ویڈیوز بنانے کا نہیں کام کرنے کا وقت

ہر طرف آٹھ فروری کے انتخابات کے بعد وجود میں آنے والی حکومت کی مدت سے متعلق سوال اٹھ رہے ہیں لیکن یہ کوئی نہیں پوچھتا کہ اسے کون کون سے مسائل کا سامنا ہے اور یہ کیسے حل ہوں گے۔

معیشت کے بحران نے کتنے ہی لوگوں کو بے روزگار کر دیا ہے۔ آگے چل کر نجکاری سے کتنے لوگوں کو نوکری سے نکالا جائے گا اس کا اندازہ نہیں ہے۔ لیکن اندازہ اس بات کا ہے کہ نوکری کے مواقعے بھی تو نظر نہیں آ رہے (اے ایف پی)

انتخابات ہو گئے، جس نے جیتنا تھا جیت لیا۔ دھاندلی دھاندلی کی آوازیں کسی ایک صوبے نہیں بلکہ پورے پاکستان سے اٹھ رہی ہیں۔ کئی امیدواروں نے یہ کہہ کر اپنی سیٹ واپس کر دی کہ وہ نہیں جیتے اور جو جیتا ہے وہ پارلیمان میں عوام کی نمائندگی کرنے کا مستحق ہے۔

پورا ملک فارم 45 اور 47 میں پھنسا ہوا ہے۔ ایک کہتا ہے کہ وہ فارم 45 کے مطابق جیتا ہے اور دوسرا کہتا ہے کہ فارم 47 کی بات کرو جس میں وہ جیتا ہے۔

ابھی نو منتخب ارکان قومی اسمبلی نے حلف ہی اٹھایا ہے کہ ایک بازگشت ہر طرف سے آنے لگی ہے کہ ’حکومت کتنا عرصے چلے گی۔‘

سوشل میڈیا پر سوال پوچھے جا رہے ہیں ’آپ کے خیال میں یہ حکومت کتنا عرصہ چلے گی‘ اور لوگ اپنی اپنی دانش، اپنے اپنے تعصب کے مطابق جواب دے رہے ہیں۔

اگرچہ ہر تجزیہ کار بس ایک ہی سوال پوچھ رہا ہے کہ ’حکومت کتنا عرصے چلے گی‘ لیکن کوئی بھی اس حوالے سے بات نہیں کر رہا کہ یہ حکومت کس طرح ملک کو درپیش مسائل کو حل کرے گی۔

کوئی بھی اس بارے میں بات نہیں کر رہا کہ ملک کو کن کن معاشی مشکلات کا سامنا ہے اور اس کے علاوہ کن چیلنجز کا سامنا ہے جن پر آنے والی حکومت کو فوری طور پر اقدامات لینے کی ضرورت ہے۔

آئی ایم ایف سے ملنے والی قسط کی بات تو کی جاتی ہے لیکن کوئی اس حوالے سے بات نہیں کرتا کہ اس کا اثر عام عوام پر کیا ہو رہا ہے اور کیا ہو گا۔ بس بات کرتے ہیں تو عوام کے ووٹ کی۔

جب ’ووٹ کو عزت دو‘ والوں ہی نے اس بیانیے کو مسترد کر دیا ہے تو عوام کو کس بات کی توقع تھی۔ مینڈیٹ کی چوری کا شور مچایا جا رہا ہے جیسے یہ زیادتی عوام کے مینڈیٹ کے ساتھ پہلی بار ہوئی ہے۔

بس فرق صرف اتنا ہی ہے کہ پہلے لوگوں نے شور نہیں مچایا اور اب شور مچا رہے ہیں۔ کیوں اس بار مینڈیٹ کی چوری پر شور پڑ رہا ہے اور کیسے پڑ رہا ہے یہ ایک الگ بات ہے۔

یہ آوازیں اس وقت تک بند نہیں ہوں گی جب تک کہ وہ نمائندے پارلیمان میں آئیں جن کو عوام نے مینڈیٹ دیا ہے نہ کہ وہ جن کو دلوایا گیا ہے۔

یہ صرف ایک جماعت کا مسئلہ نہیں ہے اور نہ ہی ایک جماعت کے حامیوں کا، آئندہ ہر بار ایسے ہی شور اٹھے گا جب جب مینڈیٹ چوری کیا جائے گا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

پاکستان کو جہاں ایک جانب معاشی چیلنجز کا سامنا ہے تو دوسری جانب ایسے مسئلے سے دوچار بھی ہے جو ایک عالمی مسئلہ ہے اور اس پر اگر وقت پر توجہ نہیں دی گئی اور اس حوالے سے اقدامات نہ کیے گئے تو نقصان ناقابل تلافی ہو گا۔ اور وہ چیلنج ہے موسمی تبدیلی کا۔

اس حوالے سے بہت کچھ لکھا جا چکا ہے اور بہت کچھ کہا جا چکا ہے۔ موسمی تبدیلی کے کیا اثرات ہیں پاکستان میں اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ برف باری اللہ اللہ کر کے فروری میں ہوئی ہے اور بارشیں غیر معمولی ہوئی ہیں۔

معیشت کے بحران نے کتنے ہی لوگوں کو بے روزگار کر دیا ہے۔ آگے چل کر نجکاری سے کتنے لوگوں کو نوکری سے نکالا جائے گا اس کا اندازہ نہیں ہے۔ لیکن اندازہ اس بات کا ہے کہ نوکری کے مواقع بھی تو نظر نہیں آ رہے۔

یہ سنتے سنتے بڑے ہو گئے کہ ملک ایک مشکل موڑ سے گزر رہا ہے اور اگر ایسا ہی چلتا رہا تو آئندہ آنے والی نسلوں کو بھی یہی کچھ سننا پڑے گا۔ لیکن اس مشکل دور سے نکلنے کے لیے کام کرنا پڑے گا نہ کہ  سوشل میڈیا پر ویڈیوز بنا کر۔

اتوار بازار جانے، کسی کا دوپٹہ صحیح کرنے یا پرجوش تقریریں کر کے عوام کو کچھ دیر کے لیے بہلایا تو جاسکتا ہے لیکن مسئلے حل نہیں کیے جا سکتے۔

نوٹ: یہ تحریر لکھاری کی ذاتی آرا پر مبنی ہے، انڈپینڈنٹ اردو کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

مستند خبروں اور حالات حاضرہ کے تجزیوں کے لیے انڈپینڈنٹ اردو کے وٹس ایپ چینل میں شامل ہونے کے لیے یہاں کلک کریں۔

whatsapp channel.jpeg

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ