برطانیہ کی اسرائیل کی حمایت میں ٹویٹ پر خواجہ آصف کی تنقید

برطانوی وزیر خارجہ لز ٹرس کا کہنا تھا کہ ’برطانیہ اسرائیل اور اس کے حق دفاع کے ساتھ کھڑا ہے۔ ہم دہشت گرد گروپوں کی شہریوں پر فائرنگ اور تشدد کی مذمت کرتے ہیں۔‘

پاکستانی وزیر دفاع خواجہ محمد آصف 26 دسمبر 2016 کو چینی اور افغان ہم منصب کے ساتھ بیجنگ میں مشترکہ پریس کانفرنس کر رہے ہیں (تصویر: اے ایف پی)

پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے اپنی ایک ٹویٹ میں برطانوی وزیر خارجہ لز ٹرس کے بیان پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ’نسل پرست‘ اور ’دہشت گرد ریاست‘ کے ساتھ کھڑے ہونے سے آپ قابض ہونے کے ’جرم میں شریک‘ بن جاتے ہیں۔

پاکستانی وزیر دفاع نے اپنے ٹویٹ میں مزید لکھا ہے کہ ’بالفور ڈیکلریشن کے اصل گناہ کے بعد سے ایک صدی گزر جانے کے باوجود فلسطین میں خون بہہ رہا ہے اور غیر انسانی سلوک کا کوئی خاتمہ ہوتا نظر نہیں آرہا ہے۔‘

برطانوی حکومت کے فارن، کامن ویلتھ اینڈ ڈویلپمنٹ آفس کی جانب سے ایک ٹویٹ چھ اگست 2022 کو کی گئی تھی جس میں برطانوی وزیر خارجہ لز ٹرس کا ایک بیان شیئر کیا گیا تھا۔

اس بیان میں لز ٹرس کا کہنا تھا کہ ’برطانیہ اسرائیل اور اس کے حق دفاع کے ساتھ کھڑا ہے۔ ہم دہشت گرد گروپوں کی شہریوں پر فائرنگ اور تشدد کی مذمت کرتے ہیں جس سے دونوں جانب جانی نقصان ہوا ہے۔ ہم تشدد کا فوری خاتمہ چاہتے ہیں۔‘

پاکستانی وزیر دفاع خواجہ آصف نے برطانوی وزیر خارجہ کے اس ٹویٹ پر ردعمل پیر کو ظاہر کیا ہے جبکہ آج صبح اسرائیل اور فلسطین جنگ بندی پر رضامند ہو چکے ہیں۔

مصر کی ثالثی کوششوں کے باعث اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان جنگ بندی کا آغاز اتوار کی شب سے ہو گیا تھا۔

اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان ’نازک‘ جنگ بندی پیر کو قائم رہی جس سے امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ اب تک 44 فلسطینیوں کی جان لینے والا تنازع ختم ہو گیا تھا۔  

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق مصر کی ثالثی سے قائم کی گئی جنگ بندی اتوار کو مقامی وقت رات ساڑھے 11 بجے شروع ہوئی، جس کا مقصد غزہ میں گذشتہ سال 11 روزہ جنگ کے بعد سے بدترین لڑائی کو روکنا تھا۔

جمعے سے اسرائیل کی غزہ میں شدید بمباری اور فضائی حملے جاری تھے، جن میں متعدد عمارتیں تباہ ہو چکی ہیں۔ اسرائیل کے مطابق غزہ کی جانب سے بھی اسرائیل میں راکٹ داغے گئے۔

غزہ میں محکمہ صحت کے مطابق اب تک  15 بچوں سمیت 44 افراد مارے جا چکے ہیں۔  

العربیہ اردو ڈاٹ نیٹ کے مطابق اسلامک جہاد کے ترجمان طارق سلمی نے کہا: ’ہم مصر کی ان کوششوں کو سراہتے ہیں جو اس نے ہمارے عوام کے خلاف اسرائیلی جارحیت کے خاتمے کے لیے کی ہیں۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم یائیر لاپید نے بھی مصر کا ثالثی کے لیے شکریہ ادا کیا۔

امریکی صدر جو بائیڈن نے جنگ بندی کا خیر مقدم کرتے ہوئے شہریوں کی اموات کو ’سانحہ‘ قرار دیا ہے اور معاملے کی تحقیقات پر زور دیا۔

وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ ’گذشتہ 72 گھنٹوں میں امریکہ نے اسرائیل، فلسطینی اتھارٹی، مصر، قطر، اردن اور خطے میں دیگر ممالک کے اہلکاروں کے ساتھ مل کر کام کیا ہے کہ تاکہ تنازعے کا جلد سے جلد حل نکالا جا سکے۔‘

انہوں نے کہا: ’میں مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی اور دیگر اعلیٰ عہدیداروں کا شکر گزار ہوں جنہوں نے سفارت کاری میں کردار ادا کیا اور اس کے ساتھ ساتھ قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی اور ان کی ٹیم کا بھی جنہوں نے لڑائی ختم کروانے میں مدد کی۔‘

اے ایف پی کے مطابق اقوام متحدہ میں مشرق وسطیٰ کے امن کے نمائندے ٹور وینسلینڈ نے کہا: ’صورت حال اب بھی نازک ہے اور میں تمام فریقین پر زور دوں گا کہ وہ جنگ بندی کے پابند ہوں۔‘

خوفزدہ شہری

غزہ میں شفا ہسپتال کے ڈائریکٹر جنرل محمد انو سالمیہ نے کہا کہ طبی عملہ ’بہت برے حالات میں‘ زخمیوں کی دیکھ بھال کر رہا ہے، اور ممکن ہے کہ ادویات کے ساتھ ساتھ جینریٹرز چلانے کے لیے ایندھن بھی ختم ہو جائے گا۔

غزہ میں مقیم نور ابو سلطان نے جنگ بندی کے نفاذ سے قبل اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ لوگ اس کے منتظر ہیں۔

ان کا کہنا تھا: ’ہم گرمی، شیلنگ اور راکٹوں کی وجہ سے کئی دنوں سے سوئے نہیں ہیں۔ ہمارے اوپر سے گزرتے طیاروں کی آواز ڈراونی ہے۔‘

غزہ کی سرحد کے قریب واقع اسرائیلی شہر سڈیروٹ میں دالیہ ہریل نے کہا کہ گذشتہ دنوں کی لڑائی سے ان کے بچے ’صدمے میں ہیں‘، مگر پھر بھی وہ جنگ بندی سے ’مایوس‘ ہیں۔

ان کا کہنا تھا: ’ہم ہر سال فوجی آپریشن سے تھک گئے ہیں۔ ہمارے فوجی اور سیاسی لیڈران کو چاہیے کہ وہ ایک بار ہی بات ختم کر دیں۔۔۔ ہم جنگ کے حامی نہیں، مگر ہم ایسے گزارا نہیں کر سکتے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا