پی ٹی آئی کا مستقبل۔۔۔

پی ٹی آئی آج جن حالات سے گزر رہی ہے اس کی ذمہ داری کسی اور کے بجائے تحریک انصاف کے بانی چیئرمین عمران خان کی اپنی حکمت عملیوں پر ہے۔

13 مئی 2023 کو زمان پارک لاہور میں پاکستان تحریک انصاف کے ایک کارکن فون پر پاکستان کے سابق وزیر اعظم عمران خان کی تقریر سنتے ہوئے (عارف علی/ اے ایف پی)

پاکستان تحریک انصاف کی دال جوتیوں میں بٹنے لگی ہے، بظاہر تو ایسا نظر آتا ہے۔

تحریک بن کر ابھارے جانے والی جماعت اب تانگہ پارٹی کی کیفیت میں نہ چلی جائے، یہ خدشات گذشتہ کچھ عرصے سے جماعت کے اندر سے بھی ابال پکڑ رہے تھے۔

جوتیوں میں بٹنے والی دال کی مانند، پی ٹی آئی کا مستقبل اب صرف ’بی بی بی‘ کی صورت نظر آتا ہے۔ بشریٰ بی بی یا بہنوں میں بٹنے والی پارٹی۔

رواں سال اگست میں جب تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کو اٹک جیل میں قید ہوئے ایک ہفتہ بھی نہیں گزرا تھا، پارٹی کی کور کمیٹی کے اجلاس میں  متفقہ طور پر یہ قرار داد منظور ہوئی کہ عمران خان پارٹی کے تاحیات چیئرمین ہوں گے۔

اس وقت ان کی غیر موجودگی میں جماعت کے سینیئر رہنما شاہ محمود قریشی پارٹی کی باگ ڈور سنبھالنے میں مصروف تھے مگر پھر صورت حال بدلی اور شاہ محمود قریشی بھی سلاخوں کے پیچھے پہنچ گئے۔

لیکن آج اسی تحریک انصاف کے تاحیات چیئرمین عمران خان نے سیاسی عمل سے نابلد ایک وکیل بیرسٹر گوہر علی کو پارٹی کا عبوری چیئرمین بنا دیا ہے، جو گذشتہ ہفتے ہونے والے انٹرا پارٹی انتخابات میں بلامقابلہ پارٹی چیئرمین منتخب ہوئے۔

پی ٹی آئی آج جن حالات سے گزر رہی ہے اس کی ذمہ داری کسی اور کے بجائے تحریک انصاف کے بانی چیئرمین عمران خان کی اپنی حکمت عملیوں پر ہے۔ اقتدار کیا گیا عمران خان تو اپنے حواس کھو گئے، جس کے نتیجے میں وہ ایک کے بعد ایک غلط فیصلہ کرنے لگے۔

پہلے غرور میں آئین کا لحاظ کیا، نہ عوامی رائے کا اور قومی اسمبلی سے استعفیٰ دے دیا۔ پھر سڑکوں پر روز حکومت اور ریاست کے خلاف نفرت کا بازار گرم کیے رکھا۔

اسی دوران ایک خفیہ ریاستی دستاویز جلسے میں دکھا کر قومی سلامتی کو خطرے میں ڈال کر عوامی ہمدردیاں سمیٹنے کی ناکام کوشش کی۔ اس کے بعد پنجاب اور خیبرپختونخوا کی اسمبلیاں تحلیل کر کے خود اپنے پاؤں پر کلہاڑی مار دی۔

اتنا کچھ کرنے کے بعد جب سکون نہ آیا تو اپنی اشتعال انگیز تقاریر کی بدولت عوام میں، خاص طور پر نوجوانوں میں ریاست کے خلاف اس حد تک نفرت بھر دی جس کا نتیجہ پاکستان کی تاریخ کے بدترین سانحات میں سے ایک، نو مئی کی صورت میں نکلا۔

سانحہ نو مئی کے بعد پی ٹی آئی کا شیرازہ بکھرنے میں دیر نہیں لگی اور وہ اس وقت ہر طرح کی مصیبتوں میں گھری ایک جماعت بن چکی ہے۔ اس واقعے کے بعد پی ٹی آئی چھوڑنے والوں کی قطاریں لگ گئیں۔ حکومت کے دوران بڑے بڑے دعوے کرنے والے ایک ایک کر کے پی ٹی آئی سے راہیں جدا کرنے لگے۔

کل ہی سینیٹر شوکت ترین جنہیں عمران خان نے بڑی چاہ کے ساتھ وزیر خزانہ بنایا تھا، وہ بھی مشکل وقت میں پی ٹی آئی کا ساتھ چھوڑ گئے۔

ان سارے معاملات کے بعد بالآخر عمران خان جنہیں پی ٹی آئی نے اپنی ریڈ لائن ڈکلیئر کیا تھا، نہ صر ف جیل کے مقیم ہو گئے، بلکہ اپنی ہی بنائی جماعت کی قیادت سے منہا بھی ہو گئے۔

عمران خان اور ان کے نائب شاہ محمود قریشی کے جیل جانے کے بعد نہ صرف پارٹی رہنماؤں کی دھڑا دھڑ رخصتی ہونے لگی بلکہ اس کے ساتھ ساتھ پی ٹی آئی کی بچی کھچی قیادت میں آپس کے اختلافات بھی کھل کر منظر عام پر آنے لگے۔

ابھی الیکشن کمیشن کی جانب سے احکامات اور بلے کے نشان کو بچانے کے لیے پی ٹی آئی نے عمران خان کی ہدایت پر جب انٹرا پارٹی انتخابات کا انعقاد کروایا تو یہ معاملہ بھی تنازعات کا شکار ہونے سے نہ بچ سکا۔

پی ٹی آئی کے انٹرا پارٹی انتخابات پر جہاں مخالف سیاسی جماعتوں کو پی ٹی آئی پر تنقید کا نیا موقع مل گیا وہیں ان کے اپنے کچھ لوگ بھی ان انتخابات سے خوش دکھائی نہیں دیتے۔

انٹراپارٹی انتخابات میں چیئرمین پی ٹی آئی کی جانب سے اپنے وکیل کو چیئرمین بنانا پارٹی کے بچے کچھے کارکنوں کو کافی ناگوار گزرا۔

پارٹی کے درجن سے زائد کارکن درخواستیں لے کر الیکشن کمیشن پہنچ چکے ہیں۔ ان کارکنوں میں پی ٹی آئی کے بانی رہنماؤں میں سے ایک اور عمران خان کے سابقہ قریبی ساتھی اکبر ایس بابر بھی شامل ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اب تک کی صورت حال کے مطابق الیکشن کمیشن نے نئے انٹرا پارٹی انتخابات کی درخواست تو مسترد کر دی لیکن حالات بلے کے نشان کے لیے کچھ حوصلہ افزا نہیں۔ یہ بھی متوقع ہے کہ الیکشن کمیشن پی ٹی آئی کو عام انتخابات میں بلے کے نشان سے محروم کر دے۔

پاکستان میں تقریباً تمام بڑی سیاسی جماعتوں کے انٹرا پارٹی انتخابات صرف نام کے لیے ہی منعقد ہوتے ہیں، جس کی واضح مثالیں مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی ہیں جو سالہا سال سے الیکشن کمیشن اور آئین کی آنکھ میں دھول جھونکنے میں مصروف ہیں۔

پی ٹی آئی کے انٹراپارٹی انتخابات پر ہونے والے اختلافات سے شاید پاکستان کی تاریخ میں پہلی دفعہ کوئی کارکن اپنی ہی پارٹی کے خلاف الیکشن کمیشن پہنچا ہے۔ یہاں بات اگر پارٹی میں ٹوٹ پھوٹ تک رہتی تو پھر بھی ٹھیک تھی لیکن معاملات اس حد تک بگڑ چکے ہیں کہ اب ان کے خاندان میں ان کے قریبی لوگ دست و گریبان ہو گئے ہیں۔

سابق وزیراعظم کے خاندان میں رنجش کی خبریں تو کافی عرصے سے سامنے آ رہی تھیں لیکن گذشتہ دنوں ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی وکیل لطیف کھوسہ کے ساتھ مبینہ گفتگو منظر عام پر آنے کے بعد اس اندرونی لڑائی کی تصدیق بھی ہو گئی۔

گو اس مبینہ آڈیو اور اس سے پہلے لیک ہونے والی آڈیوز کا دفاع ممکن نہیں کیونکہ یہ شخصی آزادی کو صلب کرنے کے مترادف ہے، لیکن اس مبینہ گفتگو نے عمران خان کے اہل خانہ میں جاری اندرونی لڑائی کو مزید واضح کر دیا ہے۔

مبینہ آڈیو لیک نے عمران خان کی اہلیہ اور بہنوں میں پارٹی کی باگ ڈور سنبھالنے پر ہونے والی لڑائی کا بھانڈا بیچ چوراہے پھوڑ دیا ہے۔ اس سے یہ بھی مزید واضح ہو جاتا ہے کہ عمران خان کے اہل خانہ میں معاملات ہرگز نارمل نہیں ہیں۔ وہ عمران خان جن کی سیاست اپنے مخالفین کو موروثی سیاست پر لیکچر دیتے ہوئے گزری، آج ان کی اپنی جماعت اور اہل خانہ انہی امراض کا شکار دکھائی دے رہے ہیں۔

اس ساری صورت حال سے یہ کہنے میں کوئی دو رائے نہیں کہ دوسروں کی غلطیوں کو اچھال اچھال کر پھینکنے میں لطف حاصل کرنے والی تحریک انصاف آج خود ایک تانگہ پارٹی بن چکی ہے، جس کا مستقبل فی الحال تو تاریک ہی نظر آتا ہے۔

نوٹ: یہ تحریر کالم نگار کی ذاتی آرا پر مبنی ہے، جس سے انڈپینڈنٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی نقطۂ نظر