فرانس: ریکارڈ کرونا کیسز کے بعد نافذ دوسرا قومی لاک ڈاؤن کیسا ہوگا؟

گذشتہ دو ہفتوں میں فرانس میں اوسط یومیہ انفیکشنز کی تعداد دوگنی ہو کر 17 ہزار سے 36 ہزار ہوگئی ہے۔ صدر ایمانوئل میکروں نے بڑھتے کیسز کے پیش نظر جمعے سے نئے لاک ڈاؤن کا اعلان کر دیا ہے۔

یورپ میں اب کرونا وائرس کے سب سے زیادہ نئے کیس فرانس میں ہیں۔(اے ایف پی)

فرانس کے صدر ایمانوئل میکروں نے اعلان کیا ہے کہ کرونا (کورونا) وائرس کی وبا کے باعث جمعے سے ملک میں ایک اور لاک ڈاؤن نافذ کیا جائے گا۔  

دو ہفتوں میں اپنے دوسرے بڑے ٹی وی خطاب میں میکروں نے کہا کہ فرانس ’وائرس کے پھیلاؤ کی رفتار سے مغلوب ہو رہا ہے‘ جو ’مایوس کن تخمینوں سے بھی بدتر ہے۔‘

دو ہفتے قبل ان کے خطاب سے اب تک فرانس میں اوسط یومیہ انفیکشنز کی تعداد دوگنی ہو کر 17 ہزار سے 36 ہزار ہوگئی ہے۔

حالیہ اعدادوشمار ملک میں نئی ریکارڈ سطح ہے جو وبا کی پہلی لہر میں آنے والی پیک سے سات گنا زیادہ ہے۔

یورپ میں اب کرونا وائرس کے سب سے زیادہ نئے کیس فرانس میں ہیں۔

جرمنی میں چانسلر اینگلا مرکل نے بدھ کو بارز، ریسٹورانٹس اور تھیٹرز کی چار ہفتوں کی بندش کا اعلان کر دیا۔ انہوں نے کہا: ’ہمیں ایک قومی ہیلتھ ایمرجنسی سے بچنے کے لیے قدم اٹھانا پڑے گا اور فوراً اٹھانا پڑے گا۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اٹلی اور جرمنی دونوں نے بدھ کو ریکارڈ انفیکشن رپورٹ کیے۔ اٹلی میں ایک دن میں 25 ہزار اور جرمنی میں 15 ہزار نئے کیس ریکارڈ ہوئے۔

میکروں نے کہا کہ حالیہ ماہ میں ہسپتالوں میں بستروں کی تعداد کو پانچ سے چھ ہزار تک بڑھانے کے باوجود انتہائی نگہداشت یونٹس 58 فیصد تک بھر گئے ہیں۔  

ہسپتالوں میں بستروں کی تعداد کو بڑھا کر دس ہزار کرنے کی منصوبہ بندی کی جارہی ہے تاہم طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھایا گیا تو نومبر کے وسط تک ہسپتال بہت زیادہ بھر جائیں گے۔

میکروں نے کہا کہ مریضوں کو ایک خطے سے دوسرے خطے منتقل کرنا اب ممکن نہیں کیونکہ ’وائرس ہر جگہ ہے۔‘

نیا لاک ڈاؤن پہلے قومی لاک ڈاؤن کی طرح ہی ہوگا جو مارچ میں نافذ کیا گیا تھا اور دنیا کے سخت ترین لاک ڈاؤنز میں سے ایک تھا۔

شہریوں پر گھر سے باہر جاتے ہوئے اپنے ساتھ ایک بار پھر سے ایک فارم رکھنا لازم ہوگا۔

صرف دفاتر، کھانا خریدنے، طبی اپوئنٹمنٹ اور اہم ایکسرسائز کے لیے باہر جانے کی اجازت ہوگی۔ تمام غیر ضروری کاروبار جیسے کیفے اور بارز بھی بند کر دیے جائیں گے۔

پہلے قومی لاک ڈاؤن سے اس لاک ڈاؤن میں ایک اہم فرق ایہ ہوگا کہ سکول کھلے رہیں گے۔

نئے قواعد جمعرات اور جمعے کی درمیانی شب نافذ ہوں گے اور دسمبر کے وسط تک رہیں گے۔  

مارچ میں جب میکروں نے لاک ڈاؤن کا اعلان کیا تھا تو پیرس کے کڑوروں شہری شہر چھوڑ کر چلے گئے تھے اور بدھ کی شام کو گوگل میپز کے ڈیٹا میں ایسا ہی ٹرینڈ نظر آیا۔

بدھ کو میکروں کے خطاب سے کچھ گھنٹے پہلے جب نئے لاک ڈاؤن کا خدشہ ہوا تو پیرس کے ارد گرد سڑکوں پر ٹریفک کا رش رہا۔  

میکروں نے اپنے خطاب کا اختتام کرتے ہوئے قومی اتحاد قائم رکھنے پر زور دیا۔ ’اس وائرس پر قابو پانے کے لیے ہمیں متحد رہنا ہوگا۔

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی صحت