نریندر مودی آج بھارت-وسطی ایشیا سمٹ کی میزبانی کریں گے

ورچوئل اجلاس میں بھارت، قزاقستان، ازبکستان، تاجکستان، ترکمانستان اور کرغیزستان کے درمیان خطے کی بدلتی سکیورٹی صورت حال سمیت تعلقات میں مزید وسعت لانے کے حوالے سے بات کی جائے گی۔

بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی 13 دسمبر 2021 کو واراناسی میں کاشی وشواناتھ دھم کاریڈور کے افتتاح کے موقع پر۔ مودی آج وسطی ایشیائی ریاستوں کے ساتھ ایک ورجوئل اجلاس کی میزبانی کر رہے ہیں (اے ایف پی)

بھارتی وزارت خارجہ امور کا کہنا ہے کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی آج بھارت-وسطی ایشیا سمٹ کی میزبانی کریں گے، جس میں توجہ افغانستان اور تجارتی معاملات پر ہوگی۔

بھارت کے ساتھ ساتھ اس اجلاس میں وسطی ایشیا کے ممالک قزاقستان، ازبکستان، تاجکستان، ترکمانستان اور کرغیزستان شامل ہوں گے۔

بھارتی اخبار انڈین ایکسپریس کے مطابق جمعرات کو ہونے والا یہ اجلاس ورچوئل ہو گا اور اس میں خطے کی بدلتی سکیورٹی صورت حال سمیت تعلقات میں مزید وسعت لانے کے حوالے سے بات کی جائے گی۔

بھارتی وزارت خارجہ امور کے مطابق یہ بھارت اور وسطی ایشیائی ریاستوں کے درمیان اپنی نوعیت کا پہلا اجلاس ہو گا جس میں اعلیٰ حکام شرکت کر رہے ہیں۔

یہ اجلاس بھارت کے یوم جمہوریہ کے ایک دن بعد منعقد ہو رہا ہے جس کی تقریب میں کوئی غیر ملکی سربراہ مملکت یا سربراہ حکومت بطور مہمان خصوصی شریک نہیں ہوا تھا۔

پانچ وسطی ایشیائی ممالک کے رہنما اس تقریب کے مہمانان خصوصی تھے لیکن بھارت میں بڑھتے کرونا کیسز کے باعث یوم جمہوریہ کی تقریب محدود پیمانے پر ہی منعقد کی گئی۔

بھارتی اخبار ہندوستان ٹائمز کے مطابق جمعرات کو ہونے والے اجلاس میں زیادہ توجہ افغانستان اور تجارتی معاملات پر دی جائے گی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس کے ساتھ ساتھ باہمی روابط، تعاون کا منظم نظام اور لوگوں کے درمیان ثقافتی روابط پر بات کی جائے گی۔

اجلاس میں بھارت-وسطی ایشیا سمٹ کو ایک باقاعدہ تقریب بنانے پر بھی غور کیا جائے گا جس کے لیے اس کا ایک مستقل سیکرٹریٹ قائم کرنے، تجارت، باہمی روابط، دفاع، سکیورٹی اور سیاحت جیسے معاملات پر بات چیت کی جائے گی۔

اس وقت تک ان چھ ممالک کے درمیان وزرائے خارجہ کی سطح پر ایک مکینزم کام کر رہا ہے جس کو بھارت-وسطی ایشیا ڈائیلاگ کا نام دیا گیا ہے۔ اس ڈائیلاگ کا تیسرا اجلاس گذشتہ سال دسمبر میں دہلی میں منعقد کیا گیا تھا۔

بھارت نے خطے میں چین کی بڑھتی موجودگی اور افغانستان میں طالبان کے حکومت میں آنے کے بعد وسطی ایشیائی ریاستوں سے اپنے تعلقات میں اضافہ کر دیا ہے۔

گذشتہ سال نومبر میں بھی بھارت میں وسطی ایشیائی ریاستوں کے اعلیٰ سکیورٹی عہدیداروں نے دہلی ریجینل سکیورٹی ڈائیلاگ میں حصہ لیا تھا۔

اجلاس میں شرکت کرنے والے تین ممالک تاجکستان، ترکمانستان اور ازبکستان کی سرحدیں افغانستان کے ساتھ ملتی ہیں۔

 یاد رہے قزاقستان بھارت کو یورنیم سپلائی کرنے والا اہم ملک ہے اور دونوں ممالک کے درمیان باہمی تجارت کا حجم سال 2020 اور 2021 میں دو ارب ڈالر کے قریب رہا ہے۔

بھارتی نیوز ویب سائٹ این ڈی ٹی وی کے مطابق بھارتی وزارت خارجہ امور کا کہنا ہے کہ ’پہلی بھارت-وسطی ایشیا سمٹ بھارت کے وسطی ایشیائی ریاستوں سے بڑھتے تعاون کی عکاسی کرتا ہے، جو بھارت کا توسیعی پڑوس ہے۔‘

خیال رہے کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے سال 2015 میں تمام وسطی ایشیائی ریاستوں کا دورہ بھی کیا تھا۔

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا