’یوم سیاہ‘: گھروں سے دور قید 300 کشمیریوں کے اہل خانہ کا کرب

زیادہ تر کشمیری انڈین ریاستوں اتر پردیش اور ہریانہ کی جیلوں میں ہیں، جنہیں مقدمے کی سماعت میں تاخیر اور خاندانوں کی طرف سے ٹیلی فون کال یا ملاقات کے بغیر طویل اذیت کا سامنا ہے۔

انسانی حقوق کے کارکنوں، وکلا اور اہل خانہ نے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر جیلوں میں قید افراد کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے (سجاد حمید/ انڈپینڈنٹ اردو)

کشمیری ہر سال 27 اکتوبر کو ’یوم سیاہ کشمیر‘ کے طور پر مناتے ہیں۔ اس حوالے سے سری نگر سے ہماری خصوصی رپورٹ دیکھیں، جس میں گرفتار کشمیریوں کے اہل خانہ نے اپنے دکھ اور کرب کے بارے میں انڈپینڈنٹ اردو سے خصوصی گفتگو کی۔

پانچ اگست 2019 کو انڈیا کے زیرانتظام کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کے بعد سے اس حساس علاقے میں درج مقدمات میں ملوث 379 کشمیریوں کو علاقے سے باہر دور دراز کی جیلوں میں رکھا جا رہا ہے۔

ان میں سیاست دان، تاجر، پتھراؤ کرنے والے اور دیگر مبینہ جرائم میں ملوث افراد شامل ہیں۔ زیادہ تر لوگ اتر پردیش اور ہریانہ کی جیلوں میں قید ہیں، جنہیں مقدمے کی سماعت میں تاخیر اور خاندانوں کی طرف سے ٹیلی فون کال یا ملاقات کے بغیر طویل اذیت کا سامنا ہے۔

نثار احمد گنی کو 2020 میں کشمیر میں اسلحہ ایکٹ کے تحت گرفتار کیا گیا تھا اور 2021 میں گڑگاؤں ڈسٹرکٹ جیل منتقل کیا گیا تھا۔

ان کی بہن نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ انہوں نے پچھلے چار سال سے اپنے بھائی کو نہیں دیکھا۔ ’ہمارے خاندان کی حالت بد سے بدتر ہے اور دن بہ دن جہنم بنتی جا رہی ہے، ہم لفظی طور پر ہر ایک سے پیسے کی بھیک مانگنے پر مجبور ہیں۔ اکثر لوگ انکار کر دیتے ہیں۔

’میں بیمار بھی ہوں اور میرے گھر والے بھی میرے علاج کا خرچہ نہیں اٹھاتے۔ ہم اندر ہی اندر مر چکے ہیں۔ ہم کسی سے اپنے جذبات کا اظہار کیسے کر سکتے ہیں۔‘

ان کا مزید کہنا تھا: ’میں اپنی روزمرہ کی دوائیاں خریدنے کی متحمل نہیں ہو سکتی کیونکہ ہمارے پاس ادویات خریدنے تک کی طاقت نہیں ہے۔ جب بھی میں اپنی دوائیوں کو نظر انداز کر دیتی ہوں تو میری بیماری مزید بڑھ جاتی ہے۔

’میرا بھائی میرے خاندان کا واحد کمانے والا تھا، جو کام کرتا تھا اور ہمارے خاندان کا پیٹ پالتا تھا، اپنے والدین کا خیال رکھتا تھا، مقامی گاؤں کے انتظامی ادارے کے علاوہ ہماری مدد کے لیے کوئی نہیں آیا۔‘

انہوں نے اعلیٰ حکام اور حکومت سے گزارش کی کہ ان کے بھائی کی رہائی کے لیے سہولت فراہم کی جائے۔

انسانی حقوق کے کارکنوں، وکلا اور اہل خانہ نے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر جیلوں میں قید افراد کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔

اسی طرح سجاد گل ہیں، جنہیں 2022 میں کشمیر میں لوگوں کو ’تشدد کا سہارا لینے اور عوامی امن کو خراب کرنے‘ کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔ انہیں 2022 میں اترپردیش کی جیل منتقل کر دیا گیا تھا۔

ان کی والدہ نے بتایا: ’اس دوران ہمیں بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، ہم وہاں (یوپی) تک پہنچنے کے لیے کافی رقم برداشت نہیں کر سکتے۔

’میں دل اور سر کی تکلیف میں مبتلا ہوں، میں اپنی ریاست سے اس ریاست تک کیسے پہنچ سکتی ہوں؟‘

انہوں نے درخواست کی: ’انتظامیہ میرے بیٹے کو معاف کر دے جیسا کہ وہ پہلے ہی سخت آزمائش سے گزرا تھا۔ وہ ایمان دار تھا، وہ ہمیشہ سچ بولتا تھا وہ کسی قسم کے مسئلے میں نہیں آتا تھا۔‘

سجاد گل کی والدہ نے روتے ہوئے مزید کہا: ’ہم بے بس ہیں کیونکہ اس کا بوڑھا باپ اپنے گھر والوں کا پیٹ پالنے کے لیے دن رات محنت کر رہا ہے، ایسے میں ہم وہاں جانے کی استطاعت کیسے رکھ سکتے ہیں۔‘

’جب ہم عدالت جاتے ہیں تو کوئی ہمارا دکھ نہیں سنتا، یہاں تک کہ ہمارے مقدمے کو اپ ڈیٹ نہیں کیا جاتا اور نہ ہی سنا جاتا ہے۔‘

ان کی والدہ نے بھی ریاستی انتظامیہ اور حکومت سے درخواست کی کہ ان کے بیٹے کی جلد رہائی کے لیے سہولت فراہم کریں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اگرچہ کئی سیاسی رہنماؤں کو رہا کیا جا چکا ہے، لیکن عوامی تحفظ ایکٹ (انڈیا کے انسداد دہشت گردی قانون) کے تحت درج کیے گئے مقدمات میں نوجوانوں کو گھروں سے ہزاروں کلومیٹر دور جیلوں میں بند رکھا جاتا ہے۔

حکومت کا دعویٰ ہے کہ پانچ اگست سے جموں اینڈ کشمیر پبلک سیفٹی ایکٹ (پی ایس اے) کے تحت 444 افراد کو حراست میں لیا گیا ہے، جن میں سے 408 کو کشمیر سے دور کی جیلوں میں قید رکھا گیا۔ ان میں سے 29 غیر ملکی شہری جبکہ 379 کشمیری ہیں۔

خراب مالی حالات کی وجہ سے جیلوں میں بند نوجوانوں کے کئی خاندان پچھلے کئی سالوں سے اپنے بیٹوں سے ملنے کی استطاعت نہیں رکھتے۔

دوسری جانب بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے سینیئر رہنما الطاف ٹھاکر کہتے ہیں کہ کشمیر میں دہشت گردی کی جگہ نہیں ہے۔

ان کا اصرار ہے کہ قید افراد میں سے ’کچھ دہشت گرد تھے جو یہاں نفرت پھیلاتے تھے اور جنہیں کشمیر میں بدامنی پھیلانے اور ان کے راستے میں آنے والی ہر چیز کو تباہ کرنے کے لیے فنڈنگ بھی ملتی ہے۔ انہیں ان کے حقیقی مقامات پر بھیج دیا گیا جہاں وہ خاص طور پر جیلوں کے مستحق تھے۔‘

الطاف ٹھاکر کا کہنا تھا کہ جموں و کشمیر میں پتھراؤ کرنے والوں اور دہشت گردوں کی جگہ نہیں ہے اور ان کا یہاں کوئی وجود نہیں ہے۔ ’ہم خوشی سے قبول کرتے ہیں کہ ہم نے ان شرپسندوں کے حوالے سے بہت کوشش کی ہے۔ اگر اس ریاست میں کوئی بھی امن کو خراب کرتا ہے تو ہم اس سے دوگنا کریں گے۔‘

حکام جموں و کشمیر کی جیلوں کو انتہا پسندی کی افزائش کی بنیاد کے طور پر دیکھتے ہیں اور کشمیری قیدیوں کو علاقے سے باہر منتقل کرنا مبینہ مجرموں کی بنیاد پرستی کو روکنے کے لیے سکیورٹی حکمت عملی کا حصہ ہے۔

کچھ رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ فون اور سوشل میڈیا کے ذریعے عسکریت پسندانہ سرگرمیوں کو پھیلانے کے لیے جیلوں کا غلط استعمال کیا گیا ہے۔

29 اپریل 2023 کو جموں و کشمیر اور لداخ ہائی کورٹ نے کہا تھا کہ صرف ایک مجسٹریٹ یا عدالت کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ کسی ٹرائل کے منتظر قیدی کو ایک سے دوسری جیل میں منتقل کرسکتی ہے۔ 

نثار احمد گنی جنہیں 2020 میں کشمیر میں اسلحہ ایکٹ کیس میں گرفتار کیا گیا تھا اور 2021 میں گڑگاؤں ڈسٹرکٹ جیل منتقل کیا گیا تھا، کی والدہ کہتی ہیں کہ ان کا بیٹا گذشتہ چار سالوں سے ہریانہ گڑگاؤں میں قید ہے۔

’ہم پہلے اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں اور پھر اپنے پڑوسیوں کا، جنہوں نے ہمیں ہر طرح کی مدد اور مالی مدد فراہم کی۔

’ہم اسے کبھی کبھی ویڈیو کال کے ذریعے آن لائن دیکھتے ہیں لیکن وہ ہمارے سامنے بولنے سے انکار کر دیتا ہے، یہاں تک کہ اس کا چہرہ بھی صاف ظاہر نہیں ہوتا۔ میں نے پچھلے چار سال سے اپنے بیٹے کو نہیں دیکھا ہے۔

انہوں نے مزید کہا: ’میں پاگل ہو جاؤں گی، وہ اس کا چہرہ بھی نہیں دکھا رہے، انکار کیا جا رہا ہے۔ اگر میرے پاس سفر کرنے کی استطاعت ہوتی تو میں جیل تک کا سفر کرتی لیکن ہمارے پاس پیسے ختم ہیں، ہم کچھ نہیں کر سکتے۔ میرا بیٹا خاندان کا اکیلا کمانے والا تھا۔‘

ستمبر 2022 میں جیلوں کے اس وقت کے ڈائریکٹر جنرل پولیس ایچ کے لوہیا نے کہا تھا کہ قیدیوں کو جموں و کشمیر سے دوسری ریاستوں کی جیلوں میں منتقل کرنا ایک ’انتظامی مشق‘ تھی کیونکہ جیلوں میں زیادہ بھیڑ ہے۔

نوٹ: ان کشمیری قیدیوں کے اہل خانہ کے نام ان کی درخواست پر اس رپورٹ میں شامل نہیں کیے جا رہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی میری کہانی