افغانستان میں امریکی تباہی اور اسرائیلی خواب

افغانستان میں طالبان کی تیز رفتار پیش قدمی سے اسرائیل کو یہ سبق ملتا ہے کہ شرق اوسط میں اب امریکی مداخلت کا دور لد چکا ہے۔

کابل ہوئی اڈے پر حملے میں مارے جانے والے امریکی فوجیوں کی میتیں امریکی ریاست ڈیلاویئر میں ایئربیس پر لائی جا رہی ہی۔ امریکہ نے جنگوں میں کئی ٹریلین ڈالر جھونک دیے۔ ان میں کم سے کم  آٹھ لاکھ نفوس براہ راست یا بلواسطہ ہلاک ہوئے اور لاتعداد کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا(اےایف پی فائل)

واشنگٹن کے سہارے کھڑی افغانستان کی کٹھ پتلی حکومت کا تیزی سے سقوط کئی دہائیوں تک امریکہ کی استعماری طاقت کے زوال کے ایک تاریخی لمحے کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔

کابل ہوائی اڈے پر مایوسی اور افراتفری کے مناظر کا 1975 میں سائیگون سے امریکہ کے شرمناک انخلا سے موازنہ کیا جا رہا ہے جب انکل سام کو ویتنام، کمبوڈیا اور لاؤس میں دس برس تک خون کی ہولی کھیلنے کے بعد بالآخر وہاں سے نکلنا پڑا۔

انتہائی سرعت سے امریکہ کی افغانستان سے واپسی نے 2000 میں اسرائیل کے جنوبی لبنان سے ذلت آمیز انخلا کی بھی یاد تازہ کر دی جب اسرائیل 20 برس تک مقامی مزاحمت کو کچلنے میں ناکام رہا تو بالآخر اسے واپسی کی راہ لینا پڑی۔

اسرائیل امید کر رہا تھا کہ جنوبی لبنان کی فوج کی صورت میں تیار کردہ ’طفیلی ملیشیا‘ نامکمل صہیونی ایجنڈا پورا کرے گی، لیکن اسرائیلی گٹھ جوڑ سے بنائی جانے والی ملیشیا آناً فاناً زمین بوس ہو گئی۔ افغان صدر اشرف غنی کے ڈالروں کے انبار سمیت مبینہ فرار کی طرح جنوبی لبنان کی فوج کے ارکان بھی دم دبا کر اسرائیل بھاگنے لگے۔

گیارہ ستمبر کے حملوں کا بدلہ لینے کے لیے مسلط کی جانے والی دو امریکی جنگوں میں افغانستان پر حملہ پہلی جنگ تھی۔ اس کے بعد 2003 میں عراق پر چڑھائی امریکہ کی دوسری انتفامی کارروائی تھی۔

امریکہ نے ان جنگوں میں کئی ٹریلین ڈالر جھونک دیے۔ ان میں کم سے کم  آٹھ لاکھ نفوس براہ راست یا بلواسطہ ہلاک ہوئے اور لاتعداد کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا۔

 امریکہ کی ’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘ شام، لیبیا اور یمن سمیت دنیا بھر میں حکمرانوں کی تبدیلی کے شوق میں لڑی جانے والے امریکہ کی پراکسی وار کی داستان خونچکاں اور ان پر اٹھنے والے اخراجات پہلی دو جنگوں سے ہٹ کر تھے۔

عراق اور افغانستان آج بھی اس یادگار کے طور پر دنیا کے نقشے پر موجود ہیں جہاں امریکہ اپنی استعماری خواہش کو پھلتا پھولتا نہیں دیکھ سکا۔

عراق پر حملے کے لیے بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کی تلاش وتباہی کا بہانہ گھڑا گیا۔ امریکہ اور اس کے اتحادی تادم تحریر تباہی پھیلانے والے یہ ہتھیار تلاش کرنے میں ناکام ہیں۔ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے درد میں امریکہ  نے عراق کے اندر ایسے انسانیت سوز مظالم ڈھائے کہ جن کے ذکر سے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔

 مہنگی ترین جمہوریت کے نام پر دنیا کی بدترین آمریت عراق کا مقدر بنا دی گئی۔ افغانستان پر حملے کا جواز وہاں کی خواتین کی آزادی کو بنایا گیا۔ یہ دلیلیں اور جواز دراصل عوام کو دھوکہ دینے کے لیے گھڑے گئے۔

جارج بش کی انتظامیہ میں بکثرت پائے جانے والے نیو کنزرویٹوز کے اصل اہداف کچھ اور تھے۔ بش انتظامیہ نے اگلی صدی تک کے لیے امریکی چودراہٹ قائم کرنے کی خاطر افغانستان اور عراق پر جنگیں مسلط کیں۔

امریکی حکومت میں ایسے نیو کنزرویٹو کی بہتات رہی ہے کہ جو امریکہ اور اسرائیل کے مفادات میں کوئی فرق محسوس نہیں کرتے۔ ان کی خواہش تھی کہ امریکہ، اسرائیل کے توسیع پسندانہ عزائم کی راہ میں مزاحم ہر دوسرے ملک کو غیر مستحکم اور تباہی سے دوچار کرے۔

حملہ آور امریکی فوج کو ایسے سبز باغ دکھائے گئے کہ جن ملکوں پر وہ حملہ آور ہوں گے وہاں کے عوام ’مٹھائی اور پھولوں‘ سے ان کا استقبال کریں گے۔ امریکی منصوبہ سازوں کو امید تھی کہ وہ عراق کو دوسری جنگ عظیم کے بعد جرمنی اور جاپان طرح اپنا فوجی اڈا بنا لیں گے۔

عراق پر حملے کے وقت امریکی نائب صدر ڈک چینی کا یہ قول بہت مشہور ہوا کہ ’مجھے یقین ہے کہ ہم جہاں حملہ آور ہوں گے، وہاں ہمیں نجات دہندہ کے طور پر خوش آمدید کہا جائے گا۔‘ عراق کو سرمایہ داری نظام کی ایک ایسی لیبارٹری بنانا مقصود تھا کہ جہاں کیے جانے والے تجربات امریکہ بعد میں دنیا کے دوسرے ملکوں میں دہرا سکے۔

امریکہ کی ان جنگوں نے ایک طرف نہ ختم ہونے والا نقصان پہنچایا بلکہ آج بھی واشنگٹن کی جنگی مشین شام اور ایران کے عام لوگوں کو اقتصادی پابندیوں کے ذریعے نشانہ بنا رہی ہے۔ امریکہ کی ناکامی اور زوال نوشتہ دیوار بنے ہوئے ہیں۔

کئی دہائیوں سے اسرائیلی انٹلیجنس اداروں سے متعلق صہیونی اخبار ’ہارٹز‘ کے لیے رپورٹنگ کرنے والے یوسی ملمین کہتے ہیں کہ ’افغانستان میں طالبان کی تیز رفتار پیش قدمی سے اسرائیل کو یہ سبق ملتا ہے کہ مشرق اوسط میں اب امریکہ کی مداخلت کا دور لد چکا ہے۔‘

تاہم انہیں ابھی بھی یہ امید ہے ’کہ اسرائیل ساری صورت حال سے بالواسطہ طور پر فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ وہ خود کو طالبان کی پیش قدمی سے خائف امریکہ کی ہم خیال خلیجی ریاستوں کا محافظ بنا کر پیش کر سکتا ہے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

یوسی ملمین سمجھتے ہیں ’کہ بحر ہند اور بحر متوسط کی طاقت کے طور پر اسرائیل اپنی پوزیشن کو خلیجی ریاستوں کے لیے مضبوط تزویراتی سپورٹ اور عسکری حمایت میں تبدیل کر سکتا ہے کیونکہ یہ ریاستیں بیناد پرست دہشت گردی اور ایران سے نالاں دکھائی دیتی ہیں۔‘

اسرائیل، امریکہ کی جگہ لے سکتا ہے۔ یہ خیال اس مغالطے پر مبنی ہے کہ شاید تل ابیب،  واشنگٹن کے بغیر بھی اتنا ہی طاقتور ہے، جتنا وہ خود کو دنیا کے سامنے پیش کرتے وقت سمجھتا ہے، جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔

اسرائیلی قیادت کو بخوبی اندازہ ہے کہ ان کا ملک فوجی برتری، سیاسی اور سفارتی سرپرستی میں مکمل طور پر امریکہ کا دست نگر ہے۔ اسی لیے امریکی حمایت کی خاطر اسرائیلی ہمہ وقت اپنی توانائیاں صرف کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

ملمین ایک ناقابل عمل خیال پیش کرتے ہوئے یہ بھی کہتے ہیں ’کہ امریکہ کی افغانستان میں ناکامی سے اسرائیل بالکل اسی طرح فائدہ اٹھا سکتا ہے جیسا کہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے نائن الیون کے حملوں کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال کو اپنے حق میں استعمال کرنے کی منصوبہ بندی کی تھی۔‘

دنیا جب ورلڈ ٹریڈ سینٹر میں جہازوں کو ٹکراتے دیکھ رہی تھی تو نتین یاہو اسے ’بہت خوب‘ کہہ کر اس خیال میں مست تھے کہ ’یہ مناظر دیکھنے کے بعد دنیا کو اسرائیل سے ہمدردی پیدا ہو گی۔‘

 افغانستان سے انخلا کی صورت میں لگنے والے چرکوں کا غم غلط کرنے کے لیے امریکہ کو اسرائیل کے اولین دشمن ایران پر حملے کا مشورہ دیا جا رہا ہے۔

یروشلیم انسٹی ٹیوٹ فار سٹرٹیجی اینڈ سکیورٹی کے نائب صدر کرنل ریٹائرڈ ایرن لرمین کہتے ہیں ’کہ ایران بین الاقوامی سمندر میں اشتعال انگیز کارروائیاں کر رہا ہے، یمن میں اس کی پراکسی [حوثی باغی] سعودی عرب پر راکٹ فائر کر رہے ہیں۔ تہران اپنے جوہری پروگرام کو تیزی سے ترقی دے رہا ہے۔ ایسے میں مذاکرات کی میز سجا کر ایران کے ہاتھ مضبوط کرنے کی بجائے اس کی جارحیت کا ٹھوس جواب دیا جانا چاہیے۔‘

اسرائیل، ایرانی بحری جہازوں پر حملوں اور اس کے جوہری سائنس دانوں کو صفحہ ہستی سے مٹانے جیسے اقدامات کھلے عام کر رہا ہے۔ کرنل لرمین کہتے ہیں کہ غزہ میں فلسطینیوں کے خلاف زیادہ وحشت ناک کارروائیاں کی جائیں تاکہ نظریاتی جنگ میں فتح کا تاثر قائم رہے۔

بہت سے دوسرے تجزیہ کار سمجھتے ہیں کہ افغانستان میں امریکی شکست اسرائیل کے لیے اپنا سافٹ امیج بنانے کا سنہرہ موقع ہے۔ اسرائیلی صحافی باراک ریوڈ نے اپنے حالیہ کالم میں تجویز دی ہے ’کہ امریکہ کو لگنے والے زخموں پر مرہم رکھنے کے لیے اسرائیل کچھ افغانوں کو اپنے ہاں قیام کی پیش کر کے ان کا دل جیتنے کی کوشش کرے۔‘

ماضی میں اسرائیل سے شام سے مہاجرین کو اپنے ہاں قبول کرنے کی باتیں کی جاتی رہی ہیں کیونکہ تل ابیب خود وہاں [شام] القاعدہ سے روابط رکھنے والے جہادی گروپوں کی مدد کرتا رہا ہے۔

موجود اسرائیلی صدر کا بیان بھی ریکارڈ پر موجود ہے جس میں ان کا کہنا تھا ’کہ پناہ کی تلاش میں ہزاروں پناہ گزینوں کی موجودگی میں اسرائیل لاتعلق نہیں رہ سکتا۔‘

لیکن اس کے باوجود اسرائیل نے شام سے کسی پناہ گزین کو اپنے ہاں آباد نہیں کیا اور نہ ہی فلسطین میں نسلی تطہیر کے شکار مہاجرین کو اپنے اصل وطن لوٹنے دیا کیونکہ وہ یہودی نہیں تھے۔

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ