اوسلو اجلاس اپنے آپ میں ایک کامیابی ہے: طالبان

اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو میں وزیر خارجہ امیر خان متقی نے کہا کہ ’ناروے کا ہمیں یہ موقع فراہم کرنا اپنے آپ میں ایک کامیابی ہے کیونکہ ہم نے دنیا کے ساتھ سٹیج شیئر کیا ہے۔‘

افغانستان میں طالبان کی عبوری حکومت کے وزیر خارجہ امیر خان متقی نے اوسلو میں مغربی سفارت کاروں کے ساتھ ملاقات کو ’اپنے آپ میں ایک کامیابی‘ قرار دیا ہے۔ 

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق افغانستان میں اقتدار میں واپس آنے کے بعد یورپ کے اپنے پہلے دورے میں طالبان کے وفد نے پیر کو ناروے کے دارالحکومت اوسلو میں مغربی سفارت کاروں کے ساتھ افغانستان میں انسانی بحران پر تاریخی بات چیت کی۔ 

اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو میں امیر خان متقی نے کہا کہ ’ناروے کا ہمیں یہ موقع فراہم کرنا اپنے آپ میں ایک کامیابی ہے کیونکہ ہم نے دنیا کے ساتھ سٹیج شیئر کیا ہے۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ان ملاقاتوں سے ہمیں افغانستان کے انسانی، صحت اور تعلیم کے شعبوں میں حمایت اور امداد ملنے کا یقین ہے۔

تین روزہ مذاکرات کا آغاز اتوار کو طالبان اور سول سوسائٹی کے نمائندوں کے درمیان براہ راست ملاقاتوں سے ہوا۔

عالمی برادری نے اصرار کیا ہے کہ امداد دوبارہ شروع ہونے سے پہلے طالبان کو انسانی حقوق کا احترام کرنا ہوگا کیونکہ بھوک سے افغانستان کی نصف سے زیادہ آبادی کو خطرہ ہے۔

ناروے کی جانب سے متنازع دعوت قبول کرنے کے بعد طالبان نے پیر کو امریکہ، فرانس، برطانیہ، جرمنی، اٹلی، یورپی یونین اور ناروے کے نمائندوں سے بات چیت کی، جس میں افغانستان کے وزیر خارجہ امیر خان متقی نے افغان وفد کی قیادت کی۔

خبر رساں ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق افغان نائب وزیر ثقافت اور اطلاعات ذبیح اللہ مجاہد نے رات گئے ٹویٹ میں ایک ’مشترکہ بیان‘ شیئر کیا جس میں کہا گیا کہ ’اجلاس کے شرکا نے تسلیم کیا کہ افہام و تفہیم اور مشترکہ تعاون ہی افغانستان کے تمام مسائل کا واحد حل ہے‘ اور اس بات پر زور دیا کہ ’ملک میں سیاسی، اقتصادی اور سلامتی کے بہتر نتائج کے لیے تمام افغانوں کو مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔‘

افغانستان کے لیے امریکہ کے خصوصی نمائندے تھامس ویسٹ نے اتوار کو ٹویٹ کیا: ’جب ہم اتحادیوں، شراکت داروں اور امدادی اداروں کے ساتھ مل کر انسانی بحران سے نمٹنے کی کوشش کر رہے ہیں تو ہم مستحکم، حقوق کا احترام کرنے والے اور جامع افغانستان میں اپنے تحفظات اور اپنے مستقل مفاد کے حوالے سے طالبان کے ساتھ واضح سفارت کاری جاری رکھیں گے۔‘

ابھی تک کسی ملک نے طالبان حکومت کو تسلیم نہیں کیا ہے، مگر انہیں امید ہے کہ اس قسم کے اجلاسوں سے ان کی حکومت کو قانونی حیثیت دینے میں مدد ملے گی۔

تاہم ناروے کے وزیر خارجہ انیکین ہوئٹفیلڈٹ نے زور دے کر کہا ہے کہ یہ مذاکرات ’طالبان کی قانونی حیثیت یا تسلیم کرنے کی عکاسی نہیں کرتے‘، لیکن انسانی ایمرجنسی کی وجہ سے ’ہمیں ملک کے حقیقی حکام سے بات کرنی چاہیے۔‘

اے ایف پی کے مطابق طالبان کے 15 ارکان کے وفد میں طالبان تحریک کے سب سے پرتشدد دھڑے کے رہنما انس حقانی بھی شامل تھے جن پر افغانستان میں ہونے والے کچھ انتہائی تباہ کن حملوں کا الزام ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

سوشل میڈیا پر ان کی شرکت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اور مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق ناروے میں مقیم ایک افغان شخص نے اوسلو میں حقانی کے خلاف جنگی جرائم کے الزام میں پولیس میں شکایت درج کرائی ہے۔

ناروے کی بین الاقوامی ترقی کی وزیر این بیتھی ٹیوینریم نے نشریاتی ادارے این آر کے کو بتایا کہ یہ ایک ایسا ملک ہے جو کئی دہائیوں سے جنگ کی حالت میں ہے۔

انہوں نے کہا: ’اگر آپ ان لوگوں سے ملنا چاہتے ہیں جو اہمیت رکھتے ہیں، وہ حکام جو افغانستان پر واقعی حکومت کرتے ہیں، تو آپ کو توقع کرنی ہوگی کہ ان میں سے کچھ کے ہاتھوں پر خون ہے۔‘

احتجاجی مظاہرے

دوسری جانب سول سوسائٹی اور افغان تارکین وطن نے طالبان کو دعوت دینے پر ناروے  پر تنقید کی ہے اور دارالحکومت میں وزارت خارجہ کے باہر مظاہرے بھی کیے گئے۔

مظاہرے سے خطاب میں مینا رفیق نامی طالبہ نے کہا: ’ہمیں طالبان پر اعتبار نہیں، وہ ناروے میں میڈیا کے سامنے، ٹیلی ویژن کے سامنے بیٹھے ہیں، جھوٹ بول رہے ہیں، انہوں نے افغان کارکنوں، مردوں اور عورتوں کو اغوا کیا، مارا، تشدد کیا اور اب وہ کہہ رہے ہیں کہ انہوں نے ایسا نہیں کیا۔ وہ جھوٹ بول رہے ہیں۔ ہم ان پر یقین نہیں کرتے۔‘

کابل میں ایک کارکن واحدہ عامری نے اے ایف پی کو بتایا کہ انہیں ’ناروے جیسے ملک پر افسوس ہے کہ انہوں نے اس سربراہ اجلاس کا اہتمام کیا، اور دہشت گردوں کے ساتھ بیٹھ کر معاہدے کیے۔‘

انسانی بحران

افغانستان کی انسانی صورت حال گذشتہ اگست کے بعد سے انتہائی خراب ہو چکی ہے جب طالبان امریکی حمایت یافتہ حکومت کا تختہ الٹنے کے 20 سال بعد دوبارہ اقتدار میں آئے۔

بین الاقوامی امداد اچانک رک گئی جس سے شدید خشک سالی کے بعد پہلے ہی بھوک کا شکار لاکھوں افراد کی حالت زار مزید خراب ہوگئی۔

اگست سے اب تک افغان بجٹ کا تقریباً 80 فیصد مالی امداد فراہم کرنے والی بین الاقوامی امداد معطل کر دی گئی ہے اور امریکہ نے افغان مرکزی بینک میں 9.5 ارب ڈالر کے اثاثے منجمد کر دیے ہیں۔

بے روزگاری آسمان کو چھو رہی ہے اور ملک میں مہینوں سے سرکاری ملازمین کی تنخواہیں ادا نہیں کی گئیں۔

اقوام متحدہ کے مطابق بھوک سے اب 2.3 کروڑ افغانوں، یعنی 55 فیصد آبادی، کو خطرہ لاحق ہے۔ عالمی ادارے کا کہنا ہے کہ اس بحران سے نمٹنے کے لیے اسے رواں سال عطیہ دہندگان ممالک سے 4.4 ارب ڈالر کی ضرورت ہے۔

لیکن عالمی برادری یہ دیکھنے کی منتظر ہے کہ 1996 سے 2001 کے درمیان اقتدار میں اپنے پہلے دور میں انسانی حقوق کو پامال کرنے والے طالبان  اب کس طرح حکومت کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

اگرچہ وہ جدت کا دعویٰ کرتے ہیں لیکن خواتین کو اب بھی سرکاری شعبے میں ملازمت سے بڑی حد تک باہر رکھا گیا ہے اور لڑکیوں کے لیے زیادہ تر ثانوی سکول بند ہیں۔

گذشتہ ہفتے کابل میں دو خواتین کارکن لاپتہ ہو گئیں۔ طالبان نے اس واقعہ کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔ اوسلو میں مظاہرین نے ان لاپتہ خواتین کی تصاویر بھی اٹھائے رکھیں اور ان کی واپسی کا مطالبہ کیا۔

طالبان کے ساتھ ملاقات سے قبل مغربی سفارت کاروں نے پیر کو افغانستان کی سول سوسائٹی کے ارکان بشمول خواتین کارکنوں اور صحافیوں سے بات چیت کی۔

وہاں موجود افراد میں سے ایک، خواتین کے حقوق کی کارکن جمیلہ افغانی، نے اے ایف پی کو بتایا: ’یہ ایک مثبت آئس بریکنگ میٹنگ تھی‘ جہاں طالبان نے ’خیر سگالی کا مظاہرہ‘ کیا لیکن یہ دیکھنا باقی ہے کہ ’ان کے اقدامات کیا ہوں گے۔‘

اوسلو میں ملاقات میں حصہ لینے والی ایک اور خاتون کارکن محبوبہ سراج نے کہا کہ طالبان نے ’ہمیں تسلیم کیا اور انہوں نے ہمیں سنا۔‘

انہوں نے صحافیوں سے کہا: ’میں پر امید ہوں۔ میں پر امید ہوں کہ ایک دوسرے کو سمجھا جائے گا۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا