غزہ میں دراندازی اور حملے جاری، کیا اسرائیل مکمل تباہی چاہتا ہے؟

اسرائیل غزہ میں جاری اپنی جارحیت کے تیسرے مرحلے میں زمینی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔ تاہم تل ابیب اور فلسطین میں موجود فوجی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس حکمت عملی پر مکمل عمل درآمد مشکل ہے۔

دو نومبر 2023 کی اس تصویر میں وسطی غزہ کی پٹی میں البریج کیمپ پر اسرائیلی حملے میں تباہ ہونے والی عمارتوں کا ملبہ (محمود حمس/ اے ایف پی)

اسرائیلی فوج نے چار ہفتوں سے جاری جارحیت کے دوران اب غزہ کی پٹی کے متعدد علاقوں میں محدود زمینی حملے شروع کر رکھے ہیں۔ فوجی گاڑیوں کی یہ نقل و حرکت اس وقت سامنے آئی جب تل ابیب نے سب کچھ تباہ کرنے کی پالیسی پر عمل کیا۔

اسرائیل غزہ میں جاری اپنی جارحیت کے تیسرے مرحلے پر عمل درآمد کی کوشش کر رہا ہے، جس میں غزہ کی پٹی پر زمینی حملہ شامل ہے، تاہم تل ابیب اور فلسطین میں موجود فوجی مبصرین اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ اس مرحلے پر عمل درآمد مشکل ہے۔

حملہ نہیں دراندازی

اسرائیل نے غزہ کے خلاف اپنی جارحیت کے لیے تین مرحلے مقرر کیے۔ پہلے مرحلے میں تقریباً 11 فوجی بیرکوں کی کلیئرنگ شامل تھی، جن پر حماس کے جنگجو سات اکتوبر کو کنٹرول حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے تھے۔

دوسرے مرحلے میں بنیادی ڈھانچے پر حملہ کرنا شامل تھا اور یہ تقریباً 20 دن تک جاری رہا۔ تیسرا مرحلہ زمینی حملہ ہے۔

تاحال اسرائیل نے غزہ کی پٹی پر حملہ نہیں کیا بلکہ کئی میٹر تک اس علاقے میں پیش قدمی کی ہے۔ ان دونوں اصطلاحات میں ایک عسکری فرق ہے۔ ملٹری سائنسز کے پروفیسر میجر جنرل سعید فنونہ وضاحت کرتے ہیں کہ حملے کا مطلب ٹینکوں، توپ خانے اور فوجی قافلوں کا داخل ہونا اور ہدف کو کنٹرول کرنا ہے، جبکہ دراندازی کا مطلب انجینیئرنگ گاڑیوں اور ٹینکوں کی علاقوں میں پیش قدمی ہے۔

دراندازی کے محور

فیلڈ فالو اپ کے مطابق، اسرائیلی زمینی افواج نے گذشتہ چار دنوں کے دوران غزہ میں تین محوروں میں پیش قدمی کی۔ پہلا شمال مغربی علاقے میں، دوسرا شمال مشرق میں اور تیسرا قریبی علاقے جوہر الدک میں پٹی کے مرکز سے، جو غزہ شہر کے مرکز کی طرف جاتا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

شدید بلیک آؤٹ کے دوران ٹینکوں نے غزہ کے غیر آباد علاقوں یا مکمل طور پر تباہ علاقوں میں اپنی محدود دراندازی جاری رکھی ہوئی ہے، لیکن فوجی گاڑیاں جلد ہی پیچھے ہٹیں اور واپس آگئیں۔

اسرائیلی فوج کے اعلان کے مطابق ٹینکوں اور انفنٹری فورس کے دستے متعدد اہداف پر حملے کرنے کے لیے غزہ میں داخل ہوئے اور پیچھے ہٹ گئے۔

تباہ حال زمین

زمین پر اسرائیلی افواج شمالی غزہ کے علاقے سے کراما کے علاقے تک پہنچ گئیں یعنی ٹینکوں نے تین کلومیٹر سے زائد کا فاصلہ طے کیا لیکن اس مقام پر پہنچنے سے پہلے ہی لڑاکا طیاروں نے علاقے کو مکمل طور پر تباہ کر دیا۔

کراما کا علاقہ ایک رہائشی کمپلیکس تھا، جہاں تقریباً 120 ٹاور اور رہائشی عمارتیں واقع تھیں اور یہاں تقریباً 11 ہزار افراد مقیم تھے، لیکن گذشتہ دو ہفتوں کے دوران اسے زمین بوس کر دیا گیا، کبھی جنگی طیاروں سے اور کبھی اسرائیلی توپ خانے سے اور پھر زمینی افواج داخل ہوئیں۔

میجر جنرل فینونہ کا کہنا ہے کہ ’اسرائیل نے کراما کے علاقے میں لڑنے کے لیے منصوبوں کی بنیاد تباہی کی پالیسی پر رکھی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس نے شہروں اور محلوں کو مکمل طور پر تباہ کر دیا ہے۔ اس محلے میں عمارتیں آباد ہیں اور زمین پر اس وقت تک آگے بڑھنا ممکن نہیں، جب تک کہ اسے زمین بوس نہ کر دیا جائے تاکہ نقصانات کم ہوں۔ لڑائی فوجوں کی جنگ میں تبدیل ہو رہی ہے نہ کہ گلیوں کی جنگ میں۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’حالیہ برسوں میں ہونے والی تمام جنگوں میں، ہم نے مکمل تباہی کا کوئی منصوبہ نہیں دیکھا اور ہم جو ریکارڈ کر رہے تھے وہ کارپیٹ ڈسٹرکشن (Carpet Destruction) کہلاتا ہے۔ غزہ میں اسرائیل کی پالیسی سب سے زیادہ پرتشدد اور وحشیانہ ہے اور فوجی سائنس کے بارے میں عجیب بات یہ ہے کہ اپنے مفادات کے لیے زمین کو تبدیل کرنے کے باوجود، اس نے علاقوں کا تحفظ نہیں کیا۔‘

باب غزہ

اسرائیلی فوجی ساز و سامان وسطیٰ غزہ کے علاقے جوہر الدک سے شہر میں داخل ہونے میں کامیاب رہا اور صلاح الدین سٹریٹ تک پہنچا، جو سب سے اہم سڑک ہے اور وہاں سے یہ غزہ شہر کے مرکز تک پہنچ گیا۔

تاہم، جوہر الدک کا علاقہ زرعی زمین ہے اور رہائشیوں سے مکمل طور پر خالی ہے۔ اس کے باوجود، اس دراندازی کے ساتھ چھاپے اور توپ خانے سے شدید گولہ باری بھی ہوئی۔

اسے غزہ میں سب سے کمزور مقام سمجھا جاتا ہے اور اس کے علاوہ، یہ شہر کے مرکز، خاص طور پر الشفا سپتال کے قریب ترین بھی ہے۔

فینونہ نے وضاحت کی کہ جوہر الدک کے علاقے پر حملہ کرنا آسان ہے اور اسرائیل نے روایتی منصوبوں پر عمل کیا جو اس نے پہلے فوجی کارروائیوں میں استعمال کیے تھے، لیکن وہ بتاتے ہیں کہ اس مقام پر فوج کی پیش قدمی برقرار رکھے بغیر دونوں فریقین کے درمیان مابین خونی لڑائی ہوئی۔

غزہ میں وزارت داخلہ کے مطابق اسرائیل غزہ شہر کو پٹی کی باقی گورنریوں سے الگ کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

اس کے ترجمان عیاد البزم کا کہنا تھا: ’(اسرائیلی) فوج نے غزہ کی پٹی کے تمام رہائشی علاقوں کو تباہ کر دیا ہے اور ہمارے فوجی منصوبوں کے مطابق اسرائیل شمالی غزہ کو اس کے جنوب سے الگ کرنا چاہتا ہے۔‘

لڑائی کی سنگینی کے نقصانات اور اعترافات

زمین کو ہموار کیے اور تباہ کرنے کے باوجود، زمین پر لڑنا آسان نہیں تھا۔ حماس تحریک کے عسکری ونگ القسام بریگیڈ نے تصدیق کی ہے کہ وہ 22 فوجی گاڑیوں کو تباہ کرنے میں کامیاب رہے ہیں جبکہ اسرائیلی فوج نے اعلان کیا ہے کہ زمینی لڑائی میں اس کے 11 فوجی ہلاک ہوئے ہیں۔

تحریک کی قیادت کے ایک رکن علی برکا نے کہا کہ اسرائیلی زمینی حملہ تین محوروں پر ناکام رہا اور درجنوں اسرائیلی فوجی ہلاک یا زخمی ہوئے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ فورسز کو ٹھوس اور مربوط مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا اور زمینی حملے میں ان کا تجربہ مشکل تھا۔

جہاں تک اسرائیل کا تعلق ہے، اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نتن یاہو نے تسلیم کیا ہے کہ ان کی افواج کو غزہ میں نقصانات کا سامنا کرنا پڑا۔

اسرائیلی فوج کے ترجمان ڈینیئل ہاگری کا کہنا تھا کہ ’اگرچہ فضائیہ حماس پر حملے کے لیے زمینی افواج کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے لیکن ان کے ارکان ہم سے لڑنے کے لیے نکلتے آ رہے ہیں۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’ماحول بہت پیچیدہ اور دردناک ہے۔ ہر دراندازی میں فوجیوں کو خطرہ ہوتا ہے اور ہمیں شدید لڑائی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ یہ کام شدید، پیچیدہ اور مہنگا ہے۔‘

بشکریہ انڈپینڈنٹ عریبیہ

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا