فرانس، آسٹریلیا کے ساتھ ہمارا حساب ابھی باقی ہے: ستانکزئی

فرانس اور آسٹریلیا کی جانب سے چھ قیدیوں کی رہائی پر اعتراضات کے بعد بین الافغان مذاکرات کے اجرا میں تاخیر ہو رہی ہے، جس پر طالبان رہنما شیر محمد عباس ستانکزئی نے سخت ردعمل دیا ہے۔

امریکہ کے ساتھ امن مذاکرات میں طالبان کی سربراہی کرنے والے رہنما شیر محمد عباس ستانکزئی (تصویر: اے ایف پی)

افغانستان میں طالبان تحریک کے رہنما اور امریکہ کے ساتھ امن مذاکرات میں طالبان کی سربراہی کرنے والے رہنما شیر محمد عباس ستانکزئی نے بعض طالبان قیدیوں کی رہائی پر فرانس اور آسٹریلیا کے اعتراضات کو مسترد کر دیا ہے۔

انڈپینڈنٹ اردو کو موصول ہونے والے ان کے ایک آڈیو پیغام میں عباس ستانکزئی کا کہنا تھا کہ ’فرانس اور آسٹریلیا کے اعتراضات غیرقانونی ہیں۔ فرانس اور آسٹریلیا کو افغانستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت کا کوئی حق نہیں۔‘

فرانس اور آسٹریلیا کی جانب سے طالبان کے آخری 400 میں سے چھ قیدیوں کی رہائی پر اعتراضات کی وجہ سے قیدیوں کی رہائی کا عمل تاخیر کا شکار ہوا تھا۔ کابل میں حکام کا کہنا تھا کہ ماسوائے چند قیدیوں کے، جن کی رہائی پر بعض ممالک کو تحفظات تھے، باقی سب رہا کر دیئے گئے ہیں۔

طالبان اور امریکی مذاکرات کاروں کے دوحہ حالیہ دنوں میں پہنچنے سے امید کی جا رہی ہے کہ بین الافغان مذاکرات کسی بھی دن شروع ہوسکتے ہیں۔ تاہم طالبان یہ واضح کرچکے ہیں کہ ان چھ قیدیوں کے دوحہ پہنچنے کے بعد ہی مذاکرات شروع ہوچکتے ہیں۔

لیکن شیر محمد عباس ستانکزئی کا فرانس اور آسٹریلیا کو بیان میں ایک دھمکی بھی شامل تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ہمارے جن لوگوں کو یہ ممالک مجرم قرار دیتے ہیں انہوں نے تو شاید ان کے ایک یا دو فوجی ہلاک کیے ہیں، لیکن فرانس اور آسٹریلیا کے فوجیوں نے تو ہمارے ہزاروں لوگ مارے ہیں۔ ان کے ساتھ ہمارا حساب ابھی باقی ہے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

فرانس کی وزارت خارجہ نے 15 اگست کو پیرس میں اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ ’ان افراد کی رہائی کی پرزور مخالفت کرتا ہے جنہیں فرانسیسی شہریوں خصوصاً فوجیوں اور امدادی کارکنوں کے خلاف جرائم کی وجہ سے سزائیں مل چکی ہیں۔' تاہم انہوں نے ان مجرموں کی شناخت ظاہر نہیں کی۔

البتہ آسٹریلیا نے ایسی کسی لگی لپٹی سے کام نہیں لیا اور اپنے مجرم افغان نیشنل آرمی کے سپاہی حکمت اللہ کا نام لیتے ہوئے ان کی رہائی کی مخالفت کر دی۔

حکمت اللہ نے مبینہ طور پر اپنے ہی اتحادی آسٹریلیا کے فوجیوں پر حملہ کرکے تین کو ہلاک کر دیا تھا۔ باقی پانچ قیدیوں کے ناموں کا سرکاری طور پر اعلان تو نہیں کیا گیا لیکن انڈپینڈنٹ اردو کو ملنے والی معلومات کے مطابق ان میں سید رسول، گل علی، محمد داود، اللہ محمد اور نقیب اللہ شامل ہیں۔

شیر عباس ستانکزئی کو گذشتہ دنوں پاکستان سے ایک طالبان وفد کی واپسی پر بین الافغان مذاکراتی ٹیم کی سربراہی سے ہٹا کر زیادہ سخت گیر خیالات کے حامل شیخ عبدالحکیم کو کلیدی مذاکرات کار مقرر کیا ہے۔ اس اہم فیصلے کی وجہ تاہم طالبان نے واضح نہیں کی ہے۔

عباس ستانکزئی کا کہنا تھا کہ امن کے مخالفین ویسے ہی بہانے تلاش کر رہے ہیں۔ ’ہم امریکہ سے توقع کرتے ہیں کہ وہ 29 فروری کے دوحہ معاہدے پر حرف بہ حرف عمل درآمد کو یقینی بنائے گا۔ ہم نے دوحہ امن معاہدے سے دو ماہ قبل تمام قیدیوں کی فہرست امریکہ کو دے دی تھی۔ بعد میں اسے امریکہ نے کابل حکام کے ساتھ بھی شیئر کیا۔‘

شیخ عبدالحکیم کی تقرری کے ساتھ ہی کہا جاتا ہے کہ طالبان کے سربراہ کے علاوہ ملا برادر کی پوزیشن بھی مستحکم ہوئی ہے۔ مذاکراتی ٹیم میں کونسل کی قیادت کرنے والی ’رہبری شوریٰ‘ کے 13 ارکان شامل ہیں جو صرف گروپ کے سربراہ کو جوابدہ ہیں۔

امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق افغان مفاہمتی عمل کو ٹریک پر رکھنے کی خاطر امریکی نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد  بھی دوحہ پہنچ چکے ہیں۔ امید کی جا رہی ہے کہ خطے میں ان کی موجودگی سے بین الافغان مذاکرات کے فوری آغاز کو فروغ مل سکے گا۔

دوحہ میں موجود افغان طالبان رہنماؤں کا ایک اجلاس بھی ہوا ہے جس میں قطر میں سیاسی دفتر کے سربراہ ملا برادر اخند نے مذاکراتی ٹیم کو تحریک کے لائحہ عمل سے آگاہ کیا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا