انڈیا آج شنگھائی تعاون تنظیم کے آن لائن سربراہی اجلاس کی میزبانی کرے گا

پاکستان، چین اور روس کے علاوہ دیگر رکن ممالک کے سربراہ بھی اجلاس میں شریک ہوں گے، جس کا مقصد ایران کو شنگھائی تعاون تنظیم میں شامل کرکے تنظیم کے اثر و رسوخ کو بڑھانا اور بیلاروس کی رکنیت کی راہ ہموار کرنا ہے۔

16 ستمبر 2022 کو ثمرقند میں ہونے والے شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس کی تصویر جس میں پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف اور انڈین وزیراعظم نریندر مودی بھی شریک ہیں (فائل فوٹو: اے ایف پی)

 

شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے رہنما آج (منگل کو) انڈیا کی میزبانی میں ہونے والے ایک آن لائن سربراہی اجلاس میں شرکت کریں گے۔

اجلاس کے شرکا کو پہلے ذاتی حیثیت میں مدعو کیا گیا تھا لیکن بعد میں انڈیا نے ورچوئل اجلاس کا اعلان کیا۔

پاکستان، چین اور روس کے علاوہ اس تنظیم کے دیگر رکن ممالک کے سربراہ بھی اجلاس میں شریک ہوں گے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق اس اجلاس کا مقصد ایران کو شنگھائی تعاون تنظیم میں شامل کرکے اس تنظیم کے اثر و رسوخ کو بڑھانا اور بیلاروس کی رکنیت کی راہ ہموار کرنا ہے۔

 فی الحال ان دونوں ممالک کی حیثیت مبصر کی ہے اور ان کے روس کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں۔

ان ممالک کی شنگھائی تعاون تنظیم میں رکن کی حیثیت سے شمولیت سے اس تنظیم کو یورپ اور ایشیا دونوں میں وسعت ملے گی۔

خبر رساں ایجنسی  اے ایف پی کے مطابق روس کے صدر ولادی میر پوتن بھی اس اجلاس سے خطاب بھی کریں گے۔

روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے جمعے کو کہا تھا کہ سربراہ اجلاس میں ’ایران کی مکمل رکنیت‘ کی منظوری دی جائے گی۔

دوسری جانب ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان ناصر کنانی نے پیر کو کہا تھا کہ یہ رکنیت ایران اور تنظیم دونوں کے لیے فائدہ مند ہے اور اس سے رکن ممالک کے درمیان اقتصادی ترقی پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔

 پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف بھی اس اجلاس میں ورچوئل شرکت کریں گے۔

30 جون کو پاکستانی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا تھا کہ ’اس سال ایران شنگھائی تعاون تنظیم کا مستقل رکن بن جائے گا جس کے بعد رکن ممالک کی تعداد نو ہو جائے گی۔ اجلاس میں تنظیم کے نئے رکن کے طور پر ایران کا خیرمقدم کیا جائے گا۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

مزید کہا گیا تھا کہ ’اجلاس میں وزیراعظم کی شرکت اس بات کو واضح کرتی ہے کہ پاکستان شنگھائی تعاون تنظیم کو علاقائی سلامتی اور خوش حالی کے ایک اہم فورم کے طور پر اہمیت دیتا ہے اور خطے کے ساتھ روابط کو بڑھاتا ہے۔‘

ازبکستان میں شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہ اجلاس میں شرکت کے 10 ماہ بعد یہ پہلا موقع ہوگا کہ انڈین وزیراعظم نریندر مودی اپنے پاکستانی ہم منصب شہباز شریف سے آن لائن آمنے سامنے ہوں گے۔

منگل کو ہونے والی کانفرنس میں نریندر مودی نومبر کے بعد پہلی بار چین کے صدر شی جن پنگ کے ساتھ بھی ورچوئل سٹیج شیئر کریں گے۔

جوہری ہتھیاروں سے لیس ان دونوں ایشیائی طاقتوں کے درمیان تعلقات تین سال سے سرد مہری کا شکار ہیں کیونکہ ان کے درمیان  ہمالیائی سرحد پر مسلسل کشیدگی پائی جا رہی ہے۔

شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک افغانستان، دہشت گردی، علاقائی سلامتی، موسمیاتی تبدیلی اور دیگر موضوعات پر بھی تبادلہ خیال کریں گے۔

شنگھائی تعاون تنظیم کیا ہے؟

شنگھائی تعاون تنظیم جنوبی اور وسطی ایشیا میں پھیلی ایک بڑی تنظیم ہے جس کا باقاعدہ قیام 2001 میں ہوا۔

اس سے قبل 1996 میں شنگھائی تعاون تنظیم کے پانچ رکن ممالک تھے جنہیں شنگھائی فائیو کہا جاتا تھا۔

ابتدائی اراکین میں چین، روس، قزاقستان، کرغستان اور تاجکستان شامل تھے۔ جب 2001 میں ازبکستان شامل ہوا تو اس کا نام شنگھائی فائیو سے تبدیل کر کے ایس سی او رکھ لیا گیا۔

ابتدا میں اس تنظیم کا مقصد شدت پسندی کا خاتمہ اور خطے کو دہشت گردی سے پاک کرنا تھا۔ بعد ازاں رکن ممالک کے مابین سکیورٹی اور تجارتی تعلق مضبوط کرنا اور امن کا قیام کو بھی شامل کیا گیا۔

2017 میں انڈیا اور پاکستان کو بھی مستقل رکن کے طور پر شنگھائی تعاون تنظیم میں شامل کیا گیا جس کے بعد رکن ممالک کی تعداد آٹھ ہو گئی۔

اب ایران کی مستقل رکنیت کے بعد تعداد نو جائے گی جبکہ افغانستان، بیلاروس اور منگولیا مبصر رکن ممالک ہیں۔

اس کے علاوہ نیپال ترکی، آذربائیجان، آرمینیا، کمبوڈیا اور سری لنکا ڈائیلاگ پارٹنر ممالک ہیں۔

whatsapp channel.jpeg

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا