سوات کی وادی بحرین جو سیلاب کے باعث اندھیروں میں ڈوب گئی

بحرین میں حالیہ سیلاب سے اس علاقے میں قائم دو پن بجلی گھر بھی متاثر ہوئے ہیں جس کے باعث اس علاقے کے مکین بجلی سے محروم ہو چکے ہیں۔

سوات کی وادی بحرین میں حالیہ سیلاب سے اس علاقے میں قائم دو پن بجلی گھر بھی متاثر ہوئے ہیں جس کے باعث اس علاقے کے مکین بجلی سے محروم ہو چکے ہیں۔

بحرین سے تعلق رکھنے والے ظاہر شاہ نے چند سال قبل اس علاقے میں دو پن بجلی گھر لگائے تھے جن سے 20 سے 25 گھروں کو مفت بجلی فراہم کی جاتی تھی لیکن سیلاب سے متاثر ہونے کے بعد اب ایسا ہونا ممکن نہیں رہا۔

ظاہر شاہ پر امید ہیں کہ وہ ان پن بجلی گھروں کو بحال کر کے دوبارہ اپنے گاؤں کے گھروں کو روشن کر سکیں گے۔

پیشے کے لحاظ سے فاریسٹ آفیسر ظاہر شاہ کو حالیہ سیلاب کے باعث چار کروڑ سے زائد کا نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ اس سیلاب میں نہ صرف ان کے پن بجلی گھر بلکہ ان کا اپنا گھر اور پن چکی بھی سیلابی ریلوں کے نذر ہو گئے۔

ظاہر شاہ نے اس علاقے کے گھروں کو بجلی فراہم کرنے کا بیڑا 2000 میں اٹھایا تھا۔ اس وقت یہاں بجلی گھر کی تعمیر پر چار سے پانچ لاکھ روپے کا خرچہ آیا تھا لیکن پھر ضرورت پڑنے پر یہاں مزید دو بجلی گھر بنائے گئے جن پر پندرہ لاکھ تک خرچہ آیا تھا۔ ان بجلی گھروں سے علاقے کے 20 سے 25 گھروں کو مفت بجلی فراہم کی جاتی تھی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ظاہر شاہ نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’میرا گھر، دو بجلی گھر اور ایک پن چکی سیلاب میں بہہ گئے ہیں۔ اب پورا گاؤں تاریکیوں اور اندھیروں کی لیپٹ میں ہے۔ لوگ فون کے ذریعے رابطہ کرتے ہیں کہ بجلی کب بحال ہوگی، لیکن جب میرے گھر اور بجلی گھر کی جانب آتے ہیں تو مایوس ہو کر واپس چلے جاتے ہیں۔ میں اب بھی پرامید ہوں کہ ایک مرتبہ پھر بجلی گھر لگا کر اپنے گاؤں کو پھر سے روشن کروں گا۔‘

ظاہر شاہ کے مطابق سیلاب میں بہنے والی پن چکی مدین سے کالام تک واحد پن چکی تھی اور روزانہ اس پر سینکڑوں افراد مکئی پیسنے آیا کرتے تھے جو اب اس سہولت سے بھی محروم ہو چکے ہیں۔

ظاہر شاہ کا کہنا ہے کہ اب یہ دو پن بجلی گھر اور پن چکی بحال کرنے میں ایک کروڑ تک کا خرچہ آئے گا لیکن اب تک کسی حکومتی نمائندے نے اس حوالے سے رابطہ نہیں کیا۔

بحرین کے تحصیل ناظم ڈاکٹر شاہ نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ’ہم توقع نہیں کر رہے تھے کہ ایک بار پھر سیلاب کی شدت اتنی غیر معمولی ہو گی کیونکہ ہم ابھی تک 2010 کے سیلاب کی تباہی سے مکمل طور پر سنبھل نہیں پائے تھے۔‘

 سوات کے علاقوں میں بحرین سیلاب سے سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے لیکن سیلاب کی آمد سے قبل علاقے کے عمائدین نے لوگوں کو سیلابی ریلے سے آگاہ کر دیا تھا جس کے بعد لوگ محفوظ مقامات پر منتقل ہو گئے تھے۔

اسسٹنٹ کمشنر بحرین اسحاق احمد خان نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’سیلاب میں بحرین کے 610 سے زائد گھر مکمل طور پر تباہ، جبکہ 500 کو جزوی نقصان پہنچا ہے۔ اس کے علاوہ 56 ہوٹل، 30 رابطہ پل، 24 مقامات پر روڈ، 400 سے زائد دکانیں بھی متاثر ہوئی ہیں۔

ان کے مطابق ’ہم متاثرین کی مدد اور بحالی کے کاموں کے بعد اب معاوضے کے لیے اقدامات کر رہے ہیں۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی ماحولیات