ملا عمر کے قریبی ساتھی افغان مرکزی بینک کے سربراہ مقرر

طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ٹوئٹر پر کہا کہ ’وزارت خزانہ کے سابق قائم مقام سربراہ ملا ہدایت اللہ بدری کو افغانستان بینک کا قائم مقام سربراہ مقرر کر دیا گیا ہے۔‘

بدری جنہیں گل آغا کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، پر افغانستان کے شہر قندھار میں خودکش حملوں کے لیے رقم جمع کرنے اور طالبان جنگجوؤں اور ان کے خاندانوں میں رقوم تقسیم کرنے کا الزام ہے (امارت اسلامی افغانستان سرکاری میڈیا اور اطلاعاتی مرکز)

افغان طالبان نے کہا ہے کہ طالبان رہنما جن پر اقوام متحدہ نے پابندیاں عائد کر رکھی ہیں انہیں افغانستان کے مرکزی بینک کا قائم مقام سربراہ مقرر کر دیا گیا ہے۔

دا افغانستان بینک کے نام سے مرکزی بینک میں تقرری کا اعلان بدھ کو طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ٹوئٹر پر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’وزارت خزانہ کے سابق قائم مقام سربراہ ملا ہدایت اللہ بدری کو افغانستان بینک کا قائم مقام سربراہ مقرر کر دیا گیا ہے۔‘

افغانستان کے سابق وزیر خزانہ نے 2021 میں طالبان کے مغربی حمایت یافتہ انتظامیہ سے ملک کا کنٹرول چھین لینے کے بعد بجٹ کے معاملات کی نگرانی کی۔

وزارت خزانہ کے ترجمان احمد ولی حقمل نے کہا کہ وہ پہلے ہی اپنا نیا عہدہ سنبھال چکے ہیں۔

طالبان کے لیے مالیاتی امور چلانے کی صلاحیتوں کے مالک، نیشنل بینک کے نئے سربراہ ماضی میں مطلوب ’دہشت گرد‘ اور سینیئر طالبان رہنما ملا محمد عمر کے مشیر کے طور پر کام کر چکے ہیں۔  ملا عمر کی 2013 میں موت کی تصدیق کی گئی تھی۔

امریکی فیڈرل بیورو آف انٹیلی جنس (ایف بی آئی) کے  جاری کردہ ’مطلوب‘ پوسٹر میں ملا عمر کے بارے میں بتایا گیا تھا کہ وہ بم کا ٹکڑا لگنے سے آنے والے زخم کے نتیجے میں ایک آنکھ سے محروم ہو گئے تھے۔ وہ موت سے قبل امریکی انتظامیہ کو انعام برائے انصاف کے پروگرام کے تحت مطلوب تھے۔

 بدری جنہیں گل آغا کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، پر افغانستان کے شہر قندھار میں خودکش حملوں کے لیے رقم جمع کرنے اور طالبان جنگجوؤں اور ان کے خاندانوں میں رقوم تقسیم کرنے کا الزام ہے۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے ان پر جولائی 2010 میں پابندیاں لگا دی تھیں۔

مالیاتی پابندیوں کے نفاذ سے متعلق برطانوی دفتر نے سزا کے طور پر کی جانے والی مزید کارروائی میں افغانستان کے مرکزی بینک کے نئے سربراہ پر 2010 اور 2021 میں پابندیاں لگائیں۔

انسداد دہشت گردی پروجیکٹ کے مطابق طالبان عہدے دار نے ’مبینہ طور پر دسمبر 2005 میں طالبان کے تربیتی کیمپوں کو لوگوں اور سامان کی فراہمی میں بھی سہولت کاری کی اور بعد میں 2006 کے آخر میں ہتھیاروں کے پرزے حاصل کرنے کے لیے سفر کیا۔‘

افغانستان کی معیشت کی سست رو بحالی کے پیش نظر ملک کے مرکزی بینک کو مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ عالمی برداری طالبان حکمرانوں کو صرف  نگران حکومت کے طور پر تسلیم کیا ہے۔ طالبان کے قبضے کے بعد افغانستان کے لیے غیر ملکی امداد بھی بند ہو گئی۔

دنیا بھر کی حکومتوں نے طالبان کے ساتھ کام کرنے سے انکار کرتے ہوئے سخت پابندیاں عائد کر دی تھیں، بینکوں کے ذریعے رقوم کی  منتقلی روک دی گئی اور افغانستان کے اربوں ڈالر منجمد کر دیے گئے۔ ایسا لڑکیوں اور خواتین کو تعلیم اور روزگار کی فراہمی سے مسلسل انکار اور 1990 کی دہائی کے آخر میں طالبان کی سخت گیر حکمرانی کے پیش نظر کیا گیا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

گذشتہ سال ستمبر میں امریکی وزارت خزانہ اور سرکاری اداروں نے کہا کہ افغانستان کا مرکزی بینک، جس کے سات ارب ڈالر کے فنڈ اس سال فروری میں منجمد کر دیے گئے، اسے ’لازمی  طور پر دکھانا ہو گا کہ اس کے پاس مرکزی بینک کی ذمہ داریاں پوری کرنے کے لیے درکار مہارت، صلاحیت اور خودمختاری موجود ہے۔‘

ایسا اس وقت ہوا جب امریکی وزارت خزانہ نے کہا کہ وہ افغانستان کے پیسے کو طالبان کی پہنچ سے دور کرنے کے لیے اسے سوئٹزر لینڈ میں قائم ٹرسٹ کو منتقل کر دے گی۔

امریکی محکموں نے ایک بیان میں کہا کہ ’فنڈ کے غیر قانونی سرگرمی میں استعمال کو روکنے کے لیے ٹھوس حفاظتی انتظامات کیے گئے ہیں۔‘

اس سال فروری میں ایک امریکی عدالت کے جج نے افغانستان کے مرکزی بینک کے ساڑھے تین ارب ڈالر (2.8 ارب پاؤنڈ) کے اثاثے نائن الیون کے ’دہشت گرد‘ حملوں کے متاثرین کو دینے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا تھا۔ عدالت کا کہنا تھا کہ طالبان کی حکومت غیر قانونی ہے جسے بائیڈن انتظامیہ نے تسلیم نہیں کیا۔

کسی بھی ملک نے طالبان کو افغانستان کے قانونی حکمران کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔ طالبان نے اگست 2021 میں اشرف غنی کی حکومت کو ختم کر کے اقتدار پر قبضہ کر لیا تھا۔

© The Independent

whatsapp channel.jpeg

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا