امریکہ میں 65 سالہ ایشیائی خاتون پر تشدد، تماشائی دیکھتے رہے

نیویارک کے ٹائمز سکوائر میں پیش آنے والا یہ بہیمانہ واقعہ سکیورٹی کیمرے میں ریکارڈ ہوا اور پولیس نے حملہ آور کی شناخت میں مدد کی اپیل کرتے ہوئے واقعے کی ویڈیو جاری کردی ہے۔

محکمہ پولیس کی نفرت پر مبنی جرائم سے متعلق ٹاسک فورس نے کہا ہے کہ جس وقت ایشیائی امریکی خاتون پر حملہ کیا گیا وہ چرچ جارہی تھیں۔  (سکرین گریب)

امریکی شہر نیویارک کے ٹائمز سکوائر میں ایک شخص نے پیر کو 65 سالہ فلپائنی خاتون کو تشدد کا نشانہ بنا ڈالا۔ رپورٹس کے مطابق قریب کھڑے کم از کم تین افراد نے کوئی مداخلت نہیں کی اور تماشہ دیکھتے رہے۔

پولیس نے کہا ہے کہ مین ہٹن کے نواح میں ہیلز کچن کے علاقے میں پیر کی صبح یہ بہیمانہ واقعہ سکیورٹی کیمرے میں ریکارڈ ہوا اور پولیس نے حملہ آور کی شناخت میں مدد کی اپیل کرتے ہوئے واقعے کی ویڈیو جاری کردی ہے۔

محکمہ پولیس کی نفرت پر مبنی جرائم سے متعلق ٹاسک فورس نے کہا ہے کہ جس وقت ایشیائی امریکی خاتون پر حملہ کیا گیا وہ چرچ جارہی تھیں۔ حملہ آور نے انہیں زمین پر گرا کر غصے سے لاتیں ماریں۔

پولیس نے کہا ہے کہ جب خاتون زمین پر گری ہوئی تھیں تو حملہ آور ان کے سر پر لاتیں مارتا رہا۔ اس دوران انہوں نے ایشیائی افراد کے خلاف نازیبا جملے بھی کہے، جس کے بعد حملہ آور زخمی خاتون کو راستے میں ہی چھوڑ کر چلا گیا۔

ایسا دکھائی دیتا ہے کہ قریب سے گزرنے والی چند کاروں میں سوار افراد اور بروڈسکی آرگنائزیشن کی ملکیت ٹاور بلاک کے عملے کے کم از کم تین ارکان نے تشدد کا یہ واقعہ دیکھا لیکن خاتون کی مدد نہیں کی۔ واقعے کے منظر عام پر آنے کے بعد عملے کے ان ارکان کو معطل کر دیا گیا ہے۔ رہائش فراہم کرنے والے کمپنی بروڈسکی آرگنائزیشن نے ’تشدد، نسل پرستی اور غیرملکیوں سے نفرت‘ کی مذمت کی ہے۔

اخبار نیویارک ٹائمز کے مطابق متاثرہ خاتون کی شناخت ولماکری کے نام سے ہوئی ہے۔ کری کی بیٹی نے کہا ہے کہ ان کی والدہ دہائیوں سے امریکہ میں رہائش پذیر ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ وہ لوگ اتنے پریشان ہیں کہ واقعے کے بارے میں تفصیل کے ساتھ بات نہیں کر سکتے۔

فلپائنی خاتون پر تشدد کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو چکی ہے جو لوگوں میں غصے کا سبب بنی ہے اور سوشل میڈیا پر #سٹاپ ایشیئن ہیٹ  کے ٹرینڈ میں امریکہ میں مقیم ایشیائی افراد کے خلاف نفرت کو روکنے کے لیے اقدامات کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

دوسری جانب عام لوگوں اور سرکاری حکام نے اس بہیمانہ واقعے سے بیزاری کااظہار کیا ہے جبکہ موقعے پر موجود لوگوں اور قریب سے گزرنے والی کاروں میں سوار افراد کی لاتعلقی نے شہریوں کے غصے میں اضافہ کیا ہے۔

ڈبلیو اے بی سی ٹیلی ویژن کے مطابق متاثرہ خاتون کو ہسپتال لے جایا گیا جہاں ڈاکٹروں کے علم میں آیا کہ ان کی ناف کے نیچے کی ہڈی ٹوٹ چکی ہے جب کہ سر میں چوٹیں آئی ہیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ’متاثرہ خاتون کے جسم پر شدید زخم آئے ہیں اور انہیں ای ایم ایس سے این وائی یو لینگن ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔ خاتون کی حالت بہتر ہے۔‘

نیویارک سٹی کے میئر بل ڈی بلاسیو نے حملے کی مذمت کی ہے اور اسے ’نفرت انگیز اور وحشیانہ‘ قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ قریب موجود افراد نے مداخلت نہیں کی۔ یہ عمل ’انتہائی ناقابل قبول‘ ہے۔

میئر نے مزید کہا: ’مجھے اس کی پروا نہیں کہ آپ کون ہیں؟ مجھے پروا نہیں کہ آپ کیا کرتے ہیں؟ آپ کو نیویارک میں اپنے ساتھ رہنے والی خاتون کی مدد کرنی چاہیے تھی۔ شور مچائیں۔ بتائیں کہ کیا ہورہا ہے۔ جائیں، کوشش اور مدد کریں۔ فوری طور پر 911 پر فون کر کے مدد طلب کریں۔ یہ ایسا مسئلہ ہے جسے ہم سب نے حل کرنا ہے۔ ہم پیچھے کھڑے رہ کر ایک وحشیانہ عمل ہوتا نہیں دیکھ سکتے۔‘

دوسری جانب ریاست نیویارک کے گورنر اینڈریوکیومو نے اس حملے کو ’خوفناک اور نفرت انگیز ‘قرار دیتے ہوئے پولیس کی نفرت پر مبنی جرائم ٹاسک فورس کو حکم دیا ہے کہ وہ واقعے کی تحقیقات میں نیویارک پولیس کی مدد کرے۔

امریکی محکمہ انصاف کے میرک بی گارلینڈ نے منگل کو کہا کہ نفرت پر مبنی جرائم کے مقدمات ترجیحی بنیادوں پر چلائیں گے اور ان جرائم کے معاملے میں قانون نافذ کرنے والے مقامی اداروں کو اضافی معاونت فراہم کی جائے گی۔

نیویارک پولیس کے ریکارڈ کے مطابق نیویارک میں ایشیائی باشندوں کے خلاف نفرت پر مبنی جرائم میں اضافہ ہو گیا ہے۔ اس طرح کے 33 واقعات رپورٹ کیے گئے ہیں، جن کی تعداد گذشتہ رپورٹ ہونے والے 28 واقعات سے زیادہ ہے۔

’سٹاپ اے اے پی آئی ہیٹ‘ نامی غیرسرکاری تنظیم کو نفرت پر مبنی 3795 واقعات کی اطلاع دی گئی تھی۔ یہ غیرسرکاری تنظیم امریکہ میں امتیازی سلوک اور نفرت پر مبنی ان واقعات کا ریکارڈ رکھتی ہے، جن کا ایشیائی باشندے سامنا کرتے ہیں۔ اس تنظیم کا کہنا ہے کہ حقیقت میں امریکہ میں ’نفرت کی بنیاد پر ہونے والے واقعات کی تعداد بہت کم ہے۔‘

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی امریکہ