جنرل سلیمانی کی ہلاکت پر طالبان کو ہماری سنجیدگی کا احساس ہوا: پومپیو

سابق امریکی وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ ’طالبان جانتے تھے کہ اگر وہ اس سمت میں چلے گئے جو وہ کے مفاد میں نہیں تو امریکہ ان کے ساتھ کیا کرے گا۔‘

سابق امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو (اے ایف پی فائل)

سابق امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے کہا ہے کہ ایران کے پاسداران انقلاب کی قدس فورس کمانڈر قاسم سلیمانی کی ایک امریکی فضائی حملے میں ہلاکت کے بعد طالبان سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انظامیہ کی سنجیدگی کو سمجھ گئے۔

مائیک پومپیو نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ طالبان جانتے تھے کہ ’ہماری حکومت بہت سنجیدہ ہے کیونکہ انہوں نے قاسم سلیمانی پر ہمارا حملہ اور داعش گروپ کا زوال دیکھا ہے۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ طالبان جانتے تھے کہ اگر وہ اس سمت میں چلے گئے جو امریکہ کے مفاد میں نہیں تو ہم ان کے ساتھ کیا کیا جائے گا۔

انڈپینڈنٹ فارسی کے مطابق پومپیو نے ایک پوڈ کاسٹ میں افغانستان سے فوجی انخلا سے متعلق ناکامیوں پر اپنے خیالات اور سفارشات کے ساتھ ساتھ گذشتہ سال نومبر میں ہونے والے صدارتی انتخابات کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ کی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا۔

چار دسمبر 2020 کو امریکی فوج نے بغداد ہوائی اڈے کے قریب ایران کے کمانڈر قاسم سلیمانی اور عراقی سینیئر کمانڈر ابو مہدی المہندیس کو ایک فضائی حملے میں ہلاک کر دیا تھا۔


طالبان نے غیر ملکیوں کے لیے کام کرنے والے افغان مترجموں کو عدالت بلا لیا

افغانستان میں ڈچ ٹیلی ویژن ’این او ایس‘ کے لیے بطور مترجم کام کرنے والے افغان شہریوں کو طالبان نے اپنی عدالت میں طلب کر لیا۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق این ایس او نے جمعے کو ایک رپورٹ میں بتایا کہ طالبان نے مترجموں کے خاندانوں کو دھمکی دی ہے۔

ٹیلی ویژن کے مطابق مترجموں نے خفیہ مقام پر پناہ لے رکھی ہے لیکن اگر وہ عدالت میں پیش نہ ہوئے تو ان کے خاندان کے لوگوں کو اس کا ذمہ دار قرار دیا جائے گا۔

ڈچ ٹیلی ویژن کے مطابق طالبان کے خط میں کہا گیا کہ ’دوسرے غداروں کو سبق سکھانے کے لیے انہیں سخت سزا دی جائے گی۔‘

این او ایس کے مطابق خط وصول کرنے والے ایک افغان شہری یورپی پولیسنگ ایجسی یورو پول کے لیے کام کرتے تھے۔ ان پر غیرملکیوں سے ذلت آمیز اور ممنوعہ رقم وصول کرنے کا الزام لگایا گیا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

طالبان کی طرف سے ایک اور مترجم کو ملنے والے خط میں کہا گیا کہ ’ہم انتقام لیں گے اور اگر آپ ہمارے ہاتھ نہ لگے تو ہم آپ کے قریبی رشتہ داروں سے حساب برابر کریں گے۔‘ مذکورہ مترجم کو بعض طالبان جنگجوؤں کی ہلاکت کا ذمہ دار قرار دیا گیا ہے۔

نیدرلینڈز کے ٹیلی ویژن کے مطابق تمام اشاروں سے پتہ چلتا ہے کہ سرکاری مہر لگے یہ خطوط طالبان نے بھیجے ہیں۔ اس کے مطابق س نے نیدرلینڈز کے ساتھ کام کرنے والے تقریباً 10 مترجموں یا دوسرے لوگوں کے ساتھ رابطہ کیا ہے اور سب نے بتایا ہے کہ ان کے لیے صورت حال تیزی سے مشکل ہوتی جا رہی ہے۔

جون میں طالبان نے غیر ملکی فوجوں کے ساتھ کام کرنے والے افغان مترجموں پر زور دیا تھا کہ وہ ندامت کا اظہار کریں اور غیر ملکی فوج کے انخلا کے بعد افغانستان میں ہی رہیں، انہیں کوئی نقصان نہیں پہنچایا جائے گا۔

اقتدار سنبھالنے کے بعد افغان حکومت اور فوجی حکام کے لیے عام معافی کا اعلان کیا گیا تھا۔

اقوام متحدہ کی ایک خفیہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ انتقام نہ لینے کے وعدوں کے باوجود طالبان غیر ملکی فورسز کے ساتھ کام کرنے والوں کا پیچھا کر رہے ہیں۔


طالبان کا کابل میں داعش کے ٹھکانے پر حملے کا دعویٰ

طالبان کے ترجمان نے کہا ہے کہ جنگجوؤں نے جمعے کو افغان دارالحکومت کابل کے شمال میں داعش کے ٹھکانے پر حملہ کیا ہے جس میں کچھ عسکریت پسند ہلاک ہو گئے جبکہ کچھ کو گرفتار کیا گیا۔ تاہم مرنے اور گرفتار ہونے والوں کی تعداد کے بارے میں نہیں بتایا گیا۔

اگست کے وسط میں طالبان کی جانب سے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے داعش نے ان پر حملوں میں اضافہ کر دیا ہے۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق اگست میں داعش خراسان کے خود کش بمبار نے کابل کے ہوائی اڈے پر انخلا کی امریکی کوششوں کو نشانہ بنایا تھا۔ یہ گذشتہ چند سال میں کیے جانے والے مہلک ترین حملوں میں سے ایک تھا جس میں 169 افغان شہری اور 13 امریکی فوجی ہلاک ہو گئے تھے۔

طالبان ترجمان نے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا ہے کہ جمعے کو کیے جانے والے حملے میں صوبہ پروان کے شہر چاریکار میں داعش کے ٹھکانےکو نشانہ بنایا گیا۔ ترجمان نے حملے کے بارے میں مزید تفصیل فراہم نہیں کی اور ان کے بیان کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کی جا سکی۔

طالبان ترجمان کریمی کا کہنا ہے کہ حملے سے پہلے داعش کے دو ارکان کو گرفتار کیا گیا جو سڑک پر بم نصب کرنے میں ملوث تھے جس نے شہر میں طالبان کی گاڑی کو ہدف بنایا گیا۔ حملے میں چار طالبان زخمی ہو گئے۔

ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ داعش کے گرفتار ارکان سے پوچھ گچھ کی گئی اور ان سے ملنے والی معلومات سے داعش کے ٹھکانے کی نشاندہی کرنے میں مدد ملی۔

داعش زیادہ تر مشرقی صوبہ ننگر ہار میں ہے لیکن طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد سے گروپ نے پورے افغانستان میں حملے بڑھا دیے ہیں۔ جلال آباد کے صوبائی دارالحکومت میں داعش کے حملوں میں متعدد طالبان ہلاک ہو چکے ہیں۔ جواب میں طالبان نے ننگرہار میں کریک ڈاؤن کیا۔

زیادہ پڑھی جانے والی امریکہ