روسی دفاعی نظام خریدنے پر ترکی پر امریکی پابندیوں کا امکان

ٹرمپ انتظامیہ کے اس طویل عرصے سے متوقع اقدام کا اعلان جمعے کو کیا جا سکتا ہے جس سے نہ صرف انقرہ متاثر ہوگا بلکہ یہ نو منتخب امریکی صدر جو بائیڈن کی آنے والی انتظامیہ کے ترکی کے ساتھ تعلقات پر بھی اثر انداز ہو گا۔ 

اردوغان کے ساتھ باہمی تعلقات قائم کرنے کے بعد صدر ٹرمپ نے اپنے مشیروں کے مشورے کے باوجود طویل عرصے سے ترکی کے خلاف امریکی پابندیوں کی مخالفت کی۔ (اے ایف پی فائل)

گذشتہ سال روس سے ایس 400 فضائی دفاعی نظام خریدنے پر امریکہ نے ترکی پر پابندیاں عائد کرنے کا عندیہ دیا ہے جس سے دونوں نیٹو اتحادیوں کے مابین پہلے سے اتار چڑھاؤ کے شکار تعلقات مزید بگڑنے کا امکان ہے۔

ذرائع نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ ٹرمپ انتظامیہ کے اس طویل عرصے سے متوقع اقدام کا اعلان جمعے کو کیا جا سکتا ہے جس سے نہ صرف انقرہ متاثر ہوگا بلکہ یہ نو منتخب امریکی صدر جو بائیڈن کی آنے والی انتظامیہ کے ترکی کے ساتھ تعلقات پر بھی اثر انداز ہو گا۔ 

ذرائع نے بتایا ہے کہ پابندیوں سے ترکی کے دفاعی ادارے ’پریزیڈنسی آف ڈیفنس انڈسٹریز‘ اور اس کے سربراہ اسماعیل دمیر کو نشانہ بنایا جائے گا۔ کچھ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکہ کا یہ اقدام نقصان دہ ہو گا لیکن سنگین منظرنامے میں یہ مزید گہرا ہو سکتا ہے۔  

اس معاملے سے واقف دو ذرائع، جن میں سے ایک امریکی اہلکار ہیں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان پابندیوں کے لیے اپنے مشیران کو اجازت دے دی ہے۔

اس خبر کے بعد ترک کرنسی لیرا کی قدر 1.4 فیصد تک گر گئی۔ امریکی پابندیوں کی وجہ سے ترکی کی معیشت کو نقصان پہنچ سکتا ہے جو پہلے ہی کرونا وبا سے متاثر ہے اور سست روی کا شکار ہے، جبکہ ملک میں افراط زر دوہرے ہندسوں کو چھو رہی ہے اور فارن ایکچینج کے ذخائر کم ہو رہے ہیں۔ 

ایک سینیئر ترک عہدیدار نے کہا کہ امریکی پابندیوں سے نیٹو کے دونوں ممبران کے مابین تعلقات میں دراڑ پڑ سکتی ہے۔

انہوں نے روئٹرز کو بتایا: ’ان پابندیوں سے کوئی نتیجہ نہیں نکلے گا بلکہ ان کا الٹ اثر ہو گا۔ ان سے دونوں ممالک کے تعلقات کو نقصان پہنچے گا۔ ترکی سفارت کاری اور بات چیت سے ان مسائل کو حل کرنے کے حق میں ہے۔ ہم یک طرفہ طور پر عائد  کی گئی پابندیوں کو قبول نہیں کریں گے۔‘

اس فیصلے کا اثر ترکی کے علاوہ باقی دنیا پر بھی پڑے گا جس سے دنیا بھر میں امریکی پارٹنرز کو یہ پیغام جائے گا کہ اگر انہوں نے روسی فوجی سازوسامان خریدنے پر غور کیا تو انہیں بھی امریکی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان نے صدر ٹرمپ کے ساتھ تعلقات کی بنیاد پر امریکی دھمکیوں کو غلط ثابت کرنے کی امید ظاہر کی تھی۔

اردوغان کے ساتھ باہمی تعلقات قائم کرنے کے بعد صدر ٹرمپ نے اپنے مشیروں کے مشورے کے باوجود طویل عرصے سے ترکی کے خلاف امریکی پابندیوں کی مخالفت کی۔

ٹرمپ انتظامیہ کے عہدیداروں نے ترکی کی جانب سے ایس 400 نظام کے حصول کے بعد جولائی 2019 میں داخلی طور پر انقرہ کے خلاف پابندیوں کی سفارش کی تھی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ذرائع نے بتایا کہ اس کے بعد ترکی پر پابندیوں کا امکان ظاہر کیا جا رہا تھا لیکن صدر ٹرمپ نے اس پر عمل نہیں کیا۔ تاہم 740 ارب ڈالر کے سالانہ دفاعی اخراجات کی اجازت کے حتمی مسودے، جس پر سینیٹ میں اس ہفتے کے اوائل میں ووٹنگ کی توقع ہے، واشنگٹن کو 30 دن کے اندر پابندیاں عائد کرنے پر مجبور کردے گی۔

ایک اور امریکی عہدے دار نے کہا کہ صدر ٹرمپ ترکی پر پابندی لگانے کے لیے اس لیے راضی ہوئے کیوں کہ این ڈی اے اے کے مسودے میں یہ معاملہ شامل تھا جس کی شق کے تحت انقرہ پر پابندی مسلط کرنے کی ضرورت ہوگی۔

عہدے دار نے بتایا کہ اس طرح ٹرمپ یہ ظاہر کرنے سے گریز کرسکتے ہیں جیسے انہیں یہ کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہو۔

F-35 پروگرام پر اثرات

اب بھی بڑھتا ہوا امریکی دباؤ خطرے سے خالی نہیں ہے۔ واشنگٹن انقرہ کو روسی صدر ولادی میر پوتن کے قریب بھی نہیں دیکھنا چاہے گا جن کا مقصد نیٹو اتحاد کو کمزور اور تقسیم کرنا ہے۔

روس نے گذشتہ سال ترکی کو ایس 400 نظام فراہم کیا تھا اور ترکی نے حال ہی میں اکتوبر کے مہینے میں ان کا تجربہ کیا تھا۔

انقرہ نے کہا کہ یہ دفاعی سسٹم نیٹو کے نظام میں ضم نہیں ہو گا اور انہیں اس سے کوئی خطرہ نہیں ہوگا۔ اس نے اس معاملے پر مشترکہ ورکنگ گروپ بنانے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔

لیکن امریکہ کا اصرار ہے کہ ایس 400 سے ان کو خطرہ لاحق ہے۔ واشنگٹن نے گذشتہ سال اعلان کیا تھا کہ وہ انقرہ کے فیصلے پر ترکی کو ایف 35 لڑاکا جیٹ پروگرام سے ہٹا رہا ہے۔

لاک ہیڈ مارٹن کا ایف 35 سٹیلتھ لڑاکا طیارہ امریکی فضایہ کے پاس سب سے جدید طیارہ ہے جسے نیٹو کے ممبران اور دیگر امریکی اتحادی بھی استعمال کرتے ہیں۔

امریکی محکمہ خارجہ اب بھی منصوبوں کو تبدیل کرسکتا ہے اور ترکی کے خلاف پابندیوں کی وسعت کو وسیع یا محدود کرسکتا ہے تاہم ذرائع نے بتایا کہ موجودہ شکل میں پابندیوں کا اعلان جلد متوقع ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا