افغانستان: ’پیدا ہوتے ہی اذان سے پہلے راکٹ کی آواز سنی‘

حمیدہ کی طرح افغانستان کے سینکڑوں نوجوان مستقبل کے لیے پریشان ہیں تاہم ان میں سے کچھ افغان طالبان اور حکومت کے مابین مذاکرات سے پرامید بھی ہیں۔

ہمیں کوشش کرنی چاہیے کہ ہم زندگی کے لیے ’جہاد‘ کریں اور ہمارا جہاد یہی ہے کہ ہم ہر حال میں زندگی کا مزہ لیں اور ہمیشہ خوش رہیں: حمیدہ (اے ایف پی/ فائل)

’میری ماں مجھے بتاتی ہے کہ جب تم پیدا ہونے والی تھیں تو کابل میں بجلی تھی نہ ہسپتالوں میں ڈاکٹر اور اس رات راکٹ بھی برس رہے تھے۔ میں سوچتی ہوں کہ میں نے پیدا ہونے کے بعد اذان سے پہلے راکٹوں کی آواز میں آنکھیں کھولی ہیں۔‘

یہ کہنا تھا افغانستان  کی حمیدہ احمد زئی (فرضی نام) کا جو اپنے ملک کے مستقبل کے حوالے سے پریشان ہیں۔ انہیں کوئی اندازہ نہیں کہ افغانستان کے حالات کب ٹھیک ہوں گے۔

حمیدہ نے بتایا کہ حالات ایسے ہی ہیں جس طرح آج سے تین دہائی پہلے تھے جب کسی کو معلوم نہیں تھا کہ افغانستان کے عوام کا مستقبل کیا ہوگا۔

’میری پیدائش کے وقت والد ایک سرکاری شعبے میں ملازمت کرتے تھے جبکہ والدہ ماموں کے گھر رہائش پذیر تھیں۔ انہیں کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ آگے کیا ہوگا (افغان جہاد کے دوران)۔‘

انھوں نے کہا کہ ’افغانستان میں یہ جھگڑا آج یا کل کی بات نہیں اور نہ کسی کو پتہ ہے کہ یہ جھگڑا کل ختم ہوجائے گا کیونکہ ہم وہ نسل ہیں جن میں بہت ساروں نے پیدائش ہی سے راکٹوں گولیوں کی آواز اور بموں کی فضا میں آنکھیں کھولیں۔

’ہم وہ لوگ ہیں جنہوں نے پیدائش کے بعد ماں کا دودھ پینے سے پہلے آکسیجن کے ساتھ بارود کی بو سونگھی۔‘

تاہم حمیدہ کہتی ہیں کہ ان سب حالات کے باوجود ہمیں کوشش کرنی چاہیے کہ ہم زندگی کے لیے ’جہاد‘ کریں اور ہمارا جہاد یہی ہے کہ ہم ہر حال میں زندگی کا مزہ لیں اور ہمیشہ خوش رہیں۔

حمیدہ کی طرح افغانستان کے ایسے سینکڑوں نوجوان اپنے مستقبل کے لیے پریشان ہیں۔ تاہم کچھ ایسے بھی ہیں جنہیں افغان طالبان اور حکومت کے درمیان مذاکرات سے امید ہے۔ انڈپینڈنٹ اردو نے افغانستان کے کچھ نوجوان مرد اور خواتین سے بات کی کہ وہ اپنے مستقبل کے لیے کتنے پر امید ہیں؟

ان نوجوانوں میں بعض ایسے ہیں جو 2001 کے بعد پیدا ہوئے جب افغانستان میں امریکہ اور نیٹو افواج داخل ہوچکی تھیں اور جنہوں نے ’افغان جہاد‘ کا وقت دیکھا بھی نہیں اور ابھی جو حالات افغانستان میں ہیں وہ پہلی مرتبہ دیکھ رہے ہیں۔

ننگرہار افغانستان کا ایک اہم صوبہ مانا جاتا ہے جہاں پر افغان طالبان سمیت کچھ دیگر شدت پسند تنظیمیں فعال ہیں جبکہ ماضی میں یہاں افغان طالبان اور دیگر شدت پسند تنظیموں کے مابین لڑائیاں ہوچکی ہے۔

ننگرہار کے محب شنواری نے بتایا کہ ان کے صوبے میں زندگی کا پہیہ چل رہا ہے اور بظاہر کوئی مسئلہ نہیں، تاہم ننگرہار کی پاکستان کے ساتھ  سرحد پر افغان طالبان اور سکیورٹی فورسز کے مابین لڑائی جاری ہے۔

افغان طالبان کے مطابق افغانستان کے تقریباً 420 اضلاع میں سے 200 سے زائد اضلاع پر ان کا کنٹرول ہے۔

محب نے بتایا: ’تاجر اپنی تجارت جاری رکھے ہوئے ہیں، طلبہ سکول اور کالج جا رہے ہیں۔ زمین دار اپنے کھیتوں میں کام کرتے ہیں اور ایسا کوئی مسئلہ نہیں سوائے بارڈر پر جہاں لڑائی جاری ہے اور ہم امید رکھتے ہیں کہ امن آجائے گا۔‘

انہوں نے بتایا کہ زندگی امید پر قائم ہے اور ہماری امید یہی ہے کہ اللہ کے فضل سے ایک نہ ایک دن امن کی فضا قائم ہوگی۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ افغانستان کے نوجوان کیا چاہتے ہیں، تو انہوں نے کہا کہ عام نوجوان افغانستان میں ایک اسلامی جمہوری نظام چاہتے ہیں جہاں وہ خوشی سے زندگی بسر کر سکیں اور اسی سلسلے میں مختلف جگہوں پر امن مارچ بھی گاہے بگاہے منعقد کیے جاتے ہیں اور فریقین (افغان طالبان اور افغان حکومت) سے مطالبے کرتے ہیں کہ لڑائی کو ختم کر کے ایک پرامن افغانستان کی بنیاد رکھی جائے۔

سلمیٰ خپلواک (فرضی نام) افغانستان کی ایک نوجوان شاعرہ ہیں اور سوشل میڈیا پر زیادہ تر اپنے احساسات شیئر کرتی رہتی ہیں۔

وہ افغانستان میں جاری لڑائی کے حوالے سے روزانہ اپنی رائے فیس بک پر شیئر کرتی ہیں۔ انہوں نے لکھا کہ افغانستان میں موجودہ حالات کی وجہ سے وہ بہت ڈرتی ہیں اور سوچتی ہیں کہ سارے افغان عوام ایسے ہی ہوں گے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

’جب میں کچھ کام شروع کرتی ہوں تو واپس مڑ جاتی ہوں، جب کوئی شعر لکھنا چاہتی ہوں تو نہیں لکھ سکتی اور نہ کتاب پڑھ سکتی ہوں، مختصراً یہ کہ جو بھی کرنا چاہتی ہوں وہ نہیں کر پاتی۔‘

انہوں نے مزید کہا: ’ہمارے نوجوان اب اس حالت میں ہیں کہ انہیں کچھ سمجھ نہیں آرہا وہ کریں بھی تو کیا کریں۔ ہمیں کوئی سیدھا راستہ دکھانے والا نظر نہیں آرہا اور نہ ہمیں اندازہ ہے کہ یہ حالات کس نہج پر پہنچ جائیں گے۔‘

تاہم سلمیٰ کہتی ہیں کہ اس سب کے باوجود جب وہ بچوں کو سکول کالج جاتے دیکھتی ہیں تو انہیں آگے روشنی نظر آتی ہے اور انہیں اچھے دنوں کی جانب جاتی ہوئی ایک سڑک دکھائی دیتی ہے، یہی بچے جو آج سکولوں اور کالجوں کو جا رہے ہیں، افغانستان کے مستقبل کو بدل دیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ’ یہی دن ہے کہ ہم فیصلہ کریں اور اپنے مستقبل کے لیے کوئی راستہ ڈھونڈیں، اگر آج یہ موقع ہم سے نکل گیا تو ہمیں اٹھانے والے کوئی نہیں ہوگا، ابھی امن کی جانب جو کوشش ہورہی ہے وہ آہستہ ہی صحیح لیکن جاری رہنی چاہیے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا