فنڈرز کی کمی: صوبائی گولڈ میڈلسٹ باکسر قومی مقابلے سے دور

فرزان شاہ نے انڈیپنڈنٹ اردو کو بتایا کہ وہ پچھلے تین سالوں سے اوشو کک باکسنگ کھیل رہے ہیں جس میں انہوں نے مختلف مقابلوں میں ابھی تک صوبائی سطح پر دو گولڈ میڈلز اور سات سلور میڈلز حاصل کیے ہیں۔

پشاور کے نوجوان باکسر فرزان شاہ جو دو بار صوبائی سطح پر طلائی تمغہ جیت چکے ہیں سپورٹس بورڈ کی جانب سے فنڈ نہ ملنے کی وجہ سے نیشنل باکسنگ چیمپیئن شپ نہیں کھیل سکے اور سکالرشپ سے بھی محروم ہوگئے۔

خیبرپختوںخوا کے شہر پشاور کے علاقے دلہ زاک روڈ گل آباد سے تعلق رکھنے والے فرزان شاہ نے انڈیپنڈنٹ اردو کو بتایا کہ وہ پچھلے تین سالوں سے ووشو کک باکسنگ کھیل رہے ہیں جس میں انہوں نے مختلف مقابلوں میں ابھی تک صوبائی سطح پر دو گولڈ میڈلز اور سات سلور میڈلز حاصل کیے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ووشو کک باکسنگ چائنیز کھیل ہے اور پاکستان میں 1996 میں آیا تھا۔

نوجوان باکسر فرزان شاہ نے بتایا کہ وہ خیبرپختوںخوا کے لیول پر دو مرتبہ گولڈ میڈلسٹ رہ چکے ہیں اور سات مرتبہ سلور میڈلسٹ رہے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ خیبرپختونخوا کے سپورٹس بورڈ کی جنب سے فنڈز نہ ملنے کی وجہ سے آزاد کشمیر میں نیشنل چیمپیئن شپ کے لیے خیبرپختوںخوا کی باکسنگ ٹیم نہیں جاسکی جس میں مرد اور خواتین کھلاڑی شامل تھے۔

فرزان شاہ نے بتایا کہ ’میں پچھلے اکتوبر میں خیبرپختوںخوا میں بکسنگ چیمپئین شپ تھی اورنیشنل چیمپیئن شپ کے لیے ٹرائلزبھی تھے جس میں الحمداللہ 52 کیٹگری میں گولڈ میڈل حاصل کیے اور نیشنل چیمپیئن شپ کے لیے سلیکٹ بھی ہوا تھا لیکن  سپورٹس بورڈ کی جانب سے فنڈ نہ ملنے کی وجہ ہماری پوری ٹیم نہیں جاسکی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے بتایا کہ خیبرپختوںخوا کے سپورٹس بورڈ  نے ’ہمیں کہا ہے کہ حکومت کی جانب سے ہمیں فنڈز نہیں آ رہا اور آپ انتظار کریں۔‘

فرزان شاہ نے توقع ظاہر کی کہ ابھی کراچی میں باکسنگ کی نیشنل چیمپیئن شپ آ رہی ہے اس کے لیے ہم کلب میں بھرپور تیاری کر رہے ہیں اور امید ہے کہ سپورٹس بورڈ ہمیں سپانسر شپ بھی دے گا۔

نوجوان باکسر فرزان شاہ کے والد اور بہن بھی باکسنگ کے کھلاڑی رہ چکے ہیں جبکہ چھوٹا بھائی بھی باکسنک کھیل رہا ہے۔

خیبر پختوںخوا سپورٹس بورڈ کے شعبہ اکاونٹس کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر جاوید اقبال نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’سپورٹس بورڈ کا کام ہے کہ وہ خیبر پختونخوا کے کھلاڑیوں کو آگے لائے اور ان کی مدد کرے لیکن فنڈز کی کمی کی وجہ سے سپورٹس بورڈ نے صوبائی حکومت کو سیکم منظوری کے لیے بھیج دی ہے لیکن صوبے میں نگران حکومت ہونے کی وجہ سے بھی ابھی تک سپورٹس بورڈ کی سیکموں کی منظوری نہیں ہوئی ہے جس میں سپانسرشپس اور بچوں کی سکالرشپس کے فنڈز بھی شامل ہیں۔‘

انہوں نے بتایا کہ جیسا ہی صوبائی کابینہ سپورٹس بورڈ کے فنڈز جاری ہونے کی سکیمیں منظور کرے گی کھلاڑیوں کو بقایا سکالرشپس بھی جاری کی جائیں گی۔

مستند خبروں اور حالات حاضرہ کے تجزیوں کے لیے انڈپینڈنٹ اردو کے وٹس ایپ چینل میں شامل ہونے کے لیے یہاں کلک کریں۔

زیادہ پڑھی جانے والی کھیل