گوادر میں کوہ باطل پر تاریخی آثار کو نقصان کس نے پہنچایا؟

گوادر کے کوہ باطل پر موجود سولہویں صدی کے پرتگالی دور کے ایک مورچہ نما قلعے اور اس سے منسلک چوکی کے تاریخی آثار کو دانستہ نقصان پہنچانے کی تصدیق ہوئی ہے۔

دسمبر 2013 کی اس تصویر میں لوگ گوادر کے ساحل پر زلزلے کے بعد نمودار ہونے والے ایک جزیرے پر جمع ہیں۔ (فائل فوٹو: اے ایف پی)

بلوچستان کے ساحلی اور تاریخی شہر گوادر کے مقام کوہ باطل پر سولہویں صدی کے پرتگالی آثار قدیمہ کو دانستہ نقصان پہنچائے جانے کی اطلاعات ہیں، جس کی تصدیق مقامی افراد نے کی ہے۔

ٹوئٹر پر ایک صارف نوفل شاہ نے سب سے پہلے اس جانب نشاندہی کروائی۔ انہوں نے لکھا تھا: ’سابق صدر پرویز  مشرف کے دور میں آثار قدیمہ کی سائٹ کو لوٹ لیا گیا۔ اس میں کوہ باطل پر سولہویں صدی کا پرتگالی قلعہ بھی شامل تھا جو اب وہاں موجود نہیں۔‘

انڈپینڈنٹ اردو نے اس خبر کی تصدیق کے لیے گوادر کے مقامی افراد اور ماہرینِ آثار قدیمہ سے رابطہ کیا تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ کوہ باطل کے تاریخی اۤثار کو کس نے اور کیوں نقصان پہنچایا ہے۔

گوادر کے سماجی کارکن اور تاریخی امور سے واقفیت رکھنے والے ناصر رحیم نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’سابق صدر پرویز مشرف کے دور میں کوہ باطل سے گوادر پورٹ کی تعمیر اور سمندر کے سامنے بند باندھنے کے لیے کچھ پتھروں کا استعمال کیا گیا تھا۔‘ 

البتہ ماہرین کے مطابق یہاں قلعہ نہیں تھا کیوں کہ پرتگالیوں کو یہاں قدم جمانے کا موقع کبھی نہیں مل سکا، البتہ پتھروں سے بنا ایک ڈھانچہ ضرور تھا جسے مقامی لوگ پرتگالیوں کا مورچہ کہتے تھے۔ 

ناصر نے سولہویں صدی کے تاریخی آثار کو دانستہ نقصان پہنچانے کی تصدیق کرتے ہوئے مزید تفصیلات میں بتایا کہ ’کوہ باطل پر ایک مورچہ تھا جسے پرتگالیوں کا مورچہ کہا جاتا تھا۔ مورچے کی تعمیر میں تراشیدہ پتھر استعمال ہوئے تھے۔ ان پتھروں کو وہاں سے لا کر گوادر پورٹ اور سمندر کے سامنے بند باندھنے کے لیے استعمال کیا گیا۔‘ 

ناصر رحیم نے اس واقعے پر افسوس کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ بہت بڑا نقصان تھا۔ اس وقت کسی نے توجہ نہیں دی اور ہماری تاریخ کے ایک اہم حصے کو متاثر کیا گیا۔‘

آثارِ قدیمہ میں بڑے پتھروں کی موجودگی اور پھر ان کی پراسرار گمشدگی کی تصدیق اُس وقت کے تحصل ناظم حمید حاجی بھی کرتے ہیں۔ انہوں نے بتایا: ’بڑے پتھر کافی عرصے تک کوہ باطل پر شمال مشرق کی جانب پڑے ہوئے تھے، جسے لوگ پرتگالیوں کا مورچہ کہتے تھے۔ یہ درست ہے کہ پرویز مشرف کے دور حکومت میں پرتگالی مورچہ ختم کر دیا گیا، تاہم یہ پتھر کہاں استعمال ہوئے اس کا علم نہیں ہے۔‘

2004 میں گوادر کے تحصیل ناظم رہنے والے حمید حاجی تسلیم کرتے ہیں کہ ان کے دور میں محکمہ آب پاشی نے تعمیرات شروع کی تھیں مگر اس وقت یہ مورچہ موجود تھا۔ انہوں نے مزید کہا: ’میرے اندازے کے مطابق نواب اکبر بگٹی کی موت کے بعد یہ مورچہ ختم کیا گیا، تاہم کوہ باطل پر پرتگالیوں کا بنایا ہوا بند ابھی تک موجود ہے، جو پینے کے پانی یا کاشت کاری کے لیے بنایا گیا تھا لیکن اس کے آثار بہت خستہ حال ہو چکے ہیں۔‘

مقامی طور پر پرتگالیوں کے مورچے کے نام سے جانے والی تاریخی عمارت سے پتھر اٹھائے جانے کی ایک تصدیق 2005 سے 2009 کے دوران گوادر کے ناظم رہنے والے ماجد سہرابی بھی کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’کوہ باطل سے پتھر اٹھانے کی بات درست ہے، تاہم جب میں ناظم تھا تو میں نے ان کا کام بند کروا دیا تھا۔‘

ماجد نے بتایا: ’جب حفاظتی بند کی تعمیر کا معاملہ درپیش تھا تو میں نے پہاڑ کے ایک مخصوص حصے سے پتھر اٹھانے کی اجازت دی تھی۔ یہ ایک طویل معاملہ تھا۔ اس وقت بلدیہ کے پاس قانون نہیں تھا اور گوادر ڈویلپمنٹ اتھارٹی نے ٹھیکے دیے تھے، جس میں اس پہاڑ کے پتھر اٹھائے گئے۔‘

آثار قدیمہ کی اہمیت اور تاریخ کو یاد کرتے ہوئے ماجد نے بتایا کہ ’وہ ہمارے لیے یادگار تھے۔ ہماری قدرتی خوبصورتی کا حصہ تھے۔ ان کو نقصان پہنچایا گیا۔ یہاں پر بہت سے خوبصورت پتھر موجود تھے۔ میں نے اپنے دور میں کسی کو یہاں سے پتھر اٹھانے کی اجازت نہیں دی۔ میرے ناظم ہونے سے قبل بھی ان کو اٹھایا گیا، تاہم گوادر میں بہت سے آثار تھے جن کے ساتھ چھیٹر خانی کرکے ان کی اصل شکل و صورت کو نقصان پہنچایا گیا۔‘

تاریخی مقامات اور سروے 

بلوچستان کا ضلع مکران اپنے جغرافیائی محل وقوع اور تاریخی گزرگاہ ہونے کے سبب ہمیشہ سے فاتحین کی نظر میں رہا، اس لیے یہاں پر قدیم دور کے آثار پائے جاتے ہیں۔ 

کیچ کلچر کمپلیکس اینڈ میوزیم کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر اور ماہر آثار قدیمہ ایاز ہاشم بزنجو کا ماننا ہے کہ ’مکران میں تاریخی آثار کی حفاظت اور مزید تحقیق کے حوالے سے کام کرنے کی ضرورت ہے۔ مکران اور گوادر میں 1987 میں فرانسیسی، اطالوی اور برطانوی ماہرین آثار قدیمہ نے سروے کیا تھا۔ جنہوں نے مختلف مقامات کا سروے کرکے ان کی رپورٹ مرتب کی تھی۔‘ 

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے بتایا کہ ’کوہ باطل پر قلعے کے آثار کے حوالے سے کوئی تحقیق نہیں ہوئی کیوں کہ بہت سے آثار مٹ چکے ہیں یا ان کی بہت کم باقیات رہ گئی ہیں۔ اس پر مزید کام کرنے کی ضرورت ہے۔‘

آثار قدیمہ کو دانستہ نقصان پہنچانے کی روش پر تبصرہ کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’مکران میں بہت سے تاریخی مقامات ہیں جن کو وقت کے ساتھ نقصان پہنچ رہا ہے۔ ان کی حفاظت اور ان پر تحقیق ہونی چاہیے تاکہ زیر زمین چھپی اس تاریخ کو سامنے لایا جائے۔ گوادر کے کچھ مقامی نوجوانوں نے کوہ باطل کا دورہ کرکے وہاں کچھ آثار دریافت کیے ہیں، جیسے قدیم پتھر اور دیوار کے آثار جو معدومی کی طرف جارہے ہیں۔‘ 

ایاز نے مزید بتایا کہ ’نوجوانوں نے یہاں سے ایرانی اور عمانی دور کے سکّے بھی دریافت کیے ہیں۔ کچھ ایسے پتھر بھی ملے ہیں۔ جو ایک خاص طریقے سے تراشے گئے ہیں، تاہم اس پر مزید تحقیق کی ضرورت ہے کہ یہ آثار کس چیز کے ہیں۔‘ 

انہوں نے کہا کہ ’1987 میں فرانسیسی، اطالوی اور برطانوی آثار قدیمہ کے ماہرین کی رپورٹ میں کوہ باطل پر ایک دیوار دریافت ہونے کا ذکر تھا۔ جو اس وقت سات فٹ تک موجود تھی۔‘

ایاز ہاشم کے مطابق کوہ باطل پر جن مورچوں کے آثار باقی ہیں، ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ سولہویں صدی میں حمل و جیئند نے بنائے تھے، جنہوں نے پرتگالیوں کا مقابلہ کیا تھا۔ 

ایاز ہاشم نے بتایا: ’گوادر اور کیچ میں بہت سے آثار قدیمہ کو خطرات لاحق ہیں۔ دوسری جانب لوگوں میں یہ آگاہی دینے کی بھی ضرورت ہے کہ کسی آثار کو نقصان پہنچانے پر بلوچستان حکومت کے قانون کے تحت سزا اور جرمانہ بھی کیا جاتا ہے۔‘ 

پرتگالیوں کے گوادر پر حملے

16ویں صدی میں جب پرتگالیوں نے بحرِ ہند میں اپنے قدم جمانا شروع کیے تو مکران کے ساحل پر ان کی نظر پڑی اور انہوں نے یہاں کے ساحلی شہروں کو لوٹنا شروع کر دیا جس میں گوادر اور پسنی شامل ہیں۔

ان حملوں کی وجہ یہ تھی کہ مکران کے باشندے عثمانی خلیفہ کے حمایتی تھے، جس کی پرتگالیوں کے ساتھ بڑے پیمانے پر بحری جنگوں کا سلسلہ جاری تھا۔ 

تاریخ کی کتابوں میں ان حملوں کے بارے میں اکا دکا اشارے ملتے ہیں، تاہم اس کی تفصیل موجود نہیں ہے۔

بلوچستان کی سینہ بہ سینہ چلنے والی روایات کے مطابق جب پرتگالیوں نے مکران کے ساحلی شہروں پر حملے کیے تو بلوچوں نے اکٹھے ہو کر ان کا مقابلہ کرنے کی ٹھان لی اور پرتگالیوں کو یہاں قدم جمانے کا موقع نہیں دیا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ مکران کے ساحل پر بعض قبیلے ایسے ہیں جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ان میں پرتگالی خون موجود ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان