عمران کا فیض ۔۔

پاکستان کی اعلیٰ ترین انٹیلی جنس ایجنسی کے سربراہ کی تعیناتی پر منتخب وزرائے اعظم اور ادارے کے درمیان اتفاق رائے اکثر مشکل ثابت ہوا ہے۔ اس مرتبہ کیا کچھ مختلف ہوگا؟

مئی 2021 میں وزیر اعظم عمران خان آئی ایس آئی سکیرٹریٹ کے دورے پر آرمی چیف جنرل  قمر جاوید باجوہ اور  آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل فیض حمید کے ہمراہ (ریڈیو پاکستان)

لگتا ہے وزیراعظم عمران خان بھی نواز شریف اور بےنظیر بھٹو کے نقشِ قدم پر چل پڑے ہیں۔

مئی 1989 میں وزیراعظم بےنظیر بھٹو نے اس وقت کے طاقتور آئی ایس آئی چیف جنرل حمید گل کو عہدے سے ہٹا کر ایک ریٹائرڈ جنرل شمس الرحمان کَلُّو کو آئی ایس آئی کی سربراہی سونپی۔

جنرل کَلّو پیپلز پارٹی کی طرف واضح اور گہرا جھکاؤ رکھتے تھے، بےنظیر بھٹو کے فیورٹ تھے جبکہ سابق آرمی چیف جنرل ضیا الحق کے معتوب تھے۔ جنرل ضیا نے اس وقت جنرل شمس الرحمان کَلُو کو جبری ریٹائر کر دیا جب انہوں نے جنرل ضیا کو صدر ہوتے ہوئے آرمی چیف کی وردی اتارنے کا مشورہ دیا تھا۔

دوسری جانب جنرل حمید گل جنرل ضیا کے پسندیدہ تھے اور اس زمانے میں افغان پالیسی کے کرتا دھرتا، افغان طالبان (مجاہدین) کے ہمدرد تھے۔ لیکن ’اپنے بندے‘ کو آئی ایس آئی چیف لگانا منتخب وزیراعظم بےنظیر بھٹو کی پہلی اور نومولود حکومت کی فاش غلطی ثابت ہوئی۔

جنرل ضیا کی وفات کے محض ایک ہی سال کے اندر ان کے لگائے گئے حاضر سروس جنرل کو ہٹا کر ’اپنی مرضی کا بندہ‘ اور ایک ریٹائرڈ جنرل کو انٹیلی جنس ایجنسی کا سربراہ لگانے سے حکومت اور فوج کے درمیان فاصلے پیدا ہوئے۔ خیال ہے کہ نتیجتاً جنرل اسلم بیگ کے ماتحت فوج میں ملٹری انٹیلی جنس (ایم آئی)، آئی ایس آئی کے مقابلے میں مضبوط ہونا شروع ہوئی۔

ایم آئی کی سربراہی جنرل اسد درانی کے ہاتھ میں تھی اور دیکھتے ہی دیکھتے طاقت اور اختیارات کا توازن ایسا بدلا کہ اس وقت کی ملٹری انٹیلیجنس آئی ایس آئی اور سویلین انٹیلی جنس بیورو (آئی بی) دونوں سے کہیں زیادہ طاقتور ہو گئی۔

آئی ایس آئی کی سربراہی، جیسا کہ پہلے عرض کیا، جنرل ریٹائرڈ شمس الرحمان کلو کے ہاتھ میں تھی جبکہ آئی بی کو آصف علی زرداری کے پرانے دوست میجر ریٹائرڈ مسعود شریف خان خٹک چلا رہے تھے۔ حالات نے اتنی تیزی سے پلٹا کھایا کہ اگلے ہی سال 1990 میں جنرل اسلم بیگ کی ماتحتی میں جنرل اسد درانی کے ذریعے بےنظیر بھٹو کی حکومت کو چلتا کر دیا گیا اور ستم ظریفی دیکھیے کہ آئی ایس آئی میں ’اپنی مرضی کا بندہ‘ لگانا بھی وزیراعظم بےنظیر کو کوئی فائدہ نہ پہنچا سکا۔ فوج کے اندر بھی وزیراعظم کے لگائے گئے آئی ایس آئی سربراہ کو ’سیاسی تعیناتی‘ کے طور پر دیکھا جانے لگا تھا اور ایجنسی کے اندر مختلف گروہ بندیاں ہو چکی تھیں۔

تاریخ کو ہلکا سا فاسٹ فارورڈ کریں۔ نواز شریف کی وزارت عظمٰی کا پہلا دور آ جاتا ہے۔ وزیراعظم نواز شریف جنرل جاوید ناصر کو آرمی چیف جنرل آصف نواز سے مشاورت کے بغیر ڈی جی آئی ایس آئی مقرر کر دیتے ہیں۔ اس سے حکومت اور فوج کے درمیان پہلے سے پیدا شدہ خلیج گہری ہونا شروع ہو جاتی ہے جس کا خمیازہ کچھ عرصے بعد حکومت برطرفی کی صورت میں بھگتنا پڑتا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

تھوڑا سا مزید فاسٹ فارورڈ، نواز شریف کی وزارتِ عظمٰی کا دوسرا دور آ جاتا ہے۔ ایک بار پھر ایک اور وزیراعظم اصرار کرتا ہے کہ آئی ایس آئی میں اسے ’اپنی مرضی کا بندہ‘ چاہیے۔ جنرل ضیا الدین بٹ کو اس وقت کے آرمی چیف کی منشا اور ان کے بھیجے گئے تین ناموں کے برعکس، آئی ایس آئی کا سربراہ لگا دیا جاتا ہے اور یہیں سے وزیراعظم اور آرمی چیف کے درمیان بداعتمادی کی فضا پیدا ہونا شروع ہو جاتی ہے۔

بعد میں آنے والے آرمی چیف جنرل پرویز مشرف بھی اہم فائلوں، حساس معاملات اور اہم اسائنمنٹس کو جنرل ضیا الدین بٹ کی سربراہی میں آئی ایس آئی سے دور کرنا شروع کر دیتے ہیں اور حالات اس نہج تک پہنچ جاتے ہیں کہ ملٹری انٹیلی جنس اور آئی ایس آئی دونوں ایک دوسرے کے سربراہوں کے فون ٹیپ کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ نواز شریف سے متعلق فوج میں یہ بدگمانی بھی پائی گئی کہ بطور وزیراعظم وہ غیرضروری طور پر سینیئر فوجی تقرریوں اور تعیناتیوں میں مداخلت کرنا شروع ہوگئے تھے۔

لگتا تو یہی ہے کہ تاریخ ایک بار پھر اپنے آپ کو دہرا رہی ہے۔ لگتا تو یہی ہے کہ تاریخ کا محض ایک ہی سبق ہے کہ تاریخ سے کسی نے کچھ نہیں سیکھا۔ ایک بار پھر ایک اور وزیراعظم مصر ہے کہ آئی ایس آئی کا سربراہ اس کی مرضی و منشا کے مطابق ہونا چاہیے۔ کیا اس بار نتائج مختلف ہوں گے؟

کیا اس بار حالات مختلف ہیں؟ نواز شریف نے سینیئر فوجی تقرریوں اور تعیناتیوں میں غیر ضروری مداخلت کر کے خود اپنے پاؤں پر کلہاڑی ماری۔ آج بھی رولز آف بزنس تو یہی کہتے ہیں کہ فوج (اور ائیر فورس، نیوی سمیت) کے تھری سٹار اور اس سے اوپر (اور مطابقت) کی تمام تقرریوں پر وزیراعظم کے دستخط ہوں گے۔

پریکٹس بھی یہی ہوتا ہے لیکن اگر وزیراعظم کی مداخلت بڑھ جائے تو افواجِ پاکستان کا نظام بطور اداروں کے درہم برہم ہو جائے گا۔ فوج میں اعلیٰ ترقی کے لیے باقاعدہ ایک بورڈ بیٹھتا ہے جو میرٹ پر کسی بھی افسر کی پروموشن کا تعین کرتا ہے جس نے آگے جا کر سینیئر تقرریوں اور تعیناتیوں کی شکل اختیار کرنی ہوتی ہے۔ اگر تھری سٹار فور سٹار تقرریوں پر وزیراعظم کی مداخلت بڑھنے لگے تو فوج کے اندر کششِ ثقل کا مرکز آرمی چیف کی بجائے وزیراعظم کی سیاسی کرسی بن جائے گی جس سے ادارے کے سیاسی تسلط کے زیرِ اثر ہونے کا خوفناک تاثر قائم ہو جائے گا۔

اس کے لامحالہ ملکی سلامتی پر سنگین اثرات مرتب ہوں گے۔ ایسی صورت میں افسران کی ترقیوں کا مرکز بھی چیف کی بجائے سیاسی دفتر بن جائے گا اور افسران کی ترقی، تقرری اور تعیناتی کا واحد ذریعہ میرٹ کی بجائے سیاسی شخصیات کی خوشنودی ٹھہرے گا۔ اسی سے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ یہ سب کس قدر سنگین اثرات کا حامل ہے۔

بدقسمتی سے یہی ان عوامل میں سے ایک ہے جس نے قیامِ پاکستان سے لے کر آج تک پولیس جیسے ادارے کو بھی ناکارہ بنا دیا۔ ہر حکومت، ہر سیاسی جماعت نے پولیس کے ادارے کے افسران کو اپنے سیاسی مقاصد کی خاطر استعمال کیا، پولیس میں ترقی اور تعیناتیاں حکومتِ وقت اور بااثر سیاسی شخصیات کے مرہونِ منت ہونے لگیں اور آج اس کا نتیجہ سب کے سامنے ہے۔ پولیس کا ادارہ مکمل گَل سڑ چکا ہے اور ہر آنے والی حکومت اصلاحات کے نام پر اس میں اپنے اثرورسوخ کی جڑیں مضبوط کرنے لگتی ہے۔

عوام کے تحفظ کو چھوڑ کر پولیس کا کام سیاسی شخصیات کی خدمت اور ان کے لیے الیکشن جیتنے کے بندوبست تک محدود ہو کر رہ گیا۔ ستم ظریفی ہے کہ آئی ایس آئی جیسے باوقار اور ملکی سلامتی کے ضامن ادارے اور دنیا کی بہترین ایجنسیوں میں سے ایک کو ایک منتخب وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے ہی 1975 میں سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا شروع کیا اور یہی عمل اس قدآور سیاسی رہنما کے انجام کا آغاز بھی ثابت ہوا۔ آج وزیراعظم عمران خان بعینہ وہی غلطیاں بظاہر دہرا رہے ہیں جو ان کے پیش رو بھگت چکے ہیں۔

یہ بات مدنظر رکھنا انتہائی اہم ہے کہ افواجِ پاکستان اور ان کے ذیلی ادارے، خاص کر پاک فوج اور آئی ایس آئی کسی ایک سرکار کے ادارے نہیں بلکہ ریاستی اور قومی ادارے ہیں۔ اگر کوئی بھی حکومت کسی بھی وجہ کو جواز بنا کر ان میں سیاسی مداخلت کرے گی تو عوام کے ساتھ ساتھ دیگر سیاسی جماعتوں کا اعتماد بھی ان اداروں پر متزلزل ہو گا۔

وزیراعظم بننے کے لیے عمران خان کے چند اہم نعروں میں سے ایک نعرہ اداروں کی مضبوطی اور خودمختاری کا ہے تاکہ ادارے ہر قسم کے تسلط سے پاک ہو کر ریاستی اور عوامی فلاح کے لیے ایجنڈے پر کام کر سکیں۔ لیکن اگر عمران خان خود اپنے دیگر وعدوں سے یوٹرن کی طرح اس اہم ترین عہد سے بھی روگردانی کریں گے تو بعید نہیں کہ پیشرو مثالوں کی طرح تاریخ میں بےفیض ہی گردانے جائیں۔

 

نوٹ: یہ تحریر مصنفہ کی ذاتی رائے پر مبنی ہے، ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

whatsapp channel.jpeg

زیادہ پڑھی جانے والی نقطۂ نظر