عام انتخابات: لیول پلیئنگ فیلڈ کے ’شکوے‘ اور سیاسی کارکردگی

تجزیہ نگاروں کے مطابق انتخابات میں یہ دیکھنا ہوگا کہ سیاسی جماعتیں کس طرح لیول پلئینگ فیلڈ حاصل کر کے سیاسی انجینیئرنگ کو روکتی ہیں۔

ایک طرف مسلم لیگ ن کی سیاست پارٹی قائد نواز شریف کی واپسی پر منحصر ہے تو دوسری جانب پاکستان پیپلز پارٹی کی امیدیں سابق صدر اور پارٹی رہنما آصف علی زرداری سے وابستہ ہیں (اے ایف پی/فائل تصاویر)

پاکستان میں الیکشن کمیشن کی جانب سے جنوری کے آخری ہفتے میں عام انتخابات کے انعقاد کا عندیہ مل چکا ہے، جس کے بعد سے سیاسی جماعتیں صف بندیوں اور جوڑ توڑ کے عمل کے لیے کوشاں دکھائی دیتی ہیں۔

ایک طرف مسلم لیگ ن عام انتخابات کے ساتھ ساتھ  پارٹی قائد اور سابق وزیراعظم نواز شریف کی واپسی پر استقبال کی تیاریوں میں مصروف ہے اور سیاسی طور پر بظاہر انہیں کوئی ’خدشہ‘ نہیں ہے تو دوسری جانب پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) ’لیول پلیئنگ فیلڈ‘ یعنی یکساں سیاسی آزادی نہ ملنے کا شکوہ کرتی دکھائی دیتی ہیں۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق الیکشن کمیشن کی جانب سے انتخابات کا اعلان وقت کی ضرورت تھا لیکن اب دیکھنا یہ ہے کہ کس طرح سیاسی جماعتیں لیول پلیئنگ فیلڈ حاصل کر کے ’سیاسی انجینیئرنگ‘ کو روکتی ہیں کیونکہ گذشتہ پانچ سالوں میں سب جماعتیں اقتدار میں رہیں اور کارکردگی کسی کی بھی بہترین نہیں تھی۔  

سیاسی جماعتوں کی حکمت عملی کیا ہے؟

اس وقت ملک کی بڑی سیاسی جماعتوں نے پنجاب پر نظریں جما رکھی ہیں اور سب سے زیادہ فوکس ’پنجاب فتح کرنے پر‘ کیا جارہا ہے۔

انڈپینڈنٹ اردو نے اس سلسلے میں مختلف سیاسی جماعتوں سے رابطہ کیا اور ان کی حکمت عملی سے متعلق جاننے کی کوشش کی۔

مسلم لیگ ن پنجاب کی ترجمان عظمیٰ بخاری نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’مسلم لیگ ن کافی عرصے سے الیکشن کے لیے تیار ہے اور مریم نواز نے پارٹی کو مکمل طور پر دوبارہ سے منظم بھی کر لیا ہے۔‘

انہوں نے مزید کہا: ’ہم 14 مئی کے الیکشن کے لیے بھی تیار تھے۔ اب الیکشن کمیشن کی جانب سے جنوری میں جو اعلان کیا گیا ہے، اس سے غیر یقینی کی صورت حال اور قیاس آرائیوں کا خاتمہ ہوگا۔ ہم اس بار بھی تیار ہیں۔‘

بقول عظمیٰ بخاری: ’جس طرح تمام سیاسی جماعتیں یکسوئی کے ساتھ الیکشن میں جائیں گی ہم بھی نواز شریف کی وطن واپسی کے منتظر ہیں۔ میاں صاحب کی واپسی کی تیاریاں جاری ہیں اور اس کے ساتھ ہی ہم بھی مہم کا باقاعدہ آغاز کریں گے۔ ابھی ہم ان کی واپسی کے لیے استقبال کی تیاریوں میں مصروف ہیں۔ 21 اکتوبر کو نواز شریف کی واپسی کی تاریخ کا اعلان کردیا ہے۔ جلسے اور استقبال سے متعلق بھی شیڈول جلد جاری کر دیا جائے گا۔‘

دوسری جانب پیپلز پارٹی کے رہنما چوہدری منظور نے بھی بتایا کہ ’الیکشن کمیشن کی جانب سے انتخابات کے اعلان کا خیر مقدم کرتے ہوئے ہم نے بھی تیاری شروع کر دی ہے۔‘

انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا: ’تمام حلقوں سے مضبوط امیدواروں کا انتخاب بھی جلد مکمل ہوجائے گا۔ ہم سب کے ساتھ مل کر افہام وتفہیم سے سیاست کے قائل ہیں۔ کسی سے کوئی خطرہ نہیں، ہمارا اپنا ووٹ بینک ہے، جس پر انحصار کریں گے۔‘

اسی طرح پاکستان تحریک انصاف بھی ’انتخابات کے لیے تیار‘ دکھائی دیتی ہے۔ پی ٹی آئی کے ترجمان رؤف حسن نے کہا: ’قیادت کی رہنمائی میں ہم انتخابات کے لیے تیار ہیں۔ ہم نے تو شروع سے ہی الیکشن کا مطالبہ کر رکھا ہے۔ اب الیکشن کمیشن نے جنوری میں الیکشن کروانے کا اعلان تو کر دیا مگر تاریخ نہیں دی گئی جس سے شبہات ابھی بھی موجود ہیں۔ البتہ ہمارے امیدوار بھی فائنل ہیں اور انتخابات کے لیے کارکن بھی تیاری کر رہے ہیں۔‘

لیول پلیئنگ فیلڈ کا معاملہ

مسلم لیگ ن کے علاوہ دو بڑی جماعتیں یکساں سیاسی آزادی کے ساتھ انتخابات کا مطالبہ کر رہی ہیں لیکن نیب ترامیم کے خلاف سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے سے مسلم لیگ ن کی قیادت بھی محتاط دکھائی دیتی ہے۔

پیپلز پارٹی کے رہنما چوہدری اسلم گل نے اس حوالے سے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا: ’لاہور میں ہماری سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کی میٹنگ میں سب سے زیادہ رہنماؤں نے جو رائے دی وہ یہ تھی کہ ہمیں لیول پلیئنگ فیلڈ نہیں دی جا رہی۔ بلاول بھٹو نے بھی یہی رائے دی اور شرکا نے سب سے پہلے اس معاملے کو حل کرنے پر زور دیا۔ جس پر وہاں موجود آصف علی زرداری نے کہا کہ اس بارے میں وہ بات چیت کے ذریعے کوئی حل نکال سکتے ہیں، لہذا سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی نے یہ مسئلہ حل کرنے کا اختیار انہیں دے دیا ہے۔‘

اسلم گل کے بقول: ’زرداری صاحب مفاہمت کے بادشاہ ہیں، ہمیں یقین ہے وہ کوئی راستہ ضرور نکال لیں گے اور اسی سلسلے میں انہوں نے مسلم لیگ ق کے سربراہ چوہدری شجاعت سے بھی ملاقات کی ہے جبکہ وہ دیگر جماعتوں سے بھی اس معاملے پر بات کریں گے۔‘

پاکستان تحریک انصاف، جو نو مئی کو اپنے چیئرمین عمران خان کی گرفتاری کے بعد ہونے والے پرتشدد مظاہروں کے بعد سے زیر عتاب ہے، بھی لیول پلیئنگ فیلڈ نہ ملنے کا شکوہ کرتی نظر آتی ہے۔

پارٹی کے ترجمان رؤف حسن نے کہا: ’جس طرح ہماری قیادت کو گرفتار کیا گیا ہے، سینکڑوں رہنماؤں اور کارکنوں کے خلاف مقدمات درج ہیں ہم تو یہ کہہ سکتے ہیں کہ ہمیں لیول پلیئنگ فیلڈ نہیں دی جا رہی۔ مگر پیپلز پارٹی یہ کس طرح کہہ سکتی ہے کہ انہیں آزادی سے الیکشن لڑنے نہیں دیا جا رہا، وہ تو ڈیڑھ سال حکومت میں بیٹھی رہی ہے، تب انہیں یہ خیال کیوں نہیں آیا؟‘ 

نیب ترامیم سے متعلق فیصلے کے سیاسی اثرات

سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس کی سربراہی میں بینچ کی جانب سے نیب ترامیم کے خلاف فیصلے کے بعد سیاسی قائدین کے خلاف بھی نیب ریفرنسز بحال ہوگئے ہیں اور نیب کی جانب سے ان پر کارروائی کا آغاز بھی کر دیا گیا ہے۔

نواز شریف کی 21 اکتوبر کو وطن واپسی سے متعلق لندن میں اعلان کرنے کے بعد مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف پاکستان آئے ہی تھے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے فوری بعد وہ کچھ گھنٹوں میں ہی مریم نواز کے ہمراہ واپس لندن روانہ ہوگئے۔

یہ قیاس آرائیاں بھی کی جا رہی ہیں کہ اس دوران نواز شریف کی لندن میں کی گئی پریس کانفرنس، جس میں انہوں نے اپنی حکومت کے خاتمے میں سابق فوجی افسران اور سابق چیف جسٹس سمیت پانچ شخصیات کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا تھا، کی وجہ سے بھی شہباز شریف کو دوبارہ لندن لوٹنا پڑا۔

سیاسی تجزیہ کار سلمان غنی سمجھتے ہیں کہ ’نواز شریف کی واپسی کے بغیر مسلم لیگ ن کے لیے الیکشن جیتنا ممکن نہیں۔‘ تاہم ان کا کہنا تھا کہ ’جب ان کی واپسی کا اعلان ہوگیا تو اس کے بعد سپریم کورٹ کا فیصلہ ان کے لیے پریشانی کا باعث بن سکتا ہے۔‘

انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں انہوں نے کہا: ’انہیں قانونی ٹیم کی جانب سے یقین دہانی کروائی گئی تھی کہ واپسی کے لیے ان کا قانونی راستہ صاف ہے، لیکن اب انہیں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے اسی لیے شہباز شریف فوری لندن چلے گئے، جس سے ان کی اعلان کے مطابق واپسی موخر ہونے کا خدشہ بھی موجود ہے۔‘

سلمان کے مطابق: ’سپریم کورٹ کے فیصلے کی ٹائمنگ بہت اہم ہیں، اس سے یہ بھی محسوس ہوتا ہے کہ شاید کوئی طاقت نواز شریف کی واپسی روکنا چاہتی ہے۔ اس لیے ایسی صورت حال ن لیگ کے لیے اور آئندہ انتخابات کے انعقاد میں مشکل پیدا کر سکتی ہے۔‘

دوسری جانب تجزیہ کار وجاہت مسعود سمجھتے ہیں کہ اگرچہ عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کی قسط انتخابات کے انعقاد سے مشروط ہونے کے باعث انتخاب کا اعلان ہوچکا ہے، لیکن ’سیاسی منظر نامہ ابھی بالکل صاف نہیں ہے۔‘

انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا: ’ماضی کو مد نظر رکھتے ہوئے ایسا لگتا ہے کہ کسی ایک جماعت کو اکثریت لینے سے روکنے کے لیے طاقتور حلقے روایت کے مطابق سیاسی انجینیئرنگ کر کے ہنگ (معلق) پارلیمنٹ چاہتے ہیں تاکہ نظام میں ان کا اثر برقرار رہے۔‘

وجاہت مسعود نے مزید کہا: ’دیکھنا یہ ہے کہ سیاسی جماعتیں کس طرح لیول پلیئنگ فیلڈ حاصل کر کے سیاسی انجینیئرنگ کو روکتی ہیں۔ اس وقت تمام سیاسی جماعتیں مسائل میں گھری نظر آتی ہیں۔ کسی کو عدالتی مقدمات کا سامنا ہے تو کسی کو واضح عوامی مقبولیت حاصل نہیں، اس لیے انتخابات کا انعقاد اپنی جگہ لیکن واضح کامیابی کے ساتھ کسی ایک جماعت کا اقتدار میں آنا بھی مشکل لگ رہا ہے۔ ان چیلنجز کا سامنا کرنے کے لیے سیاسی جماعتوں کی کوئی موثر حکمت عملی بھی دکھائی نہیں دے رہی۔‘

پانچ سالہ کارکردگی سب جماعتوں کے لیے چیلنج

تجزیہ کاروں کے مطابق گذشتہ حکومتوں کی کارکردگی ایسی نہیں رہی کہ عوام ان پر اعتماد کریں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

سلمان غنی نے اس حوالے سے کہا: ’گذشتہ پانچ سالوں میں جس طرح سیاسی و آئینی بحران پیدا ہوئے اور عوام مہنگائی کے طوفانوں میں گھری رہی، اس سے عوام کا تمام سیاسی جماعتوں اور طاقتور حلقوں کی سیاسی انجینیئرنگ سے اعتماد اٹھ چکا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا: ’معاشی استحکام کے لیے نئے انتخابات اور ایک مستحکم جمہوری حکومت وقت کی اہم ضرورت بن چکی ہے۔ پہلے تحریک انصاف، پھر پی ڈی ایم اور اب نگران حکومت عوام کو ریلیف دے کر نظام کو مستحکم کرنے میں ناکام ہوئی۔ اس لیے آئندہ انتخابات میں سب برابر کھڑے ہیں، کسی کی کامیابی کا حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جاسکتا۔‘

وجاہت مسعود کے بقول: ’جتنے بڑے معاشی، سیاسی اور بدامنی کے مسائل ملک کو اس وقت درپیش ہیں، اس کا واحد حل تو نئے انتخابات ہی ہیں، لیکن جس طرح سیاسی جماعتوں اور اداروں کا طرز عمل ہے مکمل مستحکم اور بااختیار حکومت بنتی دکھائی نہیں دے رہی کیونکہ کسی نے بھی ماضی سے کچھ نہیں سیکھا۔ سیاسی قائدین ہوں یا ادارے سب اسی پرانی حکمت عملی پر عمل پیرا دکھائی دے رہے ہیں۔‘

انہوں نے مزید کہا: ’سیاسی قائدین معاشی مسائل کی بجائے اقتدار کے حصول جبکہ مقتدر ادارے ملکی استحکام کی بجائے نظام میں اپنی زیادہ سے زیادہ مداخلت کے لیے کوشاں ہیں۔ اس طرح مسائل حل ہونے کی بجائے بڑھنے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی سیاست