پاکستان اور انڈیا کے چھ کھلاڑی جو کسی بھی میچ کا پانسہ پلٹ سکتے ہیں

یوں تو کرکٹ کو ٹیم گیم یا 11 کھلاڑیوں کا کھیل کہا جاتا ہے لیکن ہر ٹیم میں چند ایسے کھلاڑی بھی ہوتے ہیں جو تن تنہا کسی بھی مقابلے کا پانسہ پلٹنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

(تصاویر کولاج: اے ایف پی)

پاکستان اور انڈیا کی کرکٹ ٹیمیں ایشیا کپ 2023 کے میچ میں آج سری لنکا کے شہر پالی کیلے میں مد مقابل ہوں گی، اس میچ کا آغاز پاکستانی وقت کے مطابق دن 2:30 ہو گا۔

دونوں ٹیموں کے درمیان کرکٹ کا مقابلہ کھیلوں کی دنیا میں سب سے بڑے مقابلوں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔ یہ میچ اس اعتبار سے بھی اہم ہو گا کہ پاکستان اور انڈیا 2019 کے ورلڈ کپ کے بعد پہلی بار ایک روزہ کرکٹ میں مدمقابل ہوں گے۔

 بات چاہے ٹیسٹ کرکٹ کی ہو یا ایک روزہ میچوں کی، ٹی ٹوئنٹی ہو یا انڈر19 مقابلے، دونوں ممالک کے درمیان مقابلہ ہمیشہ ہی دلچسپی سے بھرپور ہوتا ہے۔

اس کی وجہ دونوں ممالک کے درمیان کشیدہ تعلقات ہوں یا ہر میدان میں مسابقت کا رجحان، لیکن پاکستان انڈیا کے مقابلے شائقین کے ساتھ ساتھ کھلاڑیوں کے لیے بھی اسی اہمیت کے حامل ہیں۔

دونوں ممالک کی ٹیموں کے کھلاڑی پاکستان اور انڈیا کے درمیان کھیلے جانے والے میچز میں بھرپور انداز سے اپنے بہترین کھیل کا مظاہرہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ یہ مقابلے صرف شائقین کے لیے ہی نہیں بلکہ ان کھلاڑیوں کے لیے بھی یادگار بن جائیں۔

یوں تو کرکٹ کو ٹیم گیم یا 11 کھلاڑیوں کا کھیل کہا جاتا ہے لیکن ہر ٹیم میں چند ایسے کھلاڑی بھی ہوتے ہیں جو  تن تنہا کسی بھی مقابلے کا پانسہ پلٹنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور اپنی ٹیم کی شکست کو فتح سے بدل دیتے ہیں۔

اس رپورٹ میں ہم دونوں ٹیموں کے ایسے ہی چند میچ وننگ کھلاڑیوں کا موازنہ پیش کر رہے ہیں۔

پاکستانی ٹیم کے کپتان: بابر اعظم

پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان بابر اعظم نے جب 2015 میں اپنے بین الااقوامی کرکٹ کیریئر کا آغاز کیا تو شاید کسی کے گمان بھی نہیں تھا کہ یہ دھان پان سا لڑکا چند ہی سال میں نہ صرف دنیائے کرکٹ کے عظیم ترین بلے بازوں کی فہرست میں شمار ہونے لگے گا بلکہ پاکستان کے کامیاب ترین کپتانوں میں گنا جانے لگے گا۔

بابر اپنے ایک روزہ کیریئر میں اب تک 104 میچ کھیل چکے ہیں اور 59.47 کی اوسط سے 5353 رنز بنا چکے ہیں۔

ون ڈے کرکٹ میں بابر کا سٹرائیک ریٹ 90 کے لگ بھگ ہے۔

 ایک روزہ کرکٹ میں بابراعظم 19 سینچریاں اور 28 نصف سینچریاں بھی سکور کر چکے ہیں۔

ایشیا کپ کی بات کی جائے تو بابر اعظم نے اب تک چھ میچ کھیل کر ایک سینچری اور ایک نصف سینچری بنائی۔

104 میچز کھیل کر بابر اعظم ایک روزہ کرکٹ میں 13 بار میچ کے بہترین کھلاڑی کا ایوارڈ جیت چکے ہیں۔

بابر اعظم کی بیٹنگ فارم کو دیکھا جائے تو وہ مسلسل اچھی پرفارمنس دکھا رہے ہیں اور ایشیا کپ کے پہلے میں جب پاکستانی بیٹنگ لائن تھوڑی ڈگمگائی تو بابر نے ہی پاکستان کی اننگز کو سنبھالا اور افتخار کے ساتھ مل کر پاکستانی ٹیم کو ایک بڑا ہدف کرنے میں مدد فراہم کی۔

اس میچ میں بابر نے اپنے کیریئر میں دوسری بار 150 سے زائد رنز بنائے۔

انڈیا کے خلاف میچ میں بھی بابراعظم سب کی نگاہوں کا مرکز ہوں گے اور اس بات کا ادراک انڈین ٹیم کو بھی ہے کیونکہ وراٹ کوہلی خود بھی کہہ چکے ہیں کہ بابراعظم دنیائے کرکٹ میں تمام طرز کی کرکٹ میں بہترین بلے باز ہیں۔

ابتدائی اوورز میں وکٹ لینے کے لیے مشہور: شاہین آفریدی

پاکستانی ٹیم کسی بھی ٹیم کے مقابل ہو بات ہمیشہ پاکستانی بولنگ بمقابلہ مخالف ٹیم کے بلے بازی کی جاتی ہے اور موجودہ ٹیم میں اگر یہ کہا جائے کہ پاکستان ٹیم کی بولنگ کا بیڑہ شاہین آفریدی نے اٹھا رکھا ہے تو غلط نہیں ہو گا۔

شاہین نے اپنے ایک روزہ کیریئر میں ابھی تک 40 میچ کھیل رکھے ہیں اور ان کی وکٹوں کی تعداد 78 ہے۔

ایک روزہ کرکٹ ہو یا ٹی ٹوئنٹی، لیگ ہو یا ٹیسٹ میچ شاہین ابتدائی اوورز میں وکٹیں گرانے کے لیے مشہور ہیں۔

انڈین اوپنر روہت شرما تو کئی بار شاہین آفریدی کا نشانہ بن چکے ہیں جبکہ شاہین انڈین کرکٹ ٹیم کے سب سے مضبوط برج وراٹ کوہلی بھی کو پویلین کی راہ دکھا چکے ہیں۔

شاہین کی بولنگ اوسط 23.08 جو ایک روزہ کرکٹ میں بہتر اوسط شمار کی جا سکتی ہے۔

دنیائے کرکٹ کے بہترین آل راؤنڈر: شاداب خان

پاکستانی ٹیم کے نائب کپتان اور کرکٹ کی دنیا میں صف اول میں شمار کیے جانے والے لیگ سپنر آل راؤنڈر شاداب خان بھی پاکستانی ٹیم کو کئی اہم میچ جتوا چکے ہیں۔

ان کی کارکردگی کی بات کی جائے تو حالیہ میچز میں شاداب خان مسلسل اچھی پرفارمنس کا مظاہرہ کرتے ہوئے اہم موقعوں پر رنز بناتے اور وکٹیں حاصل کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

انڈیا کے خلاف میچ میں بھی شاداب خان پاکستانی مداحوں کی امیدوں کا محور ہوں گے۔

اپنے ایک روزہ کیریئر میں شاداب خان ابھی تک 60 میچ کھیل کر 28 کو اوسط سے 725 رنز بنا چکے ہیں جس میں ان کی چار نصف سینچریاں بھی شامل ہیں جبکہ بولنگ میں بھی ان کی وکٹوں کی تعداد 81 ہے۔

شاداب نہ صرف اپنی بلے بازی اور بولنگ بلکہ فیلڈنگ کے اعتبار سے بھی میدان میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

انڈیا کے بہترین بلے باز: وراٹ کوہلی

انڈین ٹیم کی بات کی جائے تو سب سے پہلے نام آتا ہے وراٹ کوہلی کا۔ اگر یہ کہا جائے کہ وراٹ کوہلی موجودہ کرکٹ میں بہترین بلے باز ہیں تو کچھ غلط نہ ہو گا۔

وراٹ کوہلی نے اپنے کیریئر میں اب تک 275 ایک روزہ میچ کھیلے ہیں اور وہ 46 سینچریاں اپنے نام کر چکے ہیں۔ اس کے علاوہ وہ 65 نصف سینچریاں بھی بنا چکے ہیں۔

اپنے ایک روزہ کیریئر میں وراٹ کوہلی کی اوسط 57.32 ہے جبکہ ان کا سٹرائیک ریٹ 94 ہے۔ ایک روزہ کرکٹ میں ان کے مجموعی رنز 12 ہزار 898 ہیں۔

پاکستان کے خلاف وراٹ کوہلی کی کارکردگی کی بات کی جائے تو وراٹ نے پاکستان کے خلاف اب تک 13 ایک روزہ میچ کھیلے ہیں اور دو سینچریاں اور دو نصف سینچریاں بنا رکھی ہیں۔

وراٹ کوہلی نے اک روزہ کرکٹ میں اپنا بہترین سکور 183 رنز بھی پاکستان کے خلاف ہی بنائے ہیں۔

انڈین ٹیم کے کپتان: روہت شرما

انڈین کپتان روہت شرما جو اکثر پاکستانی بولرز کو ابتدائی اوورز میں وکٹ دے بیٹھتے ہیں یقینی طور پر اس بار کچھ مختلف کرنے کا سوچ کر میدان میں اتریں گے۔

روہت شرما نے اپنے ایک روزہ کیریئر میں پاکستان کے خلاف اب تک 16 میچ کھیلے ہیں اور ان میں وہ دو سینچریاں اور چھ نصف سینچریاں سکور کر چکے ہیں۔

جبکہ مجموعی طور پر روہت شرما ایک روزہ کرکٹ میں 30 سینچریاں اور 48 نصف سینچریاں سکور کر چکے ہیں۔

ایک روزہ کرکٹ میں روہت شرما 48.69 کی اوسط کے ساتھ 9837 رنز بنا چکے ہیں۔

انڈین اٹیک بولر: جسپریت بمرا

انڈیا کی بلے بازی کے بعد اگر بولنگ کی بات کی جائے تو طویل وقفے کے بعد ٹیم کا دوبارہ سے حصہ بننے والے جسپریت بمرا انڈیا کے بولنگ اٹیک کی سرکردگی کریں گے۔

اپنے ایک روزہ کیریئر میں جسپریت بمرا اب تک 72 میچ کھیل کر 121 وکٹیں حاصل کر چکے ہیں جبکہ ان کی اوسط 24.30 ہے۔

بمرا ایک روزہ کرکٹ میں پانچ بار چار وکٹیں جبکہ دو بار پانچ وکٹیں بھی حاصل کر چکے ہیں۔

اپنی تیز گیندباری اور یارکرز کے لیے مشہور بمرا طویل عرصے تک ان فٹ رہنے کے بعد ٹیم میں واپس آئیں ہیں۔ کیا بمرا اپنی انجری سے قبل والی کارکردگی کو دہرا سکیں گے۔ اس کا فیصلہ میچ دیکھ کر ہی کیا جا سکتا ہے۔

ان کھلاڑیوں کے علاوہ دونوں ٹیموں میں کئی اور ایسے کھلاڑی بھی موجود ہیں جو اپنی کارکردگی سے کسی بھی میچ کو جتوانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ان کھلاڑیوں میں پاکستان کے محمد رضوان، حارث رؤف، نسیم شاہ اور انڈیا کے ہاردک پانڈیا شامل ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی کرکٹ