چیف جسٹس کے اختیارات پر بل پارلیمان سے منظور

پارلیمان کے مشترکہ اجلاس میں جس وقت سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل پیش کیا گیا اس دوران پاکستان تحریک انصاف کے سینیٹرز کی جانب سے شدید احتجاج کیا جا رہا تھا۔

سپریم کورٹ اصلاحات بل پارلیمان کے مشترکہ اجلاس سے منظور کر لیا گیا (فائل فوٹو: قومی اسمبلی)

سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل 2023 پیر کو پارلیمان کے مشترکہ اجلاس سے منظور کر لیا گیا ہے۔

سپیکر قومی اسمبلی راجا پرویز اشرف کی زیر صدارت ہونے والے پارلیمان کے مشترکہ اجلاس میں وفاقی وزیر قانون سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل منظوری کے لیے پیش کیا۔

وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے اس موقع پع کہا کہ عدالتی اصلاحات سے متعلق بل منظوری کے لیے صدر پاکستان کو بھیجا گیا تھا تاہم صدر نے بل واپس بھیج دیا۔

انہوں نے کہا کہ صدر عارف علوی نے اپنے خط میں جو سوالات اٹھائے ہیں وہ نامناسب ہیں۔

اس موقع پر پارلیمان کے مشترکہ اجلاس میں جس وقت سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل پیش کیا گیا اس دوران پاکستان تحریک انصاف کے سینیٹرز کی جانب سے شدید احتجاج کیا جا رہا تھا۔

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے یہ بل دوبارہ غور کے لیے پارلیمنٹ کو واپس بھجواتے ہوئے کہا تھا کہ ’بادی النظر میں یہ بل پارلیمنٹ کے اختیار سے باہر ہے۔‘

تاہم اب یہ بل منظوری کے بعد دستخط کے لیے صدر مملکت کو بھجوایا جائے گا۔ اگر صدر اس مرتبہ بھی بل پر دستخط نہیں کرتے تو دس دن بعد یعنی 20 اپریل تک یہ بل خود ہی قانون بن جائے گا۔

ایک ہی دن انتخابات کرانے کی قرارداد منظور

پاکستان کے ایوان بالا یعنی سینیٹ نے ملک بھر میں ایک ہی دن انتخابات کرائے جانے کی قرارداد منظور کر لی ہے۔

سینیٹ میں پیر کو تمام اسمبلیوں کے انتخابات ایک ہی دن کرانے کی قرارداد سینیٹر طاہر بزنجو نے پیش کی۔

سینیٹر طاہر بزنجو کی جانب سے پیش کی جانے والی اس قرارداد کے مطابق ’معاشی استحکام کے لیے سیاسی استحکام ضروری ہے۔‘

قرارداد کے مطابق ’آئین کے تحت تمام اسمبلیوں کے انتخابات، نگران سیٹ اپ میں  اکھٹے ہوں۔ پنجاب میں علیحدہ روز پر انتخابات، عام انتخابات کے نتائج کو متاثر کرے گا۔‘

سینیٹ سے منظور ہونے والی قرارداد میں مزید کہا گیا ہے کہ ’اس سے وفاق میں چھوٹے صوبوں کا کرداد متاثر ہو گا۔ قومی اور صوبائی اسمبلی کے انتخابات ایک روز کرائے جائیں۔‘

الیکشن اخراجات بل قومی اسمبلی میں پیش

وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے پیر کو کہا کہ آئینی اور معاشی بحران کے پیش نظر فوری انتخابات کا انعقاد ملک کے مفاد میں نہیں ہے۔  

پیر کو سپیکر راجہ پرویز اشرف کی زیر صدارت قومی اسمبلی کا اجلاس منعقد ہوا جس میں وزیر اعظم شہباز شریف بھی شریک ہوئے۔

قومی اسمبلی میں وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے الیکشن اخراجات کا بل قومی اسمبلی میں پیش کیا اور اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ مسلم لیگ ن کے دور میں شرح نمو چھ فیصد تھی جبکہ پچھلے سال اتحادی حکومت کو ملکی معیشت تباہ حال ملی۔

ان کا کہنا تھا کہ اب وقت آگیا ہے کہ عوام کو ریلیف دیا جائے مگر ’سازشی عناصر‘ ایسا نہیں ہونے دے رہے۔

ان کا کہنا تھا کہ بجٹ کو چار ارب روپے کیا گیا جبکہ بینظیر انکم سپورٹ کے تحت اضافی بھی کیا گیا جبکہ حکومت نے دیگر مد میں 23 ارب روپے تک کی سبسڈی دی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اتحادی حکومت نے اپنے دور میں ’کرنٹ اکاونٹ ڈیفیسٹ میں 70 فیصد کمی‘ لائی ہے۔

’پی ٹی آئی قیادت مسلسل کوشش کر رہی ہے کہ ملک میں انتشار پھیلے اور آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدہ نہ ہوسکے اور ملک دیوالیہ ہو جائے۔‘

ان کے مطابق مسلم لیگ ن کی حکومت واحد ہے جس نے اس سے قبل آئی ایم ایف پروگرام مکمل کیا۔  

وزیر خزانہ نے امید ظاہر کی کہ آئی ایم ایف سے سٹاف لیول معاہدہ جلد سائن کرلیا جائے گا۔

اس کے بعد وفاقی وزیر خزانہ نے الیکشن اخراجات بل 2023 کو سینیٹ میں بھی پیش کیا اور قانون سازوں سے اس پر ان کی آرا مانگی۔

وفاقی کابینہ کا اجلاس

وفاقی کابینہ کا اجلاس پیر کو ایک بار پھر منعقد ہوا جس میں سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں پنجاب میں انتخابات کے لیے فنڈز کا معاملہ پارلیمان بھیجنے کی منظوری دے دی گئی۔

اس سے قبل اتوار کو لاہور میں وزیراعظم شہباز شریف کی زیر قیادت کابینہ کا اجلاس ہوا تھا، جس میں یہ طے پایا تھا کہ اجلاس آج یعنی پیر کو ایک بار پھر بلایا جائے گا تاکہ ’پارلیمان سے رہنمائی‘ حاصل کرتے ہوئے معاملے کا حل تلاش کیا جائے۔

آج اجلاس میں پنجاب میں انتخابات کے لیے الیکشن کمیشن کو فنڈز کی فراہمی کے معاملے پر وزارت خزانہ کو پارلیمان سے رہنمائی کے لیے سمری تیار کرنے کی ہدایت کی گئی۔

اسی حوالے سے الیکشن کمیشن کی سپریم کورٹ میں رپورٹ 11 اپریل کو متوقع ہے۔ سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت کو 10 اپریل تک الیکشن کمیشن کو 21 ارب روپے جاری کرنے کا حکم دیا تھا اور الیکشن کمیشن کو فنڈز ملنے کی رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرانے کا کہا تھا۔

عدالت نے اس سلسلے میں کہا تھا، ’الیکشن کمیشن کی رپورٹ کا چیمبر میں جائزہ لیا جائے گا، فنڈز نہ ملنے کی صورت بھی الیکشن کمیشن عدالت کو بتائے گا اور فنڈز جمع نہ کروانے کی صورت میں عدالت مناسب حکم جاری کرے گی۔‘

اتوار کو کابینہ اجلاس کے بعد وزارت اطلاعات کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا: ’تمام پہلوﺅں کا بغور جائزہ لینے اور تفصیلی مشاورت کے بعد کابینہ نے متفقہ طور پر وزارت خزانہ کو ہدایت کی کہ وزارت قانون کی مشاورت سے اس معاملے میں پارلیمان سے رہنمائی حاصل کرنے کے لیے طریقہ کار اور ضابطہ کے مطابق سمری تیار کرے اور کل کابینہ کے اجلاس میں پیش کرے۔‘لاہور میں ہونے والے گذشتہ اجلاس میں اکثر وزرا نے شرکت ویڈیو لنک کے ذریعے کی۔

اجلاس کے بعد میڈیا سے لاہور میں گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم کے معاون خصوصی ملک محمد احمد خان کا کہنا تھا کہ حکومت کوئی غیر آئینی اقدام نہیں لے گی، سپریم کورٹ کے فیصلے سے متعلق غیر یقینی صورت حال پائی جاتی ہے۔

ان کے مطابق: ’جسٹس اطہر من اللہ کے فیصلے نے کیس میں نئے سوالات کو جنم دیا ہے۔‘

اتوار کے کابینہ اجلاس میں دیگر موضاعات پر بھی بات ہوئی جن میں سپریم کورٹ (پریکٹس اینڈ پروسیجر) بل 2023 بھی شامل ہیں جبکہ قومی سلامتی کمیٹی کے فیصلوں کی منظوری بھی دی گئی۔

وزارت اطلاعات کے بیان کے مطابق اجلاس میں ’چار۔ تین‘ کے تناسب سے آنے والے عدالتی حکم اور چار جج صاحبان کے تفصیلی فیصلے پر غور کیا گیا جبکہ چھ اپریل 2023 کو قومی اسمبلی کی منظور کردہ قرارداد پر بھی تفصیلی مشاورت کی گئی۔

پارلیمان کا مشترکہ اجلاس بھی آج

ملکی سیاسی اور عدالتی معاملات سے متعلق پارلیمان کا مشترکہ اجلاس بھی آج پیر کو ہوگا پارلیمان کے مشترکہ اجلاس کا چار نکاتی ایجنڈا جاری کردیا گیا ہے، جس کے مطابق سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل 2023 ایوان میں منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا۔ صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے یہ بل دوبارہ غور کے لیے پارلیمنٹ کو واپس بھجوایا تھا۔

صدر پاکستان نے ہفتے کے روزسپریم کورٹ بل واپس بھجواتے ہوئے کہا تھا کہ بادی النظر میں یہ بل پارلیمنٹ کے اختیار سے باہر ہے۔

ایوان صدر کے میڈیا ونگ سے جاری بیان کے مطابق صدر مملکت نے بل نظرثانی کے لیے واپس بھیجتے ہوئے کہا تھا: ’بل قانونی طور پر مصنوعی اور ناکافی ہونے پر عدالت میں چیلنج کیا جا سکتا ہے، میرے خیال میں اس بل کی درستگی کے بارے میں جانچ پڑتال پورا کرنے کے لیے دوبارہ غور کرنے کے لیے واپس کرنا مناسب ہے، آئین سپریم کورٹ کو اپیل، ایڈوائزری، ریویو اور ابتدائی اختیار سماعت سے نوازتا ہے۔‘

اجلاس سے منظوری کے بعد بل دستخط کے لیے صدر مملکت کو بھجوایا جائے گا۔ قانونی ماہرین کے مطابق دوبارہ بل بھیجے جانے کے بعد اگر صدر ڈاکٹر عارف علوی دستخط نہیں بھی کرتے تو 10 دن بعد یعنی 20 اپریل تک یہ بل خود ہی قانون بن جائے گا۔

ایجنڈے کے مطابق مشترکہ اجلاس میں آٹھ فروری کو پیش کی گئی ایک تحریک پر بحث ہو گی، جو وزیر پارلیمانی امور مرتضیٰ جاوید عباسی کی طرف سے ملکی مجموعی صورت حال کے حوالے سے پیش کی گئی تھی۔ اس میں امن و امان، دہشت گردی سمیت آٹھ نکات پر بحث کرنے کو کہا گیا تھا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس کے علاوہ معاشی پالیسی، جموں و کشمیر، قومی اداروں کی تکریم کے معاملات پر بھی بحث ہو گی۔ اجلاس میں چین پاکستان اقتصادی راہداری، بڑھتی ہوئی آبادی، موسمیاتی تبدیلی اور ملک کی خارجہ پالیسی پر بھی تحریک میں بحث کی جائے گی۔

سپریم کورٹ آف پاکستان نے رواں ہفتے پاکستان تحریک انصاف کی درخواست پر سماعت کے بعد پنجاب میں 14 مئی کو انتخابات کروانے کا حکم دیتے ہوئے وفاقی حکومت کو اس سلسلے میں الیکشن کمیشن کو فنڈز جاری کرنے کا کہا تھا۔

عدالت نے وفاقی حکومت کو پنجاب اور خیبرپختونخوا کی اسمبلیوں کے انتخابات کے لیے 10 اپریل تک الیکشن کمیشن کو 21 ارب روپے کے فنڈز جاری کرنے کی ہدایت کی تھی۔

تاہم حکومت نے اس فیصلے کو قبول کرنے سے انکار کرتے ہوئے فیصلہ سنانے والے بینچ میں شامل تین ججوں پر اعتراض کیا تھا۔

دوسری جانب حکمران اتحاد میں شامل مسلم لیگ ن کی جانب سے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس عمر عطا بندیال کے استعفے کا مطالبہ بھی کیا گیا تھا۔

عدالت عظمیٰ کے فیصلے پر پی ٹی آئی رہنما فواد چوہدری کا انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ’یہ فیصلہ آئین پاکستان، عمران خان اور پاکستان تحریک انصاف کی جیت ہے۔ سپریم کورٹ آف پاکستان نے عدالتی نظریہ ضرورت کو دفن کر دیا۔‘

الیکشن کمیشن آف پاکستان نے سپریم کورٹ کا فیصلہ آنے کے بعد پنجاب اسمبلی کے 14 مئی کو انتخابات کے لیے شیڈول جاری کر دیا تھا۔ اس سے قبل الیکشن کمیشن نے 22 مارچ کو اعلان کیا تھا کہ پنجاب میں انتخابات آٹھ اکتوبر کو ہوں گے جس کو سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے سے معطل کر دیا جس کے بعد سے پنجاب میں الیکشن فنڈز جاری ہونے کا مسئلہ زیر غور ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی سیاست