مکئی کے پراٹھے، گڑ کی چائے: سوات کے ہوٹل میں گھر کا کھانا

سوات کے پرونہ گاؤں میں جنگڑا ہوٹل سوات کے روایتی پکوانوں کے لیے مشہور ہے جس کا کھانا گھر کی خواتین تیار کرتی ہیں۔

جب آپ اپنے کاروبار کو ثقافت کے ساتھ جوڑ دیتے ہیں، تو آپ انوکھے ہوجاتے ہیں۔ آپ کے پاس پیش کرنے کے لیے نہ صرف ایک پروڈکٹ ہوتا ہے، بلکہ سنانے کے لیے ایک کہانی بھی۔

امیر سید اپنے جنگڑا ریسٹورنٹ پر کھانے کا آرڈر لیتے ہیں اور ساتھ میں ایک کہانی بھی سناتے ہیں کہ یہ پکوان پہلے کس طرح تیار ہوتا تھا۔ 

سید کا تعلق سوات کے پرونہ گاؤں سے ہے اور وہ سوات کا سب سے انوکھا ریسٹورنٹ چلا رہے ہیں۔ اس ریسٹورنٹ کا کھانا گھر کی خواتین تیار کرتی ہیں۔

 سید اپنے بیٹوں کے ہمراہ اس کو اپنے مہمان خانے (جنگڑا) میں فروخت کرتے ہیں۔ اس ریسٹورنٹ میں سوات کا ثقافتی پکوان تیار ہوتا ہے، جو سوات کے کسی اور ریسٹورنٹ اور ہوٹل میں نہیں بنایا جاتا۔

 یہاں پر مکئی کے پراٹھے خالص دیسی گھی میں بنائے جاتے ہیں جو سیاحوں میں بہت مقبول ہیں۔ ساتھ میں دیسی مرغی خالص گھی میں فرائی کی جاتی ہے۔ دیسی انڈے اور سوات کے چاول (بیگم آئی چاول ) تیار کیے جاتے ہیں۔ 

سید کا گاؤں مینگورہ شہر سے کچھ آٹھ سے نو کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ یہ علاقہ کوکارئی میں شامل ہے جو کہ اپنے سر سبز باغات اور پہاڑوں کی وجہ سے سوات اور بونیر سمیت پورے خیبرپختونخوا میں مشہور ہے۔ 

یہاں کے لوگوں کی معیشت کا دارومدار زیادہ تر زراعت پر ہے، جبکہ کچھ مقامی باشندے پاکستان سے باہر بھی کام کرتے ہیں۔

اس کے علاوہ یہاں سیاحت کی صنعت سے بھی کافی لوگ اپنا رزق کماتے ہیں، جن میں ٹورسٹ گائیڈز، چائے کے ڈھابے، ریستورانٹ، اور جنرل سٹورز شامل ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

امیر سید بتاتے ہیں: ’2020 کی اوائل میں جب کرونا (کورونا) کی وبا کی وجہ سے لاک ڈاون نافذ کیا گیا تو لوگ اپنے گھروں میں محصور ہونے لگے اور سوات مینگورہ کے لوگ مقامی سطح پر سیاحت کو ترجیح دینے لگے۔ سوات اور بونیر کے بارڈر پر جتنے بھی گاؤں ہیں ان کے لوگ بھی یہاں کا رخ کرنے لگے۔ میں پہلے ایک ہاتھ گاڑی میں ابلے ہوئے انڈے بھیجتا تھا مگر سیاحوں کی تعداد کو بڑھتے دیکھ کر میں نے اپنے ہی حجرے میں ریسٹورنٹ کا سوچ لیا اور آہستہ آہستہ سیاح یہاں آنے لگے۔‘

سید کے ریسٹورنٹ کا کھانا گھر میں صاف طریقے سے تیار کیا جاتا ہے جو کہ فوڈ ٹورزم کا ایک اہم عنصر ہے اور اس کی کامیابی میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

اتنے کم وقت میں ایک سادہ ریسٹورنٹ اتنا مقبول کیسے ہوا؟

وجہ ہے ثقافتی پکوان۔ ورلڈ ٹورازم آرگنائزیشن کی فوڈ ٹورزم سے متعلق عالمی رپورٹ کے مطابق سیاح اپنے سفر کے بجٹ کا اوسطً ایک تہائی حصہ کھانے پر خرچ کرتے ہیں۔

سیاح نہ صرف اس کھانے میں دلچسپی لیتے ہیں جس سے وہ لطف اندوز ہو رہے ہیں بلکہ اس کی تاریخ، اس کی تیاری اور پلیٹ تک اس کے سفر کے بارے میں بھی مزید جاننا چاہتے ہیں۔

محکمہ سیاحت خیبر پختونخوا کی ایک رپورٹ کے مطابق گذشتہ برس کرونا کی وبا کے باوجود 18 لاکھ سیاحوں نے سوات کا رخ کیا تھا، جس میں ایک بڑی تعداد غیر ملکی سیاحوں کی تھی۔

اگر لاکھوں لوگ سوات کا رخ کر رہے ہیں اور ان کو صرف ایک ہی جگہ پر ثقافتی پکوان مل سکتا ہے تو یہ سیاح اس جگہ کا رخ ضرور کرنا چاہیں گے۔ یہی وجہ ہے کہ امیر سید کے ایک چھوٹے سے ریسٹورنٹ پر آج کل مقامی اور بیرونی سیاحوں کا رش ہے۔

امیر سید کے جنگڑا ریسٹورنٹ میں آئے ہوئے چند سیاحوں سے ہم نے ان کی رائے اور ان کا تجربہ جاننے کی کوشش کی کہ کیا آپ اپنے گھر میں اس طرح کے پراٹھے بنانا پسند کریں گے، تو زیادہ تر لوگوں کا جواب ہاں میں تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم یہاں سے اترتے ہی اپنے لیے جو کا آٹا خریدیں گے اور اسے گھر لے جا کر امیر سید کی بتائے ہوئے طریقے سے خود اس پراٹھے کو گھر میں تیار کریں گے۔

زیادہ پڑھی جانے والی ملٹی میڈیا