شبرغان: ’فوج اور پولیس کہیں نہیں، سڑکوں پر طالبان گھوم رہے ہیں‘

طالبان کے 48 گھنٹوں میں زرنج کے بعد ایک اور صوبائی دارالحکومت پر قبضے کے دعوے کی حکومت نے تردید کی ہے، تاہم ایک شہری کے مطابق طالبان شبرغان کی سڑکوں پر عام گھوم رہے ہیں۔

ہرات: طالبان کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے 48 گھنٹوں میں جنوبی شہر زرنج کے بعد افغانستان کے شمال میں ایک اور صوبائی دارالحکومت پر قبضہ کر لیا ہے اور مزید شہروں پر قبضہ آنے والے دنوں میں متوقع ہے۔

طالبان کے مطابق انہوں نے محاصرے کے بعد صوبہ جوازجان کے شہر شبرغان پر قبضہ کر لیا ہے جو ازبک جنگجو عبدل رشید دوستم کا گڑ ہوا کرتا تھا۔

تاہم افغان حکومت کا اصرار تھا کہ اس کی فورسز اور اتحادی میلیشیاوں کا طالبان کو شہر سے نکالنے کے لیے آپریشن جاری ہے اور ان کی مدد کے لیے مزید نفری بھی بھیجی جارہی ہے۔

طالبان نے جمعے کو محاصرے کے بعد اپنے پہلے دارالحکومت شمال مغربی صوبے نمروز کے شہر زرنج پر قبضہ کیا تھا۔ مقامی عہدیداروں کے مطابق حکومت ان کی مدد کے لیے فورس بھیجنے میں ناکام رہی جس کی وجہ سے ان کے پاس طالبان کو قابض ہونے دینے کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں تھا۔

امریکی صدر جو بائیڈن کی جانب سے اگست کے اختتام تک افغانستان سے تمام امریکی فوجی واپس بلا لینے کے اعلان کے بعد سے ملک غیر ملکی افواج کا انخلا ہے اور طالبان کی پیش قدمی جاری ہے اور کئی دیہی علاقوں پر قبضے کے بعد اب ان کی ںظریں بڑے شہروں پر ہیں۔

حکموتی فورسز نے جمعے کو شبر غان میں گورنر کے ہیڈ کوارٹرز کو طالبان کے قبضے سے چھڑا لیا تھا، تاہم علاقے کی کونسل کے سربراہ بابر ایشی کے مطابق ہفتے کی صبح تک شہر کا مرکز ان کے ہاتھ سے جا چکا تھا اور بس ایئر پورٹ کا علاقہ ہی پاس تھا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

طالبان نے مقامی جیل پر قبضے کے بعد اسے بھی خالی کروا لیا جس سے غیر یقینی صورت حال میں مزید اضافہ ہوا۔ شبرغان چھوڑ کر جانے والے شہریوں کے گھروں میں لوٹ کی اطلاعات بھی ملیں۔

وزارت دفاع کے ترجمان فواد عالم نے طالبان کے فتاح کے دعوں کی تردید کی اور کہا کہ شہر کے مرکزی علاقے حکومتی کنٹرول میں ہیں اور ایئر پورٹ کے ارد گرد علاقوں کو ’جلد دہشت گردوں سے خالی کروا لیا جائے گا۔‘

شبرغان کے ایک رہائشی احمد، جو اپنا پورا نام نہیں ظاہر کرنا چاہتے تھے، نے دی انڈپینڈنٹ کو بتایا: ’اگر فوج یا پولیس یہاں ہیں تو ہمیں نظر نہیں آ رہے۔ ہمیں جو دکھ رہا ہے وہ سڑکوں پر طالبان ہیں اور ایسا لگتا کہ وہی کنٹرول میں ہیں۔‘

ان کا مزید کہناتھا: ’ایئر پورٹ حکومت کے ہاتھوں میں ہوگا مگر پروازیں آ رہی ہیں نہ جا رہی ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ اگر حکومت جہاز کے ذریعے فوجیوں کو لانے کی کوشش کرے گی تو طالبان انہیں میزائل سے مار گرائیں گے۔‘

دوسری جانب قندھار، ہرات اور لشکرگاہ میں بھی لڑائی جاری رہی۔ یہ وہ تین اہم صوبائی داراحکومتیں ہیں جن پر طالبان قبضہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تاہم تینوں شہروں میں حکومتی فورسز انہیں پیچھے دھکیلنے میں کچھ نہ کچھ حد تک کامیاب رہی ہیں۔  

شبرباغ پر طالبان کے قبضوں کی اطلاعات حکومت کے لیے ایک مشکل ہفتے کے اختتام پر آئیں۔ زرنج پر قبضے کے ساتھ ساتھ کابل میں ایک خودکش بم دھماکے میں 13 افراد ہلاک اور 24 زخمی ہوئے۔ اس کے علاوہ حکومت کے اعلیٰ عہدیدار، میڈا اور انفارمیشن سینٹر کے سربراہ دوا خان مینہ پال، کو جمعے کی نماز کے بعد گھر واپس آتے ہوئے فائرنگ میں ہلاک کردیا گیا۔

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا