وسطی ایشیا کی تاریخی ریاست بخارا کی یاد دلاتی ایبٹ آباد کی شہزادہ مسجد

انیسویں صدی کے شاہکار شہزادہ ہاؤس اور شہزادہ مسجد ڈیڑھ صدی پرانے ایبٹ آباد کی یاد دلاتے ہیں جب کبھی ریاست بخارا کے باغی شہزادہ سید عبد الملک یہاں رہا کرتے تھے۔

ایبٹ آباد میں اہم سرکاری عمارتوں کے بیچ واقع تاریخی شہزادہ ہاؤس وسط ایشیائی امارتِ بخارا کی یاد دلاتا ہے جسے برطانوی راج کے دوران انگریزوں نے وہاں کے جلا وطن ولی عہد سید عبد الملک کے لیے تعمیر کیا تھا۔

اس گھر میں سید عبد الملک نے اپنی باقی زندگی کے آیام اہل و عیال سمیت گزارے۔

جغرافیائی اور اقتصادی اہمیت کے سبب ہمیشہ سے تجارت اور ثقافت کا مرکز رہنے والی وسطی ایشیائی موجودہ مملکت ازبکستان کے شہر بخارا کا دوسرا تعارف وہاں کی تاریخی خوبصورت عمارات ہیں جن میں کاروان سرائے، مسافر خانے، مساجد، مدارس، مزارات اور محلات قدیم تعمیراتی شاہکاروں کی صورت میں اپنے معماروں کی بلند ہمتی اور کاریگری کی دلیل دیتی آئی ہیں۔ 

ممتاز محقق اور تاریخ دان پروفیسر منیر احمد سواتی نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا: ’اگر بخارا کی تاریخ پر نظر دوڑائی جائے تو قرونِ اولیٰ میں ایرانی تہذیب کا حصہ رہنے والا یہ شہر قرونِ وسطیٰ میں شاہراہ ریشم کا مرکز قرار پاپا۔

مورخین بخارا کی جدید تاریخ کا آغاز انیسویں صدی سے کرتے ہیں جب یہ شہر سویت یونین اور برطانیہ کے درمیان گریٹ گیم کا محور بنا۔

پروفیسر منیر احمد سواتی کے مطابق آٹھویں صدی عیسوی تک زرتشت مذہب کا مرکز کہلانے والے اس شہر کو 706 عیسوی میں مسلمان فاتح قتیبہ بن مسلم اموی دور حکومت میں فتح کر لیتا ہے۔ 

علم و دانش کا گہوارہ یہ شہر خوبصورتی میں اپنی مثال آپ تھا جو نویں صدی عیسوی میں سامانی سلطنت کا دار الحکومت قرار پایا۔

تیرھویں صدی کے آغاز پر شمال مغربی ایشیا کی چراگاہوں سے اٹھنے والے چنگیز خان نے اس شہر کو تخت و تاراج کیا۔ بعدازاں منگولوں کے سو سال بعد تیمور کے عروج سے بخارا پھر سے آباد ہوا جہاں تیموری حکمران اور خانانِ بخارا کی سلطنتیں قائم ہوئیں اور ایک بار پھر ترقی و تعمیر کی نئی داستانیں یہاں رقم ہوئیں۔

اٹھارویں صدی کے اواخر میں بخارا کو امارت بنایا گیا جس کے 1920 تک آٹھ امیر گزرے مگر جب 1860 میں امیر مظفر بن نصراللہ نے تخت سنبھالا تو سوویت یونین نے اپنے توسیع پسندانہ عزائم کو حاصل کرنے کے لیے وسط ایشیا کی ان مسلمان ریاستوں کی طرف پیش قدمی کی اور 1866 میں بخارا ان کے عتاب کا شکار ہوا۔ امیر مظفر جب مزاحمت میں کمزور ہوئے تو انہوں نے 14 ستمبر 1867 کو سوویت یونین کے نمائندہ ترکمانستان کے پہلے گورنر جنرل کونسٹنٹین پیٹرووچ وان کاف مین سے امن معاہدہ کر کے سر تسلیم خم کر لیا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

پروفیسر منیر احمد سواتی کی تحقیق کے مطابق: ’سوویت یونین سے امن معاہدہ کرنے کے بعد امیر مظفر بن نصر اللہ ایک غیر مقبول حکمران بن گئے جب کہ امارت کے ولی عہد اور قارشی کے بیگ  سید عبدالملک جو روسی توسیع پسندانہ عزائم کے سخت مخالف تھے کو روساِ امارت کی حمایت بھی حاصل ہوگئی تھی جس کو غنیمت جانتے ہوئے سید عبدالملک نے شہرِسبز میں اپنی افواج کو جمع کر کے والد امیر مظفر بن نصر اللہ کے خلاف بغاوت کر دی۔‘

بیٹے کی بغاوت کو کچلنے کے لیے امیر مظفر الدین نے سوویت یونین کے ترکستان میں تعینات گورنر جنرل وان کاف مین سے فوجی مدد مانگی جس پر امیر مظفر کو تحفظ دینے کے لیے  جنرل ابراموف کی قیادت میں ایک فوجی دستہ روانہ کیا گیا۔

شہزادہ سید عبد الملک اور اس کی باغی فوج کو قارشی میں روسیوں اور امارت کی متحدہ فوج سے  21 اکتوبر 1868 کو شکستِ فاش ہوئی اور انہیں اپنی آبائی خانگی ریاست چھوڑ کر کاشغر کے ذریعے افغانستان فرار ہونا پڑا جہاں انہوں نے کچھ مہینے قیام کیا۔ بعدازاں، انہوں نے برطانوی حکومت کی برصغیر میں قائم نوآبادیِ ہندوستان کے شہر پشاور میں تاجِ برطانیہ کی دعوت پر آ کر عارضی سکونت اختیار کر لی۔

شہزادہ عبدالملک کیونکہ پشاور کی گرمی برداشت نہیں کر سکتے تھے تو انگریز نے اپنے قائم کردہ ہل سٹیشن ایبٹ آباد کی ایک انتہائی پُرفضا اور صحت بخش جگہ پر پرتعیش بنگلہ تعمیر کروا کر انہیں اہل و عیال سمیت یہاں منتقل کیا۔ حالانکہ بنگلہ تو برطانوی طرزِ تعمیر کا تھا مگر جب شہزادہ عبدالملک یہاں سکونت پذیر ہوئے تو انہوں نے انگریزی حکام کی طرف سے دی جانے والی قطعہ اراضی پر ایک پرشکوہ وسطیٰ ایشیائی فن تعمیر کی حامل مسجد اور مدرسہ تعمیر کروایا جس کا مفصل زکر ڈاکٹر شیر بہادر نے اپنی کتاب ’تاریخ ہزارہ‘ میں کیا ہے۔

پروفیسر منیر انڈپینڈنٹ اردو کو بتاتے ہیں کہ  ’شملہ پہاڑی کے دامن میں طلسماتی مقام پر واقع بخارا کی کلیان اور بالا حوض مسجد کی جھلک لیے ہوئے عبدالملک کے جمالیاتی ذوق کی آئینہ دار یہ تاریخی مسجد یہاں کا امتیازی نشان بن چکی ہے۔ منفرد تعمیراتی حسن کی حامل اس خوبصورت مسجد کی تعمیر شہزادہ سید عبد الملک نے 1895 میں کروائی اور اسی مناسبت سے اس کا نام شہزادہ مسجد رکھا گیا ہے۔‘

مسجد کا داخلی حصہ پھولوں کے نقوش اور قرآنی خطاطی سے آراستہ ہے جب کہ صحن میں ایک بڑا حوض اور وضو خانہ بنایا گیا ہے۔ مسجد کو قومی ورثہ قرار دے کر محکمہ اوقاف کے حوالے کیا گیا تھا جس نے اس کی تزئین و آرائش کا بیڑا اٹھایا۔ یہ مسجد عبدالملک کے مذہب سے لگاؤ کی علامت ہے جہاں وہ باجماعت نماز پڑھنے کو ترجیح دیتے اور قرآن  کی تلاوت کیا کرتے تھے۔

اسی مسجد کے احاطے میں موجود قبرستان میں شہزادہ سید عبد الملک اپنے خاندان کے دیگر افراد کے ساتھ مدفون ہیں۔ شہزادہ کی قبر سے متصل قبلہ کی طرف ان کے بڑے بیٹے شہزادہ سکندر کی قبر ہے جو 1969 میں وفات پا گئے تھے۔  بائیں طرف ان کے چھوٹے بیٹے شہزادہ تیمور اور نواسے شہزادہ محمود کی قبریں ہیں جب کہ دائیں طرف ان کی چھوٹی بیٹی بی بی صاحبہ جو کہ سابق والیِ سوات سید عبدالجبار شاہ کی اہلیہ تھیں مدفون ہیں۔ اس کے علاوہ جن تین قبروں پر نام نقش کیے گئے ہیں، ان میں عبدالملک کی تین بیویوں کی قبریں شامل ہیں۔

اس کے علاوہ ایک بے نام قبر بی بی صاحبہ اور سابق والیِ سوات سید عبدالجبار شاہ کے بیٹے شاہ شجاع کی قیاس کی جا سکتی ہے۔

دہائیوں سے مقفل رہنے کی وجہ سے ویرانی کی تصویر بنے شہزادہ بخارا ہاؤس کے درودیوار پر گَرد جم گئی ہے۔

وہاں تعینات چوکیدار سے جن انڈپینڈنٹ اردو نے بنگلے کے متعلق معلومات لینا چاہی تو انہوں نے بتایا کہ شہزادہ عبدالملک کے دونوں بیٹوں نے شادیاں نہیں کی تھیں جس کی وجہ سے اس لاوارث عمارت کو بعدازاں حکومت نے لیز پر ایک بااثر خاندان کو دے دیا جہاں سیاحوں کے آنے پر مکمل پابندی عائد ہے۔

محقق محمد جبران بتاتے ہیں کہ انیسویں صدی کی شاہکار یہ عمارت ڈیڑھ صدی پرانے ایبٹ آباد کی یاد دلاتا ہے جب کبھی شہزادہ بخارا سید عبد الملک یہاں رہا کرتے تھے۔ شام کے وقت ہزارہ  کے انگریز ڈپٹی کمشنر کے ساتھ گھڑ سواری کرتے ہوئے شملہ پہاڑی چلے جاتے  اور اپنے آبائی وطن بخارا کی یاد میں شعر کہتے۔

یہ عمارت آج بھی اسی شان و شوکت سے مزین ہے جیسے ابھی شہزادہ بخارا شملہ پہاڑی سے واپس گھڑ سواری کرتے آتے  ہوں گے  مگر اس کے دروازوں پر پڑے تالے اس کے خاموش قتل کی نوید سنا رہے ہیں۔

ایبٹ آباد کے سماجی حلقے اس موقع پر کہتے ہیں کہ اس تاریخی اور ثقافتی ورثے کی ذمہ داری محکمہ آثار قدیمہ کا قانونی فریضہ ہے جس میں وہ مکمل ناکام نظر آتے ہیں کیونکہ یہ عمارت ویرانی کا سا منظر پیش کر رہی ہے حالانکہ اس کی مناسب نگہداشت کر کے عمارت کو شہر کا ثقافتی ورثہ قرار دے کر فنونِ لطیفہ سے متعلق نمائشوں کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے جس سے تاریخ، سماجی علوم کے طلبہ اور سیاح مستفید ہوں گے۔ 

زیادہ پڑھی جانے والی ملٹی میڈیا