بنگلہ دیش میں ماحولیاتی بحران کم عمری کی شادیوں کی وجہ بن رہا ہے: رپورٹ

بنگلہ دیش میں خواتین کی شادی کی قانونی عمر 18 سال ہے اور چائلڈ میرج ریسٹرینٹ ایکٹ 2017 کے تحت بچوں کی شادیوں پر پابندی ہے۔

پانچ فروری، 2023 کی اس تصویر میں انڈیا کے شہر احمد آباد میں اجتماعی شادی کی تقریب میں بیٹھی دلہنیں(اے ایف پی)

ایک حالیہ جائزے میں انکشاف ہوا ہے کہ موسمیاتی بحران کی وجہ سے بنگلہ دیش میں تباہی اور خطرے کا سامنا کرنے والے ساحلی علاقوں میں کم عمری کی شادیوں میں حیران کن طور پر 39 فیصد اضافہ دیکھا گیا ہے۔

انسانی حقوق کی عالمی تنظیم انٹرنیشنل ریسکیو کمیٹی (آئی آر سی) نے بدھ کو جاری رپورٹ میں بتایا کہ موسمیاتی بحران سے پیدا ہونے والی آفات نے ساحل پر آباد انتہائی غربت کا سامنا کرنے والی برادریوں کو ہجرت پر مجبور کیا ہے جس کی وجہ سے صنفی بنیاد پر تشدد میں اضافہ، تعلیم تک محدود رسائی اور فوڈ سکیورٹی جیسے چیلنجز میں اضافہ ہوا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کم عمری کی شادیوں میں تیزی سے اضافہ کی وجوہات کو گذشتہ دو دہائیوں کے دوران سیلاب اور طوفان جیسی آفات میں اضافے سے براہ راست منسوب کی جا سکتا ہے۔

عالمی تنظیم نے کہا کہ بنگلہ دیش میں تمام لڑکیوں میں سے نصف کی شادی 18 سال کی عمر سے پہلے کر دی جاتی ہے جب کہ ان میں سے کم از کم 22 فیصد کی شادیاں صرف 15 سال کی عمر سے پہلے ہی کر دی گئی تھی۔

 تنظیم نے مزید کہا کہ ساحلی علاقوں میں رہنے والی لڑکیوں کو اس حوالے سے زیادہ خطرات کا سامنا ہے۔

بنگلہ دیش میں خواتین کی شادی کی قانونی عمر 18 سال ہے اور چائلڈ میرج ریسٹرینٹ ایکٹ 2017 کے تحت بچوں کی شادیوں پر پابندی ہے۔

آئی آر سی بنگلہ دیش کی ڈائریکٹر حسینہ رحمان نے کہا: ’یہ صورت حال ساحلی علاقوں میں رہنے والی لڑکیوں کے لیے زیادہ غیر مستحکم ہے جنہیں خوراک کی عدم دستیابی، غربت، بارش کے بے قاعدہ پیٹرن، بڑھتے ہوئے درجہ حرارت اور آفات کی بڑھتی ہوئی تعدد اور شدت کا سامنا ہے۔‘

انہوں نے تجویز پیش کی کہ کئی حصوں پر مشتمل اس بحران کو آب و ہوا کے خطرے سے دوچار کمیونٹیز میں لڑکیوں کے لیے تعلیم تک رسائی کو بہتر بنا کر حل کیا جانا چاہیے جو بچپن کی شادیوں کو روکنے میں مدد دے گی۔

کم از کم 86 فیصد کم عمر لڑکیوں کو قدرتی آفات کے بعد کام کے بڑھتے ہوئے بوجھ کا سامنا کرنا پڑتا ہے جس سے پڑھائی کے لیے ان کے پاس وقت کم ہو جاتا ہے۔

مزید برآں اس خطے میں انتہائی غربت کی وجہ سے تعلیمی اداروں میں بچوں کے داخلے کی شرح متاثر ہوتی ہے۔ اہل اساتذہ کی ناکافی تعداد، نقل و حمل کا ناقص نیٹ ورک اور آفات کے دوران سکولوں کو پناہ گاہوں کے طور پر استعمال کرنا تعلیمی خدمات میں خلل ڈالتا ہے۔

انہوں نے تجویز پیش کی کہ کئی حصوں پر مشتمل اس بحران کو آب و ہوا کے خطرے سے دوچار کمیونٹیز میں لڑکیوں کے لیے تعلیم تک رسائی کو بہتر بنا کر حل کیا جانا چاہیے جو بچپن کی شادیوں کو روکنے میں مدد دے گی۔

کم از کم 86 فیصد کم عمر لڑکیوں کو قدرتی آفات کے بعد کام کے بڑھتے ہوئے بوجھ کا سامنا کرنا پڑتا ہے جس سے پڑھائی کے لیے ان کے پاس وقت کم ہو جاتا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

مزید برآں اس خطے میں انتہائی غربت کی وجہ سے تعلیمی اداروں میں بچوں کے داخلے کی شرح متاثر ہوتی ہے۔ اہل اساتذہ کی ناکافی تعداد، نقل و حمل کا ناقص نیٹ ورک اور آفات کے دوران سکولوں کو پناہ گاہوں کے طور پر استعمال کرنا تعلیمی خدمات میں خلل ڈالتا ہے۔

آئی آر سی نے بنگلہ دیش میں شیخ حسینہ کی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بچوں کے ساتھ بدسلوکی اور استحصال کے لیے ایک باضابطہ رپورٹنگ میکانزم قائم کرے اور بچوں کے لیے ساز گار جگہوں کے قیام کے لیے کام کرے جو کمیونٹیز میں قابل رسائی ہو۔

اقوام متحدہ کے مطابق بڑھتے ہوئے مالی دباؤ اور سکولوں کی بندش کی وجہ سے جنوبی ایشیا میں دنیا میں سب سے زیادہ کم عمری میں شادیوں ہوتی ہیں۔

اس سے قبل اکتوبر میں ایک اور عالمی تنظیم ’سیو دی چلڈرن‘ کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ 2050 تک تقریباً چار کروڑ لڑکیوں کو کم عمری میں شادی پر مجبور کیے جانے کا خطرہ ہے۔

جبکہ ایک اندازے کے مطابق تقریباً 29 کروڑ نوے لاکھ نوعمر لڑکیاں ایسے ممالک میں رہتی ہیں جہاں کم عمری کی شادی اور موسمیاتی آفات دونوں کے خطرات سب سے زیادہ ہیں جب کہ اس تعداد میں مزید تقریباً 33 فیصد اضافہ متوقع ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ سب صحارا افریقہ اور جنوبی ایشیا کے ممالک، خاص طور پر بنگلہ دیش، چاڈ اور گنی، جو موسمیاتی بحران کے انتہائی خطرے اور پہلے ہی ان کے بڑھتے ہوئے اثرات سے دوچار ہیں، اس حوالے سے سب سے زیادہ متاثر ہو سکتے ہیں۔

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا