔  

اقوام متحدہ کی تاریخ کا جائزہ لینے سے پتہ چلتا ہے کہ 100 سے زیادہ تنازعات، جن میں یو این سیکریٹری جنرل نے مداخلت کی، میں سے صرف چند ایک میں آرٹیکل 99 کی باقاعدہ درخواست شامل تھی۔ 

ماضی میں اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرلز نے آرٹیکل 99 کا استعمال صرف چار مرتبہ کیا۔

1۔ 1960 میں افریقی ملک کانگو کی حکومت نے بیلجیئم کی افواج کے خلاف تحفظ کی غرض سے فوجی امداد کے لیے اقوام متحدہ کے اس وقت کے سیکریٹری جنرل ڈیگ ہمارسکجولڈ کو درخواست دی۔ 

 ڈیگ ہمارسکجولڈ نے جولائی 1960 میں سلامتی کونسل کا فوری اجلاس بلانے کے لیے لکھا، جو ہوا اور سیکریٹری جنرل نے کانگو میں اقوام متحدہ کی ایک فورس بھیجنے کی سفارش کی تاکہ بیلجیئم کی افواج کو واپس بلایا جا سکے اور دوسرے ممالک  خصوصاً سابق سوویت یونین کو فوج بھیجنے سے روکا جا سکے۔ 

سلامتی کونسل نے اقوام متحدہ کو فورس بھیجنے کا اختیار دیا، جس کے نتیجے میں یو این آپریشنز کانگو (UNOC) کے تحت 20 ہزار کی فوج بنائی گئی جس نے افریقی ملک میں امن و امان برقرار رکھنے میں مدد فراہم کی۔

2۔ جولائی 1971 میں اقوام متحدہ کے اس وقت کے سیکریٹری جنرل یو تھانٹ نے سلامتی کونسل کے اراکین کو مشرقی پاکستان (موجودہ بنگلہ دیش) سے متعلق ایک خفیہ میمورنڈم بھیجا جس میں انہوں نے لکھا ’یہ  تنازع بہت پھیل سکتا ہے، جو پورے برصغیر کو اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے اور اقوام متحدہ کو اب اس سانحے کو کم کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔‘ 

یہ میمورنڈم اسی سال اگست میں عوام کے سامنے لایا گیا اور سیکریٹری جنرل نے اسے ’آرٹیکل 99 کی مضمر درخواست‘ کے طور پر بیان کیا، لیکن ان کی وارننگ کے باوجود چار ماہ بعد تین دسمبر 1971 کو کو پاکستان اور انڈیا کے درمیان جنگ شروع ہونے تک سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس نہیں ہوا۔

3۔ دسمبر 1971 میں آسٹریا کے سفارت کار کرٹ والڈہائم نے بحیثیت یو این سیکریٹری جنرل ایران میں اسلامی انقلاب کے بعد دارالحکومت تہران میں امریکی سفارت خانے میں 52  امریکیوں کو یرغمال بنائے جانے کے بعد آرٹیکل 99 کا استعمال کیا۔

سلامتی کونسل کے اجلاس میں قرارداد کی منظوری اور اجازت ملنے پر سیکریٹری جنرل کورٹ والڈہائم 27 دسمبر کو تہران گئے، جہاں ان کے چار نکاتی فارمولے کو پذیرائی حاصل نہ ہو سکی۔ 

4۔ اگست 1989 میں اس وقت کے یو این سیکریٹری جنرل جیویر پیریز ڈی کیولر نے لبنان کی بڑھتی ہوئی خانہ جنگی میں سیز فائر کی غرض سے آرٹیکل 99 کو  استعمال کیا تھا۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا