قومی اسمبلی: الیکشن کمیشن کو 21 ارب روپے دینے کا ’مطالبہ‘ مسترد

سپیکر راجا پرویز اشرف کی زیر صدارت قومی اسمبلی کے اجلاس میں پنجاب میں انتخابات کے لیے فنڈز کی فراہمی کے معاملے پر قائمہ کمیٹی کی رپورٹ منظور کر لی گئی۔

قومی اسمبلی کا اجلاس پیر کو سپیکر راجا پرویز اشرف کی صدارت میں ہوا (فائل فوٹو: نیشنل اسمبلی فیس بک)

پاکستان کی قومی اسمبلی نے پیر کو الیکشن کمیشن کو 21 ارب روپے فراہم کرنے کی ڈیمانڈ کثرت رائے سے مسترد کر دی ہے۔

قومی اسمبلی کا اجلاس پیر کی شام سپیکر راجا پرویز اشرف کی زیر صدارت ہوا جس میں پنجاب میں انتخابات کے لیے فنڈز کی فراہمی کے معاملے پر قائمہ کمیٹی کی رپورٹ منظور کر لی گئی۔

وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے قومی اسمبلی میں قائمہ کمیٹی کی رپورٹ منظور کرنے کی تحریک پیش کی تھی۔

اس موقع پر وزیر قانون نے کہا کہ ’آج قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے معاملے پر غور کیا۔ وفاقی کابینہ اور قائمہ کمیٹی نے معاملہ اس ایوان کو بھیج دیا کیونکہ یہ اختیار اس ایوان کا ہے۔‘

جس کے بعد تحریک کو کثرت رائے سے مسترد کر دیا گیا اور بعد میں قومی اسمبلی کا اجلاس منگل یعنی کل تک کے لیے ملتوی کر دیا گیا۔

وزیر اعظم شہباز شریف کی زیر صدارت پیر ہی کو وفاقی کابینہ کا خصوصی اجلاس ہوا جس میں الیکشن فنڈز کا اجرا پارلیمنٹ کی منظوری سے مشروط کیا گیا تھا۔

وزیر مملکت اور پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما فیصل کریم کنڈی نے انڈپینڈنٹ اردو کو تصدیق کی ہے کہ وفاقی کابینہ نے الیکشن فنڈز سے متعلق معاملہ دوبارہ پارلیمان میں پیش کرنے کی منظوری دی ہے۔

 اجلاس میں الیکشن کے لیے 21 ارب روپے کی فراہمی سے متعلق وزارت خزانہ کی سمری پر غور کیا گیا جبکہ قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کی مِنی بل پر رپورٹ پیش کی گئی جس پر کابینہ نے سٹیٹ بینک کو الیکشن کے لیے 21 ارب روپے کی براہ راست فراہمی سے روکتے ہوئے کمیٹی کی سفارشات اور مِنی بل پر قومی اسمبلی میں لانے اور بحث کروانے کی منظوری دی۔

اس سے قبل قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے پیر کو ہونے والے خصوصی اجلاس میں صوبہ پنجاب میں انتخابات کے لیے الیکشن کمیشن کو 21 ارب روپے کے فنڈز دینے کا معاملہ قومی اسمبلی بھیجنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت کو حکم دیا تھا کہ الیکشن کمیشن کو 21 ارب جمع کروائے جائیں، تاہم انکار کرنے پر عدالت عظمیٰ نے 14 اپریل کو اِن چیمبر سماعت کے بعد سٹیٹ بینک کو پنجاب میں انتخابات کے لیے اپنے اکاؤنٹ سے آج یعنی 17 اپریل تک 21 ارب روپے الیکشن کمیشن کو دینے کا حکم دیا تھا۔

الیکشن کمیشن کو فنڈز فراہم کرنے کی عدالتی ڈیڈ لائن آج (17 اپریل کو) ختم ہو گئی، تاہم اس معاملے میں بہت سی قانونی اور تکنیکی پیچیدگیاں ہیں جس کی وجہ سے ڈیڈ لاک برقرار ہے۔

اس معاملے پر قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا خصوصی اجلاس ہوا، جہاں مشاورت کے بعد فیصلہ کیا گیا کہ وزارت خزانہ فنڈز کی سمری کابینہ میں لائے اور قومی اسمبلی سے منظوری لی جائے۔

وزیر قانون نے مزید کہا کہ ’ابھی فنڈز جاری کر کے سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ ایکس پوسٹ فیکٹو اجازت لے لی جائے۔‘

قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے خصوصی اجلاس میں قائم مقام گورنر سٹیٹ بینک سیما کامل نے بتایا کہ ’سپریم کورٹ نے 21 ارب روپے جاری کرنے کا حکم دیا ہے، ہم نے سپریم کورٹ کے حکم پر رقم مختص کی ہے، لیکن اس کے اجرا کا اختیار سٹیٹ بینک کے پاس نہیں ہے۔‘

اٹارنی جنرل منصور عثمان نے اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ ایک طریقہ کار یہ ہے کہ ’دیگر اخراجات کی مد میں اخراجات کر لیے جائیں۔ قومی اسمبلی چارجڈ اخراجات کا آپشن مسترد کر چکی ہے، سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ فنڈز جاری کرکے بعد میں ایکس پوسٹ فیکٹو منظوری لے لی جائے، تاہم اگر قومی اسمبلی نے 30 جون تک فنڈز کی منظوری نہ دی تو پھر 21 ارب کا ذمہ دار کون ہوگا، اس حوالے سے سنجیدہ مسئلہ پیدا ہو سکتا ہے، انہوں نے کہا کہ ایک آپشن یہ ہے کہ قومی اسمبلی سے ابھی ایکس پوسٹ فیکٹو فنڈز کی منظوری لے لی جائے، کیونکہ فنڈز کی حتمی منظوری کا اختیار قومی اسمبلی کے پاس ہے۔‘

اجلاس کے دوران وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ ’انتخابات پر دو بار اخراجات ملکی مفاد میں نہیں ہیں، عدالتی آرڈر کے ذریعے فنڈز کے اجرا کا معاملہ قومی اسمبلی کے سامنے رکھا جائے، فنڈز کی تقسیم کے آئینی طریقہ کار کو اختیار کرنا ہو گا، ورنہ کل کو 21 ارب روپے کے فنڈز کا حساب کون دے گا، کیا یہ افسران کی تنخواہوں سے کٹے گا یا گورنر سٹیٹ بینک دیں گے، کل کو سوال اٹھ سکتا ہے کہ فنڈز کے اجرا کا آئینی طریقہ کار اختیار نہیں کیا گیا۔‘

جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ ’قومی اسمبلی نے کہا کہ منظوری نہیں دیں گے تو اس کی ایکس پوسٹ فیکٹو منظوری مشکل ہو جائے گی، لہذا قومی اسمبلی سے پہلے منظوری لے لی جائے تو بہتر ہو گا، سپریم کورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد ایگزیکٹو اتھارٹی نے کرنا ہے، کمیٹی وزارت خزانہ کو قانونی طریقہ کار مکمل کرنے کا کہے۔‘

وزیر مملکت برائے خزانہ عائشہ غوث پاشا نے جواب دیا کہ ’ہم قانون کے مطابق ہی عملدرآمد کریں گے، ہم سپریم کورٹ کی ہدایات کا احترام کرتے ہیں، ہم سمری بھیجیں گے اور کابینہ کی منظوری کے حساب سے پارلیمنٹ لے جائیں گے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’قومی اسمبلی نے منظوری دی تو فنڈز جاری ہو جائیں گے، سٹیٹ بینک کو پارلیمنٹ کی منظوری کے بغیر اخراجات کا اختیار نہیں ہے، خزانہ ڈویژن بھی کابینہ اور قومی اسمبلی کی منظوری کے بغیر فنڈز استعمال نہیں کر سکتی۔‘

اس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ ’سپریم کورٹ کے آرڈر پر تمام اداروں نے عمل کرنا ہے، میرے خیال میں کابینہ سمری منظور کرکے اسمبلی پر چھوڑے گی۔‘

سپریم کورٹ کے حکم نامے کے مطابق انتخابات کی سکیورٹی کے حوالے سے بھی 17 اپریل تک وزارت دفاع نے رپورٹ الیکشن کمیشن کو جمع کروانی ہے۔

فنڈر دینے کا اختیار کس کا ہے؟

یہ سوال انڈپینڈنٹ اردو نے قانونی ماہر اور سابق جج شاہ خاور کے سامنے رکھا، جن کا کہنا تھا کہ اختیارات کے معاملے پر ابہام کی ضرورت ہی نہیں ہے۔

بقول شاہ خاور: ’آئین کا آرٹیکل 78 (2) اس معاملے پر واضح ہے کہ فنڈز دینے کا اختیار پارلیمنٹ کا ہے۔ فیڈرل کنسولیڈیٹد فنڈ کو استعمال کرنے کا سارا طریقہ کار آئین میں واضح ہے۔ اگر منظوری کے بغیر وہ جاری کر بھی دیتے ہیں تو آڈٹ میں ان کو مشکل پیش آئے گی۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’ڈپٹی گورنر سٹیٹ آف بینک نے سپریم کورٹ کو جو بیان دیا تھا کہ وہ فنڈ جاری کرنے کو تیار ہیں، یہ جلد بازی میں دیا گیا بیان ہے۔ جب تک بورڈ آف گورنر منظوری نہ دے اکیلے ڈپٹی گورنر بیان حلفی نہیں دے سکتا۔ رول آف بزنس کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کیونکہ وہ حکومت نہیں ہے۔‘

شاہ خاور نے مزید کہا کہ ’اگر آئین کے آرٹیکل 190 کی بات کی جائے جس میں ایگزیکٹیو اور جوڈیشل اتھارٹیز پابند ہیں کہ وہ سپریم کورٹ کے حکم پر عمل کریں، لیکن اس میں پارلیمنٹ کا ذکر نہیں ہے۔ سپریم کورٹ پارلیمنٹ کو حکم نہیں دے سکتی۔ یہاں بہت سے قانونی سوالات پیدا ہوتے ہیں۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

دوسری جانب معاشی امور کے ماہر صحافی شہباز رانا نے انڈپینڈنٹ سے گفتگو میں بتایا کہ ’سٹیٹ بینک وفاقی حکومت کا بینک ہے، اس کی اپنی کوئی اتھارٹی نہیں ہوتی کہ براہ راست کسی کو بھی رقم جاری کر دے۔ وہ صرف اکاؤنٹ ہولڈر کو ہی رقم جاری کر سکتا ہے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’وفاقی حکومت سٹیٹ بینک کو حکم دیتی ہے تو ہی وہ فنڈ یا رقم جاری کرتا ہے اور یہی قانونی طریقہ ہے۔ اگر سٹیٹ بینک وفاقی حکومت کے احکامات کے بغیر رقم جاری کرتا ہے تو یہ غیر قانونی عمل ہو گا۔‘

معاشی امور کے سینیئر صحافی شکیل احمد نے اس حوالے سے کہا کہ ’انتخابات سمیت کسی آئینی سرگرمی کے لیے سٹیٹ بینک آف پاکستان کو بطور ریگولیٹر فیڈرل کنسولیڈیٹڈ فنڈ سے اضافی فنڈز کے اجرا کا اختیار حاصل ہے۔‘

بقول شکیل احمد: ’اگرچہ پارلیمنٹ 21 ارب روپے فنڈز کی فراہمی کا منی بل مسترد کر چکی ہے اور اب اگر سپریم کورٹ کی ہدایت پر سٹیٹ بینک فنڈز جاری کرے گا تو وہ وزارت خزانہ کے ذریعے ہی اے جی پی آر کو منتقل ہوں گے۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’یہاں پر ڈیڈ لاک یا رکاوٹ آئے گی، اگر وفاقی حکومت فنڈ دینا نہیں چاہتی تو وہ وزارت خزانہ کے ذریعے قانونی رکاوٹ ڈال سکتی ہے۔ سٹیٹ بینک فنڈ دینے کے لیے تیار ہو بھی جاتا ہے لیکن وہ استعمال تو وزارت خزانہ کے ذریعے ہی ہوں گے۔‘

سٹیٹ بینک سے رقوم جاری کرنے کا طریقہ کیا ہے؟

دستیاب معلومات کے مطابق وفاقی حکومت کی ہدایات پر سٹیٹ بینک اے جی پی آر کو فنڈز جاری کرتا ہے اور اس کے بعد اکاؤنٹننٹ جنرل فار پاکستان متعلقہ حکومتی اکائی کو وہ فنڈر جاری کرتا ہے۔

مالی سال کے بجٹ سے ہٹ کر جو اخراجات کیے جاتے ہیں اس کی قومی اسمبلی یا پارلیمنٹ سے اجازت لینا ہوتی ہے۔ یہ ایک معمول کی کارروائی ہے اور عمومی طور پر اس کی منظوری ہو جاتی ہے، جسے ضمنی گرانٹ کہا جاتا ہے۔

معاشی امور کے ماہر شکیل احمد نے بتایا کہ ’آئین کے آرٹیکل 84 کے مطابق وفاقی حکومت 30 جون کو ختم ہونے والے متعلقہ مالی سال کے لیے فیڈرل کنسولیڈیٹڈ فنڈ سے دیگر امور کے ساتھ ساتھ کچھ نئی سروسز کے اضافی اخراجات کی مکمل مجاز ہے، جس کی بعد میں قومی اسمبلی سے ایکس پوسٹ فیکٹو منظوری اور اجازت لینا ہوتی ہے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان