ریاض: یمن میں قیام امن کے لیے فریقین کے درمیان جامع مذاکرات

حوثیوں نے خلیجی ممالک کی تنظیم جی سی سی کی جانب سے شروع ہونے والے مذاکرات میں شرکت سے انکار کر دیا ہے۔

یمن میں عرب اتحاد کی جانب سے جنگ بندی کے اعلان کے بعد متحارب یمنی دھڑوں کے درمیان جامع امن مذاکرات ریاض میں شروع ہو گئے ہیں۔

عرب نیوز کے مطابق سعودی دارالحکومت میں بدھ کو شروع ہونے والے ان مذاکرات میں سینکڑوں یمنی سیاست دان، قبائلی رہنما اور موجودہ اور سابق فوجی اور سکیورٹی حکام شریک ہیں تاہم ایرانی حمایت یافتہ حوثیوں نے خلیجی ممالک کی تنظیم، جی سی سی، کی جانب سے شروع ہونے والے مذاکرات میں شرکت سے انکار کر دیا ہے۔

کانفرنس کا آغاز کرتے ہوئے جی سی سی کے سیکریٹری جنرل ڈاکٹر نايف فلاح مبارك الحجرف نے شرکا پر زور دیا کہ وہ اپنے اختلافات کو پس پشت ڈال کر جنگ کے خاتمے کے لیے ایک جامع حل تلاش کریں۔

انہوں نے زور دیا کہ خلیجی بلاک ان مذاکرات کے نتائج کی حمایت کرے گا۔

ڈاکٹر نايف فلاح مبارك الحجرف نے فوجی اتحاد کی جانب سے جنگ بندی کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا: ’یمن کے مسٔلے پر مشاورت کی کامیابی ایک آپشن نہیں بلکہ ایک قومی فرض ہے جس کے لیے ہر ایک کو قومی ذمہ داری کا مظاہرہ کرنے اور تقسیم اور اندرونی دشمنی کے تمام اسباب کو مسترد کرنے کی ضرورت ہے۔‘

سعودی قیادت میں یمنی حکومت کے حمایتی فوجی اتحاد نے منگل کی رات اعلان کیا کہ وہ مذاکرات کی کامیابی کی راہ ہموار کرنے کے لیے یمن میں فوجی کارروائیاں روک دے گا۔

اقوام متحدہ کے یمن کے لیے خصوصی ایلچی ہانس گرنڈ برگ نے کہا کہ ریاض نے طویل عرصے سے امن کے اقدامات کو آسان بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ان کا کہنا تھا: ’ہمیں (اقوام متحدہ) کی سرپرستی میں ایک جامع سیاسی عمل کی طرف بڑھنے کے لیے ہمیشہ کی طرح خطے کی حمایت کی ضرورت ہے۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ جنگ نے یمن کے ریاستی اداروں، سماجی تانے بانے اور معیشت کو تباہ کر دیا ہے اور ہزاروں یمنی شہریوں کی جانیں ضائع ہو چکی ہیں۔

ایلچی کے مطابق تنازع جتنا طویل ہو گا اس کا یمنی شہریوں پر اتنا ہی شدید اثر پڑے گا اور نقصان کا ازالہ کرنا اتنا ہی مشکل ہوگا۔ یمنی عوام کو ایک واضح راستہ اپنانے کی ضرورت ہے۔

یمن کے لیے امریکی ایلچی ٹم لینڈرکنگ نے بھی اقوام متحدہ اور جی سی سی کے اقدامات پر واشنگٹن کی حمایت کا اظہار کرتے ہوئے ماہ رمضان کے دوران تمام تر دشمنی کو ختم کرنے پر زور دیا۔

ٹم نے کہا: ’ہم تنازعے کے پائیدار، جامع حل کو آگے بڑھانے کے لیے اقوام متحدہ کی قیادت میں کی جانے والی کوششوں میں مدد کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔‘

انہوں نے شرکا پر زور دیا کہ وہ ایسے حل تک پہنچیں جس سے یمن میں انسانی بحران کا خاتمہ ممکن ہو سکے۔

العربیہ نیوز کے مطابق ان مذاکرات کے دوران چھ شعبوں پر توجہ مرکوز کی جائے گی جن میں فوجی، سیاسی، انسانی، اور سماجی استحکام، انسانی ہمدردی کی راہداریوں کو کھولنے اور عام سیکورٹی ضروریات شامل ہیں۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے ترجمان نے کہا کہ اقوام متحدہ نے ایک بیان میں یمن کے متحارب فریقوں کی طرف سے فوجی کارروائیوں کو عارضی طور پر روکنے کے اقدام کا خیرمقدم کیا ہے اور متحارب گروپس پر زور دیا ہے کہ وہ اقوام متحدہ کی زیر قیادت امن کوششوں میں بغیر کسی شرط کے شامل ہوں۔


بعض تکنیکی مسائل کی وجہ سے ہماری ویب سائٹ پر کچھ لفظ درست طریقے سے دکھائی نہیں دے رہے۔ ہم اس مسئلے کو جلد از جلد حل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ادارہ اس کے لیے آپ سے معذرت خواہ ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا