مجبوری میں ملک سے گیا، پیسے ساتھ لانے کا الزام بے بنیاد ہے: اشرف غنی

اشرف غنی نے افغان طالبان کے ملک پر کنٹرول کے بعد فیس بک پر اپنے پہلے لائیو پیغام میں اپنے فرار کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے خونریزی سے بچنے کے لیے یہ قدم اٹھایا۔

افغان طالبان کے ملک پر کنٹرول کے بعد خودساختہ جلاوطنی اختیار کرنے والے افغان صدر اشرف غنی نے بدھ کو فیس بک پر اپنے پہلے لائیو پیغام میں اپنے فرار کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے خونریزی سے بچنے کے لیے مجبوری میں یہ قدم اٹھایا۔

ساتھ ہی انہوں نے ان الزامات کی بھی تردید کردی کہ وہ ملک سے جاتے وقت اپنے ساتھ ڈالروں سے بھرے ہوئے سوٹ کیس ساتھ لے کر گئے تھے۔

15 اگست کو افغان طالبان نے کابل میں داخل ہو کر وہاں قبضہ کرنے سے قبل اعلان کیا تھا کہ وہ اقتدار عبوری حکومت کو منتقل ہوجانے کے بعد کابل میں پر امن طور پر داخل ہوں گے۔ اس کے چند گھنٹوں کے بعد اشرف غنی کے ملک سے فرار ہونے کی خبریں سامنے آئیں، جن کی تصدیق اس وقت ہوئی جب اشرف غنی نے اپنے فیس بک اکاؤنٹ پر جاری کیے گئے پیغام میں ملک سے خاموشی سے جانے کی وجوہات بیان کی، تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا تھا کہ وہ کس ملک گئے ہیں۔ 

اس کے بعد ذرائع ابلاغ میں یہ خبریں بھی نشر ہوئیں کہ اشرف غنی جانے وقت اپنے ساتھ کافی زیادہ ڈالرز لے گئے۔ بعدازاں بدھ کو متحدہ عرب امارات کی وزارت خارجہ نے تصدیق کی کہ اشرف غنی ان کے ملک میں اپنے اہل خانہ سمیت موجود ہیں اور انہیں انسانی ہمدردی کی بنیاد پر خوش آمدید کہا گیا ہے۔

فیس بک پر اپنے پیغام میں اشرف غنی نے اپنی متحدہ عرب امارات میں موجودگی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا: ’میں اپنے ساتھ کچھ نہیں لایا۔ میں اپنے ساتھ پیسے لے کر نہیں آیا ہوں، یہ مکمل طور پر بے بنیاد الزامات اور جھوٹ ہیں۔ آپ کسٹمز آفیشل اور دیگر حکام سے معلوم کرسکتے ہیں کہ یہ سب بے بنیاد تھا۔‘

انہوں نے کہا: ’میں نے خونریزی سے بچنے کے لیے یہ اقدام اٹھایا۔‘

’اگر ملک سے نہ نکلتا تو افغانستان کا ایک اور صدر پھانسی چڑھا دیا جاتا، جس طرح 25 برس پہلے افغانستان کے صدر (نجیب اللہ) کے ساتھ ہوا تھا۔‘

انہوں نے بتایا کہ ملک چھوڑنے سے قبل انہیں جوتے بدلنے کی فرصت بھی نہیں ملی۔ ’اتنی جلدی میں مجھے نکالا گیا کہ میرا ذاتی لیپ ٹاپ، ڈائری اور کتابیں دوسرے لوگوں کے ہاتھوں لگ گئے۔‘

اشرف غنی نے مزید کہا کہ افغانستان میں جو بھی حالات بنے، وہ ہم سب کی ناکامی تھی۔

انہوں نے کہا کہ وہ طالبان اور اعلیٰ حکومتی عہدیداروں کے درمیان مذاکرات کی حمایت کرتے ہیں اور یہ کہ وہ متحدہ عرب امارات میں پناہ لینے کے بعد وطن واپسی کے لیے بات چیت کر رہے ہیں۔

بقول اشرف غنی: ’میں عبداللہ عبداللہ اور سابق صدر حامد کرزئی کے ساتھ جاری مذاکرات کے حکومتی اقدام کی حمایت کرتا ہوں۔ میں اس عمل کی کامیابی چاہتا ہوں۔‘

واضح رہے کہ افغانستان میں بدھ کو طالبان کے ایک اعلیٰ وفد نے حکومت سازی کے لیے سابق افغان صدر حامد کرزئی سے ملاقات کی ہے۔

دوسری جانب ملا برادر دوحہ سے افغانستان کے دارالحکومت کابل پہنچے ہیں جہاں ان کا استقبال کیا گیا اور برطانوی پارلیمنٹ میں افغانستان کے معاملے پر ایک خصوصی اجلاس بلایا گیا ہے۔


صدر اشرف غنی متحدہ عرب امارات میں ہیں: وزارت خارجہ 

متحدہ عرب امارات کی وزارت خارجہ نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ افعانستان کے صدر اشرف غنی اپنے اہل خانہ کے ہمراہ متحدہ عرب امارات میں ہیں اور متحدہ عرب امارات نے انہیں انسانی ہمدردی کی بنیاد پر خوش آمدید کہا ہے۔

 

اس سے قبل سابق افغان صدر اشرف غنی کے حوالے سے متضاد اطلاعات تھیں، تاہم یو اے ای کی جانب سے بیان کے بعد تمام قیاس آرائیوں نے دم توڑ دیا۔


افغانستان سے نکلنے کے خواہش مند غیر ملکی سفارت کاروں کی مدد جاری: شیخ رشید

پاکستان کے وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ پاکستان نے افغانستان سے نکلنے کے خواہش مند تمام غیر ملکی سفارت کاروں کی مدد جاری رکھی ہوئی ہے اور ان کو ٹرانسٹ ویزا سروسز فراہم کر رہا ہے۔

 

اسلام آباد میں بدھ کو ایک پریس کانفرنس میں انہوں نے کہا پاکستان کے چمن اور طورخم بارڈر پرامن ہیں اور بھارت اس حوالے سے منفی پراپیگینڈا پھیلا رہا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ امیگریشن ادارے اور ایف آئی اے سرحد پر کام کر رہے ہیں اور ملک میں آنے اور جانے والوں کا ریکارڈ رکھا ہوا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اب تک کوئی افغان پناہ گزین پاکستان نہیں آئے۔

ان کے بقول پاکستان غیر ملکی سفارت کاروں، اداروں میں کام کرنے والوں، صحافیوں کو ویزا آن ارائول کی سہولت دے رہا ہے اور 14 اگست سے اب تک نو سو سفارت کار افغانستان سے پاکستان آ چکے ہیں جہاں سے وہ اپنے اپنے ملک واپس جائیں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اب تک 613 پاکستانیوں کو بھی ملک واپس لایا جا چکا ہے۔

شیخ رشید نے کہا کہ وزیر اعظم فیصلہ کریں گے افغانستان میں طالبان کی حکومت کو تسلیم کریں یا نہ کریں۔

ان کے بقول ازبکستان میں ایک اجلاس میں وزیر اعظم نے افغان صدر اشرف غنی کو سمجھانے کی کوشش کی تھی مگر انہوں نے نہیں سنی۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان نے طالبان اور امریکہ کو مذاکرات کے میز پر لانے کے لیے کلیدی کردار ادا کیا۔ پاکستان افغانستان میں امن اور استحکام چاہتا ہے جو افغانستان کے ساتھ ساتھ اس کے لیے بھی اہم ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی سرزمین سے کسی ملک میں مداخلت نہیں ہوگی اور کسی اور ملک سے پاکستان میں مداخلت کرنے نہیں دی جائے گی۔


تین ہزار سے زائد امریکی افغانستان سے نکال لیے گئے

امریکہ نے کہا ہے کہ طالبان نے یقین دہانی کروائی ہے کہ کابل ایئرپورٹ تک سفر کرنے والے شہریوں کو ان سے کوئی خطرہ نہیں۔

وائٹ ہاؤس کے ایک اہلکار نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ اب تک 32 سو شہریوں کو ملک سے نکال لیا گیا ہ۔ 11 سو صرف منگل کو گئے جن میں امریکی شہری، مستقل رہائشی اور ان کے خاندان شامل تھے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس سے قبل منگل کو وائٹ ہاؤس نے کہا تھا کہ افغانستان میں سفارت کاروں اور کنٹریکٹرز سمیت 11 ہزار امریکی شہری ہیں جو طالبان کے قبضے کے بعد ملک سے نکالنے جانے سے منتظر ہیں۔

امریکی اہلکاروں کا کہنا ہے کہ وہ طالبان کمانڈروں سے رابطے میں ہیں تاکہ اس بات کی یقین دہائی کی جائے کہ حامد کرزئی انٹرنیشنل ائیرپورٹ حملوں سے محفوظ رہے اور ملک چھوڑنے والے غیرملکیوں اور افغانوں کے لیے راستہ محفوظ ہو۔

پینٹاگون میں میجر جنرل ہینک ٹیلر نے کہا: ’ہمیں طالبان سے کوئی دھمکی یہ حملے کا سامنا نہیں ہوا ہے۔


بڑی تعداد میں دفاعی سامان طالبان کے ہاتھ لگ گیا ہے: امریکہ

امریکہ نے تسلیم کیا ہے کہ طالبان نے امریکی افواج کے ساتھ دو دہائیوں تک جاری رہنے والی جنگ کے خاتمے پر افغانستان کا کنٹرول سنبھالنے کے بعد بڑی تعداد میں امریکی فوجی سازوسامان پر قبضہ کر لیا ہے۔

افغانستان سے آنے والی تصویروں اور ویڈیوز میں طالبان کے پاس امریکی فوج کے زیر استعمال اسلحہ اور گاڑیاں دکھائی دے رہی ہیں جنہیں پینٹاگون نے افغان نیشنل سکیورٹی فورسز کو فراہم کیا تھا۔ اس کے علاوہ  قندھار ایئرپورٹ پر جدید ترین UH-60 بلیک ہاک ہیلی کاپٹر اور دیگر دفاعی ساز و سامان بھی طالبان کے قبضے میں جا چکا ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق امریکہ کے قومی سلامتی کے مشیر جیک سلیون نے ایک پریس بریفنگ میں کہا کہ ’ظاہر ہے ہمارے پاس اس حوالے سے مکمل معلومات نہیں ہیں کہ امریکی دفاعی ساز و سامان کا ہر ایک آرٹیکل کہاں گیا۔ مگر اس کا کافی حصہ طالبان کے ہاتھ لگ چکا ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ ’یقینی طور پر ہمیں یہ نہیں لگتا کہ وہ (طالبان) اسے آسانی سے ہمارے حوالے کریں گے۔‘

سلیون نے کہا کہ ’دشمن کے ہاتھوں کروڑوں ڈالر مالیت کی فوجی سپلائی کا کنٹرول کھونا 20 سالہ جنگ کے خاتمے کے تناظر میں صدر کے مشکل انتخابات کی ایک مثال ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ بلیک ہاکس ہیلی کاپٹرز افغان سرکاری افواج کو فراہم کیے گئے تھے تاکہ طالبان شورش کا مقابلہ کر سکیں لیکن حکومتی افواج تیزی سے طالبان کے سامنے ڈھیر ہو گئیں اور شکست خوردہ فوج نے ہتھیاروں کے بڑے ذخیروں اور ان کے ہیلی کاپٹروں کا کنٹرول بھی کھو دیا۔


مجھے اپنی افغان بہنوں کے لیے خوف محسوس ہو رہا ہے: ملالہ

پاکستان کی نوبل انعام یافتہ کارکن ملالہ یوسفزئی نے طالبان کے ہاتھوں سقوط کابل کے بعد امریکی اخبار ’دا نیو یارک ٹائمز‘ میں شائع ہونے والے ایک مضمون میں لکھا کہ ’مجھے اپنی افغان بہنوں کے لیے خوف محسوس ہو رہا ہے۔‘

24 سالہ ملالہ نے لکھا: ’ہمارے پاس اس بات پر بحث کرنے کا وقت ہوگا کہ افغانستان کی جنگ میں کیا غلطیاں ہوئیں لیکن اس نازک لمحے میں ہمیں افغان خواتین اور لڑکیوں کی آوازیں سننی چاہئیں۔ وہ اپنے تحفظ، تعلیم، آزادی اور مستقبل کے لیے ان سے کیے گئے وعدووں کے بارے میں جاننا چاہتی ہیں۔ ہم انہیں ناکام ہوتا نہیں دیکھ سکتے۔ ہمارے پاس وقت نہیں ہے۔‘

طالبان کی جانب سے پورے ملک پر حالیہ قبضے نے نئے جبر کے خدشات کو جنم دیا ہے خاص طور پر خواتین اور لڑکیوں کے لیے۔

ان کا مزید کہنا تھا: ’افغان لڑکیاں اور نوجوان خواتین ایک بار پھر میرے ماضی کی طرح مایوس ہو کر یہ سوچنے پر مجبور ہوں کہ شاید انہیں کبھی بھی کلاس روم دیکھنے یا دوبارہ کتاب رکھنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔‘

منگل کو طالبان ترجمان نے اشارہ دیا تھا کہ ماضی کے برعکس عسکریت پسند افغان خواتین کے لیے مکمل برقعہ لازمی قرار نہیں دیں گے اور انہیں تعلیم حاصل کرنے کا حق دیا جائے گا۔

سہیل شاہین نے کہا کہ خواتین پرائمری سے لے کر یونیورسٹی تک اعلیٰ تعلیم حاصل کر سکتی ہیں۔ ’ہم نے اس پالیسی کا اعلان بین الاقوامی کانفرنسوں، ماسکو کانفرنس اور دوحہ کانفرنس میں بھی کیا ہے۔‘

لیکن ملالہ یوسفزئی نے طالبان کی ان یقین دہانیوں پر شکوک کا اظہار کرتے ہوئے لکھا: ’طالبان کی جانب سے (ماضی میں) خواتین کے حقوق کو پر تشدد طریقوں سے دبانے کی تاریخ کو دیکھتے ہوئے افغان خواتین کا خوف حقیقی دکھائی دیتا ہے۔‘

ان کے بقول: ’ہم پہلے ہی خواتین طالبات کو ان کی یونیورسٹیاں اور خواتین کارکنوں کو ان کے دفاتر چھوڑنے کی خبریں سن رہے ہیں۔‘


طالبان یقین دہانی کروائیں کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف نہیں استعمال کی جائے گی: صدر پاکستان

پاکستان کے صدر ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ پاکستان افغان طالبان سے امریکہ اور چین سے کیے گئے وعدوؤں کی طرح افغان سرزمین کو دہشت گردی کے لیے استعمال کی اجازت نہ دینے کی یقین دہانی چاہتا ہے۔

سرکاری خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان کے مطابق ترک نیوز چینل کو دیے گئے ایک انٹرویو کے دوران  صدرِ پاکستان نے کہا: ’ہم چین اور امریکہ کو کرائی گئی یقین دہانیوں کا خیر مقدم کرتے ہیں جن میں طالبان نے افغان سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال کی اجازت نہ دینے کا عہد کیا ہے۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ انہیں امید ہے کہ افغان طالبان پاکستان کے ساتھ بھی ایسا ہی رویہ اپنائیں گے۔

 

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا