عجیب دھات دریافت جسے سمجھنا سائنس دانوں کے لیے دردِ سر بن گیا

اس مادے میں باقی دھاتوں کے معمول کے برخلاف برقی چارج الیکٹرانز میں نہیں بلکہ کوپر پیئرز میں موجود ہوتا ہے، جو لہروں کی طرح ہوتے ہیں۔

جرمنی کے ایک پلانٹ میں سٹیل کوائل۔ سائنس دانوں نے ایک ایسا ’ عجیب دھات‘  کو دریافت کیا ہے جو عام دھاتوں کی طرح کام نہیں کرتی (فائل فوٹو:اے ایف پی )

سائنس دانوں نے ایک نئی ’عجیب دھات‘ دریافت کی ہے، جس کی خصوصیات کو سمجھنے سے وہ قاصر ہیں۔

لیکن یہ دریافت ایک ایسے مظاہر قدرت کی وضاحت کے لیے اہم ثابت ہو سکتی ہے جس نے محققین کو دہائیوں سے پریشان کر رکھا ہے۔

اس مسئلے کو حل کرنے سے سائنس کے میدان میں کئی طرح کی کامیابیاں مل سکتی ہیں جیسا کہ بجلی کے نقصان کے بغیر کام کرنے والے پاور گرڈ اور کوانٹم کمپیوٹر۔

بظاہر ایسا لگتا ہے کہ یہ معاملہ کائنات کی کچھ بنیادی اکائیوں (constants) سے بھی جڑا ہوا ہے اور اس طرح ہم معلوم کر سکتے ہیں کہ کائنات کا نظام اصل میں کیسے چل رہا ہے۔

زیادہ تر دھاتیں جیسے تانبے اور چاندی کی خصوصیات قابل فہم ہوتی ہیں اور ہم پیش گوئی کرسکتے ہیں کہ یہ کس طرح برتاؤ کرتی ہیں، مثال کے طور پر سائنس دان جانتے ہیں کہ ان کو گرم یا ٹھنڈا کرنے پر ان کی برقی موصلیت (conductivity) کی صلاحیت کیسے بدل جاتی ہے۔

لیکن حال ہی میں سائنس دان ایک الگ قسم کے دھاتی مواد پر تحقیق کر رہے ہیں جسے ’عجیب دھات‘ (strange metal) کے نام سے جانا جاتا ہے۔

یہ مواد معمول کے برقی قواعد کے مطابق برتاؤ کرتے نظر نہیں آتے جس سے سائنس دانوں کی دلچسپی دوگنا بڑھ گئی ہے کیونکہ یہ کوانٹم دنیا کے اشارے پیش کرنے کے ساتھ ساتھ دوسرے مظاہر قدرت کو بھی سمجھنے کا ایک طریقہ ہو سکتے ہیں جن کی مکمل وضاحت ہونا ابھی باقی ہے۔

اب سائنس دانوں نے اس دھات کی ایک اور عجیب و غریب خصوصیت تلاش کرلی ہے، جو ایک اور حل طلب معمہ ہے۔ اس مادے میں باقی دھاتوں کے معمول کے برخلاف برقی چارج الیکٹرانز میں نہیں بلکہ کوپر پیئرز میں موجود ہوتا ہے، جو لہروں کی طرح ہوتے ہیں۔ 

الیکٹران ذرات کی ایک ایسی کلاس کا حصہ ہیں جسے فریمیون (جس میں الیکٹران، پروٹان، نیوٹران وغیرہ شامل ہیں) کہتے ہیں اور کوپر پیئرز دراصل بوزون (جس میں فوٹان شامل ہیں) ہیں جو بہت مختلف طریقے سے برتاؤ کرتے ہیں۔ بوزون والے نظام میں دھات کا عجیب برتاؤ کبھی نہیں دیکھا گیا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس دریافت سے آخر کار کئی دہائیوں پر محیط اس اسرار کو حل کرنے میں مدد مل سکتی ہے کہ دھات کا یہ عجیب و غریب برتاؤ دراصل کیوں ہوتا ہے۔

براؤن یونیورسٹی میں فزکس کے پروفیسر اور نئی تحقیق کے مصنف جم ویلز نے کہا: ’بنیادی طور پر یہ دو مختلف قسم کے ذرات ہیں جن کے رویے ابھی تک راز ہیں۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ دھات کے عجیب رویے کی وضاحت کرنے والا کوئی بھی نظریہ ان دونوں ذرات کے لیے مخصوص نہیں ہو سکتا۔ اسے اس سے بھی زیادہ بنیادی ہونا چاہیے۔‘

یہ تحقیق، جس کا عنوان Signatures of a strange metal in a bosonic system  ہے، سائنسی جریدے ’نیچر‘ میں شائع ہوئی ہے۔

کوپریٹس (cuprate) نامی مادے کی ایک نئی قسم کی دریافت کے بعد سے اس دھات کا عجیب و غریب رویہ 30 سالوں سے سائنس دانوں کے لیے درد سر بنا ہوا ہے جو دوسری دھاتوں کی طرح کام نہیں کرتا۔ 

جب عام دھاتوں کو گرم کیا جاتا ہے تو ان کی مزاحمت بڑھ جاتی ہے یہاں تک کہ ایک خاص مقام پر زیادہ درجہ حرارت کا مطلب ہے کہ یہ مزاحمت مستقل ہو جاتی ہے لیکن کوپریٹس میں ایسا نہیں ہوتا اور عجیب دھاتیں متوقع اصولوں پر پورا نہیں اترتیں۔

محققین اب تک نہیں جان پائے کہ ایسا کیوں ہوتا ہے۔ لیکن وہ جانتے ہیں کہ یہ دو مختلف کانسٹنٹس سے جڑا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ ایک حرارت کی حرکت سے پیدا ہونے والی توانائی سے متعلق ہے اور دوسرا پلانکس کانسٹنٹ، جو روشنی کے ذرات کی توانائی سے متعلق ہے۔

ویلز نے کہا: ’لوگوں نے ان عجیب دھاتوں کے بارے میں جاننے کے لیے بلیک ہولز کو سمجھنے کے لیے استعمال ہونے والے ریاضیاتی طریقوں کو استعمال کیا ہے، لہٰذا ان مواد میں بہت کچھ بنیادی طبیعیات کے مطابق ہی ہو رہا ہے۔‘

یہ بہتر طور پر سمجھنے کے لیے کہ یہ کیوں ہو رہا ہے سائنس دانوں نے ایک کوپریٹ مواد کا استعمال کیا جس میں کوپر پیئرز بنانے کے لیے چھوٹے سوراخ تھے۔ انہوں نے اسے ٹھنڈا کیا اور دیکھا کہ اس کی برقی موصلیت کس طرح بدلتی ہے۔ اس سے پتہ چلا کہ یہ فریمیونک عجیب دھاتوں کی طرح برتاؤ کر رہی ہے۔

یہ اس بات کی وضاحت نہیں کرتی کہ یہ عجیب برتاؤ کہاں سے آرہا ہے، لیکن یہ ان کے لیے معلومات کا ایک نیا رخ فراہم کرتا ہے تاکہ اسے بہتر طریقے سے سمجھنے کی کوشش کی جا سکے۔

ویلز نے کہا: ’نظریہ سازوں کے لیے یہ ایک چیلنج رہا ہے کہ وہ عجیب دھاتوں کے برتاؤ کی وضاحت کریں۔ ہمارا کام ظاہر کرتا ہے کہ اگر آپ عجیب دھاتوں میں چارج ٹرانسپورٹ کا ماڈل بنانے جا رہے ہیں تو اس ماڈل کا اطلاق فریمیون اور بوزون دونوں پر ہونا چاہیے حالانکہ اس قسم کے ذرات بنیادی طور پر مختلف اصولوں کے تحت عمل کرتے ہیں۔‘

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی سائنس