پاکستان میں حقیقی کے ساتھ مصنوعی مہنگائی میں ریکارڈ اضافہ

وفاقی ادارہ شماریات کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے ساتھ روز مرہ استعمال کی اشیا مہنگی ہونے سے پاکستان میں مہنگائی کی شرح 22 ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔‘

وفاقی ادارہ شماریات کی جانب سے حال ہی میں جاری کی جانے والی رپورٹ میں کہا گیا کہ پاکستان میں مہنگائی کی شرح 22 ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔

دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی کرونا کی وبا اور اس کے باعث نافذ کیے جانے والے لاک ڈاؤن کے دوران مہنگائی میں اضافہ دیکھا گیا لیکن لاک ڈاؤن ختم ہونے کے بعد بھی کئی اشیا کی قیمتیں نہ تو کم ہو سکیں ہیں اور نہ ہی پہلے والی سطح پر واپس جا سکیں ہیں۔

ہول سیل ڈیلرز کے مطابق مصنوعی مہنگائی کی ایک وجہ تھوک (ہول سیل) مارکیٹ میں اشیا کی قیمتیں رسد اور طلب کے توازن ہونے کے باوجود پرچون میں زیادہ قیمتیں وصول کیا جانا ہے جبکہ دوسری وجہ مڈل مین ہیں جو درآمدی اشیا اور مقامی انڈسٹریز سے تیار مال ذخیرہ کرکے طلب اور رسد کا توازن بگاڑ کر مصنوعی مہنگائی کا موجب بن رہے ہیں۔

علاوہ ازیں پرچون ڈیلرز یہ دعوی بھی کرتے ہیں کہ وہ تھوک میں اشیا ڈالر کی قیمت زیادہ ہونے اور سٹاک نہ ہونے پر مہنگے داموں ملنے والی اشیا کم منافع میں فروخت کرتے ہیں انہیں زیادہ منافع نہیں مل رہا۔

دوسری جانب حکومت حقیقی مہنگائی کو تسلیم کرتے ہوئے مصنوعی مہنگائی پر قابو پانے کے بیانات دے رہی ہے اور پرائس کنٹرول کمیٹیوں کی کارکردگی سے مطمئن ہے۔

تاہم اس معاملہ پر شہریوں کی جانب سے مہنگائی سے تنگ آنے کی دہائی دی جا رہی ہے اور بیشتر شہری کچن نہ چلنے کی شکایت کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

سرکاری رپورٹ کے مطابق ملک میں مہنگائی کی شرح میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

پاکستان میں مہنگائی کی شرح

وفاقی ادارہ شماریات کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے ساتھ روز مرہ استعمال کی اشیا مہنگی ہونے سے پاکستان میں مہنگائی کی شرح 22 ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔‘

ادارہ شماریات کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق سال 2021 کے دوران تسلسل سے مہنگائی کی شرح بڑھتی رہی۔ دسمبر 2021 میں مہنگائی کی شرح میں 12.3 فیصد کا اضافہ ہوا اور نومبر 2021 میں مہنگائی 11.55 فیصد رہی۔ جبکہ دسمبر 2020 میں افراط زر کی شرح آٹھ فیصد رہی تھی اور سال 2020 کے چھ ماہ کے دوران مہنگائی کی شرح 8.63 فیصد رہی۔

کنزیومر رائٹس پروٹیکشن ایسوسی ایشن پنجاب کے ایک عہدیدار عقیل احمد نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’پاکستان میں مہنگائی ہمیشہ سے بڑا ایشو رہا ہے۔ حکومتوں کی جانب سے اقدامات تو کیے جاتے ہیں لیکن مکمل قابو پانا مشکل ہے۔ صارفین کے حقوق کا تحفظ کرنے کے لیے قوانین تو بنائے گئے ہیں لیکن ان پر عمل درآمد کا چیلنج موجود ہے متوسط طبقہ اخراجات پورے نہ ہونے پر مشکلات کا شکار ہیں۔‘

ان کے بقول ’بے روزگار تو ایک طرف ملازم پیشہ افراد بھی ایک ماہ کا بجٹ اپنی آمدن میں نہیں بنا سکتے اور مہنگائی پر قابو پانے کے لیے حکومتی اقدامات غیر سنجیدہ ہیں۔‘

مصنوعی مہنگائی کی وجوہات

ہول سیل ڈیلر انجمن تاجران لاہور کے نائب صدر میاں سلیم نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ بات درست ہے کہ ہول سیل میں قیمتوں کی اشیا طلب اور رسد کے مطابق اوپر نیچے ہوتی رہتی ہیں خاص طور پر کرونا وبا کے دوران سپلائی متاثر ہونے سے بڑھنے والی قیمتیں رسد بحال ہونے کے بعد نیچے آ چکی ہیں۔ لیکن پرچون کی دکان پر فروخت ہونے والی شیا کی قیمتیں پہلے کے مطابق ہی برقرار ہیں جس پر چیک اینڈ بیلنس حکومت کی ذمہ داری ہے۔‘

میاں سلیم کے بقول درآمد ہونے والی اشیا اس لیے مہنگی پڑتی ہیں کہ ڈالر ریٹ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور مقامی انڈسٹری میں بھی بیشتر اشیا کی تیاری میں استعمال ہونے والا خام مال درآمد ہوتا ہے۔ جس کی قیمت ڈالر میں ادا کی جاتی ہے۔ مہنگائی کی ایک وجہ یہ بھی ہے مگر پاکستان میں پیدا ہونے والی یا بننے والی بعض اشیا کی قیمتیں بڑھانے کا کوئی جواز نہیں اور اس میں مڈل مین اور پرچون کی دکان پر فروخت کرنے والے ذمہ دار ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ ’مختلف شہروں سے آنے جانے والی اشیا کی قیمتیں ٹرانسپورٹ کی لاگت پیٹرول یا ڈیزل مہنگا ہونے سے بھی بڑھ جاتی ہیں۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ادھر پرچون ڈیلرز ایسوسی ایشن کے عہدیدار ناصر انصاری کا کہنا ہے کہ ’بعض لوگ تھوک میں سستی ملنے والی اشیا کی زیادہ قیمتیں ضرور وصول کرتے ہیں مگر مارکیٹ میں کام کرنے والے زیادہ تر تاجر تھوک یا مڈل مین سے خریدی گئی اشیا کم منافع پر فروخت کر کے اپنی ساکھ برقرار رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ہاں بازاروں میں اشیا ضروریہ فروخت کرنے والے ضرور من مانی قیمت وصول کرتے ہیں۔‘

ناصر انصاری کا کہنا تھا کہ ’کپڑے، جوتے، پلاسٹک، سٹیل کے برتن، تعمیراتی میٹریل جیسی اشیا پر حد سے زیادہ منافع وصول کرنا مشکل ہوتا ہے۔ کیوں کہ مقابلے کی فضا میں ایسی اشیا کی قیمت مارکیٹ میں ساکھ برقرار رکھنے کے لیے مناسب ہی رکھنی پڑتی ہے۔‘

حکومتی اقدامات

صوبہ پنجاب میں حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف کی رہنما مسرت جمشید چیمہ سے اس معاملہ پر رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ ’پوری دنیا میں کرونا وبا کے بعد مہنگائی ہوئی ہے۔ یہ بات درست ہے کہ پاکستان میں بھی مہنگائی تو ہوئی ہے اور اس میں کسی کاقصور نہیں، مگر مصنوعی مہنگائی پر قابو پانے کے لیے حکومت سخت اقدامات کر رہی ہے۔ مہنگائی ایپ بنائی ہے تاکہ کہیں بھی مہنگائی ہو تو اس پر شکایت کی جا سکتی ہے۔ لوگ شکایت کریں تو فوری ایکشن ہو رہا ہے۔‘

مسرت جمشید نے بتایا کہ ’پرائس کنٹرول کمیٹیاں متحرک ہیں۔ حکام کو اس معاملے پر پوری طرح کوشش کرنے کی ہدایات ہیں اور وزیر اعلی اجلاسوں میں ذمہ داروں سے رپورٹ لیتے رہتے ہیں۔ مارکیٹوں میں کمیٹیاں کارروائیاں کر رہی ہیں اورجو مہنگائی کا سبب بنتے ہیں انہیں بھاری جرمانے کیے جاتے ہیں اور ان کی دکانیں سیل کی جا رہی ہیں۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’اضلاع کی سطح پر اشیا کی قیمتوں کا تعین کر کے روزانہ ریٹ لسٹیں جاری کی جاتی ہیں اور سرکاری نرخوں پر عمل نہ کرنے والوں کے خلاف کارروائی معمول کا حصہ ہے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی معیشت