’نوجوان میرے ساتھ، جیسے قائد اعظم کے ساتھ تھے‘

ایم کیو ایم پاکستان کے سابق سربراہ ڈاکٹر فاروق ستار کا کہنا ہے کہ وہ جلد ہی نوجوانوں کی ایک ملک گیر سیاسی جماعت کا اعلان کریں گے۔

فاروق ستار الطاف حسین کے متنازع خطاب کے بعد لندن قیادت سے لاتعلقی کے اظہار کو اپنے سیاسی کیرئیر کی سب سے بڑی کامیابی قرار دیتے ہیں۔

متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے سابق سربراہ ڈاکٹر فاروق ستار کا کہنا ہے کہ وہ جلد ہی ایک نوجوانوں کی ملک گیر سیاسی پارٹی کا علان کریں گے، جس میں نہ صرف مہاجر ہوں گے بلکہ پاکستان میں بسنے والے مختلف زبانیں بولنے والے نوجوانوں کو شامل کیا جائے گا۔  

انڈپینڈنٹ اردو کو دیے ایک خصوصی انٹرویو میں ’ماضی کی طاقتور‘ سیاسی جماعت ایم کیو ایم کے مقبول ترین رہنماؤں میں سے ایک ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ اس سیاسی پارٹی کا آغاز تو کراچی اور حیدرآباد سے ہوگا مگر بعد میں نوجوانوں کی یہ پارٹی ملکی سطح پر کام کرنا شروع کر دے گی۔ ان کے مطابق اب تک نوجوانوں کی نئی پارٹی کا کوئی نام تو تجویز نہیں کیا گیا مگر جلد ہی نام کا بھی اعلان کر دیا جائے گا۔

انہوں نے کہا: ’اس نئی پارٹی کا کوئی بھی نام رکھ لیں گے جیسے شہری سندھ الائینس، آواز حقوق شہری سندھ نام رکھ لیں۔‘ 

21 اگست 2016 کو کراچی پریس کلب کے سامنے جمع بڑی تعداد میں کارکنوں سے ٹیلی فون پر ایم کیو ایم کے سربراہ الطاف حسین کے متنازع خطاب کے بعد ڈاکٹر فاروق ستار نے لندن قیادت سے لاتعلقی کا اظہار کرتے ہوئے ایم کیو ایم پاکستان کی قیادت سنبھالی تھی۔

اس کے بعد ایم کیو ایم کے خلاف کریک ڈاؤن شروع ہوا تو بھی انہوں نے پارٹی کو دو سالوں تک سنبھالنے کی بھر پور کوشش کی۔

 

مارچ 2018 میں ایم کیو ایم بہادر آباد گروپ کے رہنما خالد مقبول صدیقی، فروغ نسیم اور دیگر نے پاکستان کے الیکشن کمیشن میں متحدہ قومی موومنٹ کے تنظیمی انتخابات اور ڈاکٹر فاروق ستار کی کنوینر شپ کو چیلینج کیا تھا۔ الیکشن کمیشن نے ان کے حق میں فیصلہ سنایا، جس کے بعد فاروق ستار تنظیم کے کنوینر نہیں رہے۔ بعد میں وہ ایم کیو ایم پاکستان سے بھی علیحدہ ہو گئے تھے۔ 

انہوں نے کہا: ’میں نے گذشتہ دو سالوں میں کراچی اور حیدرآباد کے ہزاروں نوجوانوں کو یکجا کیا ہے۔ 24 دسمبر کو کراچی میں مہاجر ثقافتی دن منایا گیا۔ اس دن پانچ ہزار نوجوانوں نے شرکت کی، وہ نوجوان میرے ساتھ تھے۔ جیسے پاکستان کے قیام کے وقت جامعہ علی گڑھ کے نوجوان قائد اعظم کے ساتھ کھڑے تھے، جیسے 1984 میں مہاجر نوجوان الطاف حسین کے ساتھ کھڑے تھے بالکل ایسے ہی نوجوان میرے ساتھ کھڑے ہیں۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

سوال کیا گیا کہ ایم کیو ایم لندن کے بعد ایم کیو ایم پاکستان، بہادرآباد اور پاک سر زمین پارٹی کے بعد اگر فاروق ستار نے نئی پارٹی بنائی تو ایم کیو ایم مکمل طور ختم نہیں ہو جائے گی؟ تو ان کا کہنا تھا: ’ایم کیو ایم تو ختم ہو گی، مگر اس کی روح کسی اور شکل میں آجائے گی، نظریہ وہی ہے کہ عام آدمی کو طاقت میں لانا۔‘  

فاروق ستار الطاف حسین کے متنازع خطاب کے بعد لندن قیادت سے لاتعلقی کے اظہار کو اپنے سیاسی کیرئیر کی سب سے بڑی کامیابی قرار دیتے ہیں۔

’میرے اس اعلان سے ہزاروں نوجوان گرفتار ہونے سے بچ گئے اور میرے اس فیصلے کو سب نے سراہا۔‘ 

زیادہ پڑھی جانے والی سیاست